کورونا ، ٹڈی دَل اور ریاض فتیانہ صاحب کی تجویز

(Syed Muhammad Mehdi Ali, Sialkot)
کورونا اور ٹڈی دل کے مسئلے پر پارلیمینٹ میں ریاض فتیانہ صاحب کی دی گئی تجویز پر ایک آرٹیکل

اس وقت پاکستان کورونا اور ٹڈی دَل کے مسائل سے دوچار ہے۔ ان دونوں مسئلوں کے حل کے لیے حکومت کوشاں ہے۔ چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لہٰذا ٹڈی دل کا مسئلہ ہمارے ملک کے لیے بہت سنگین اور حل طلب ہے۔ اس سلسلے میں آج کے ہونے والے پارلیمینٹ کے اجلاس میں پاکستان تحریکِ اِنصاف کے ریاض فتیانہ نے ایک تجویز پیش کی جس کے مطابق اگر پاکستانی عوام ٹڈیاں کھانے لگ جاۓ تو ان میں کورونا سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز پیدا ہو جائیں گی جو کہ نا صرف پاکستان کو کورونا کے مسئلے سے نجات دلائیں گی بلکہ ٹڈی دل کی مصیبت سے بھی چھٹکارا مل جاۓ گا۔

بقول ریاض فتیانہ صاحب کے:

“ اگر حکومتِ پاکستان یہ ریسرچ کروالے کے ٹڈی دل کھانے سے عوام میں کورونا سے لڑنے کی قوتِ مدافعت پیدا ہو جاۓ گی تو عوام خود ہی ٹڈی دل کے مسئلے کو خاتمہ کر سکتی ہے۔ “

ٹڈی دل کے مسئلے کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے مختلف حکومتوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس سے نپٹنے کے لیے کوئی چارہ جوئی کر لیں کیونکہ ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ایران سے مشرقی افریقہ کا رُخ کر چکا ہے۔ پاکستانی حکومت نے بھی اس سلسلے میں حفظِ ما تقدم کے طور پر کچھ اقدامات کیے ہیں اور کسانوں کو حکومت کی طرف سے مدد دیے جانے کا کہا ہے۔ حکومت نے کسانوں کو ٹڈیاں مار کر انہیں پولٹری فارموں میں 15 روپے فی کلو کے حساب سے بیچنے کی تجویز دی ہے تاکہ پولٹری فارم والے ٹڈیوں کو مرغیوں کے کیے بطور خوراک استعمال کر سکیں۔

دوسری جانب کورونا کا مسئلہ بھی نہایت سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک عداد و شمار کے مطابق آج کی تاریخ میں قریباً ایک لاکھ 86 ہزار افراد اس وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جن میں سے قریباً 77,754 افراد اس بیماری کو شکست سے چکے ہیں جبکہ 3,755 لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ریاض فتیانہ صاحب کی تجویز پر سوشل میڈیا پر ایک طرف لوگ ہنس رہے ہیں تو دوسرے طرف لوگ حیرت کا اظہار کر ہے ہیں۔ خیر یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کورونا سے نپٹنے لے لیے اس طرح کی عجیب تجویز دی گئ ہو۔ اس سے پہلے مولانا فضل الرحمان نے بھی ایک تجویز پیش کی تھی کہ جس کے مطابق کورونا کا شکار ہونے والے افراد کو زیادہ سے زیادہ سونا چاہیے کیونکہ اُن کے مطابق اِس سے ان افراد میں موجود کورونا بھی سویا رہے گا اور ان کو کم سے کم نقصان پہنچاۓ گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 155 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Muhammad Mehdi Ali

Read More Articles by Syed Muhammad Mehdi Ali: 2 Articles with 824 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: