ماں بیٹے کی ملاقات اور قبر

(Mujtaba Ahmed, )

یہ تو دنیا کا نظام ہے جس نے اس دنیا میں آنا ہے اُسے ایک دن سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اپنے خدا کی طرف جانا ہے گوجرانوالہ سے فاروق آباد جب کبھی بھی قبرستان جانا ہوتا تو آپ کی عیادت کرنا لازمی شامل ہوتا آپ کا ملنے کا منفرد انداز لگن پیار محبت خود ہی آپ کے پاس آنے پہ مجبور کر دیتی جب ملنا تو کہنا کہ بیٹا ملتے رہا کرو ملنے سے پیار محبت اور احساس کے جذبات بڑھ جاتے ہیں۔ تم یہاں پہ زبردستی لے آیا کرو سب کو مل کے ضرور جایا کرو اور کہنا کہ بیٹا خاص طور پر میرے چلنے کے لیے دُعا کیا کرو میں اکثر سوچتی رہتی ہوں کہ میں کب صحت یاب ہوں گی میرا بہت دل کرتا ہے کہ میں لوگوں سے ملاقاتیں وغیرہ کروں گھر سے باہر آیا جایا کروں گھر میں اب دل نہیں لگتا بیٹا میں نے چالیس سال سکول میں نوکری کی ہے لیکن ان چالیس سالوں میں ایک دن بھی لیٹ نہیں پہنچی ہمیشہ وقت پر پہچتی ہوں اور سب کو تلقین بھی یہی کرتی رہی ہوں کہ وقت کی پابندی کرو یہ ملاقات پھوپھی اختری سے آخری مُلاقات ثابت ہوئی اس آخری ملاقات میں بھی اُنہوں نے کافی زیادہ مہمان نوازی کی اور جاتے ہوۓ کہا کہ بڑی خوشی ہوتی ہے جب تم ملنے آتے ہو پروردگار تمھارے نصیب اچھے کرے جلدی سے شادی کروا لو میں تمھاری شادی میں شرک ضرورکروں گی تب مجھے کیا خبر تھی کہ اب کبھی بھی پھوپھی کے پاس بیٹھ کر باتیں نہیں ہوا کریں گی
اس کے بعد جب پتہ چلا کہ اُن کی طبیعت نا ساز ہے تو جانے کے باوجود بھی اُن سے بات چیت نہ ہو سکی لیکن فون پہ آخری دس سے پندرہ سکینڈ بات ضرور ہو گئی یہ بات چیت آخری ثابت ہوئی اس کے بعد کیا تھا آخری دیدار کرنے گوجرانوالہ سے فاروق آباد پہنچ گئے شکل دیکھی چہرے پر کافی زیادہ نور تھا لیکن بیماری کی وجہ سے کمزور ہو چکیں تھیں تھوڑی ہی دیر میں جنازے کا ٹائم ہو گیا میں نے اپنی زندگی میں ایسا نمازِ جنازہ نہیں دیکھا جس میں ذکرواذکار حد سے زیادہ ہوا ہو گھر سے لیکر جنازہ گاہ تک جنازہ گاہ سے لیکر قبرستان میں دفنانے کے عمل تک ذکر جاری رہا خاص طور پردارالاحسان سمندری سے تاجدارِ دار الاحسان حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ کے پیر بھائیوں کے علاوہ علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جو یاحی یا قیوم سیدنا کَرِیمُٗ صلی اﷲ علیہ وسلم کے علاوہ دیگرذکرواذکار کرتے رہے

قبر میں دفناتے وقت ٹھنڈی خُشبو دار ہوا چل پڑی جس سے اس اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے رَب کے بہت قریب ہیں میری نظر میں آپ کا شمار رَب کی اُن نیک لوگوں میں ہوتا ہے جن کا جنازہ پڑھنے سے ہی انسان کے تمام تر گناہ معاف کردیے جاتے ہیں پروردگار آپ کے گناہوں کو معاف فرماۓ اور آپ کی اگلی اور مستقل منزل کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے
(آمین)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 408 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mujtaba Ahmed
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: