مشغولیت سے پہلے فرصت کی غنیمت

(Maqbool Ahmed, Saudi Arab)

اﷲ تعالی نے ہمیں بہت ساری نعمتوں میں وقت کی نعمت سے بھی نوازا جس پر زندگی کا دارومدار ہے ۔ انسان کی زندگی سے وقت ختم ہوتے ہی وہ دنیا سے اٹھ جاتا ہے اور ایسی دنیا کی طرف کوچ کرجاتا ہے جہاں سے پھر لوٹ کر آنا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی مختصرزندگی دراصل آخرت کی تیاری کا ایک موقع ہے ۔ قابل مبارک باد ہے وہ شخص جو دنیا میں نیکی کے کاموں میں لگارہتا ہے اور آخرت سنوارتارہتا ہے ، افسوس ہے اس شخص کے لئے جو وقت کی اہمیت نہیں سمجھتا ، زندگی کا مقصد نہیں پورا کرتا اور گناہ کے کاموں میں لگا رہتا ہے اور اپنی آخرت برباد کرتا رہتا ہے ۔

ایک مسلمان کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ انسانی تخلیق کا مقصد رب کی بندگی ہے اس لئے لامحالہ اسے دنیا کے کام کاج سے وقت نکال کر رب کی بندگی بجائے اور حتی الوسع بھلائی کا کام کرتا رہے ۔حیرت ہے ان لوگوں پر جنہیں عبادت کے لئے فرصت نہیں ملتی ، اور اس سے زیادہ حیرت ان مسلمانوں پر ہے جو لوگوں میں برملااظہار کرتے ہیں کہ دنیاوی کام کاج میں اس قدر مشغول ہوں کہ عبادت کرنے ، علم سیکھنے ، دینی کام کرنے اور نیکی میں حصہ لینے کی فرصت نہیں ملتی ۔ ایسے لوگوں کی خدمت میں ایک ہی بات عرض ہے کہ جب تمہیں اﷲ کسی مصیبت کا شکار بنادے گا، جب تجھے اپاہج بنادے گا، جب تمہیں بیماری میں مبتلا کردے گا اور جب چلنے پھرنے کی طاقت ختم کردے گا پھر تمہارے پاس وقت ہی وقت ہوگا، اس وقت یہ بہانہ نہیں بنائے گا کہ کام کاج سے فرصت نہیں ہے ۔ یاد رکھیں کہ جوانی ، صحت ، مالداری ، فرصت اور زندگی کی بڑی اہمیت ہے چنانچہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
اغْتَنِمْ خَمْسًا قبلَ خَمْسٍ : شَبابَکَ قبلَ ہِرَمِکَ ، وصِحَّتَکَ قبلَ سَقَمِکَ ، وغِناکَ قبلَ فَقْرِکَ ، وفَرَاغَکَ قبلَ شُغْلِکَ ، وحَیاتَکَ قبلَ مَوْتِکَ(صحیح الترغیب:3355)
ترجمہ:پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔
اس حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے پانچ نصیحتوں میں ایک نصیحت یہ فرمائی کہ مشغولیت سے پہلے فراغت کو غنیمت جانو۔ اس کی مثال لاک ڈاون سے لے سکتے ہیں کہ اس وقت اکثر لوگوں کے پاس کام نہیں ہے ، یہ بہت ہی عمدہ فرصت ہے ۔ ایسی فرصت کو کیا زیادہ سوکر، گیم کھیل کریا لایعنی کاموں میں صرف کرنا چاہئے ۔ نہیں ۔ اسے غنیمت جان کراپنے اور دوسروں کے فائدہ کا کام کرنا چاہئے ۔ اپنے فائدے کا کام علم اور بھلائی کا کام کرنا ، فرائض کے علاوہ نوافل پر کثرت اجتہاد کرنااور توبہ واستغفار کرنا وغیرہ اور دوسروں کا فائدہ دین سکھانا، عمل کی ترغیب دینا اور حسب استطاعت کمزوروں کی مدد کرنا ہے ۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ اﷲ کے یہاں یہ عذر مقبول نہیں ہوگا کہ تجارت ومعیشت سے فرصت نہیں ملتی اس لئے عبادت نہیں کرپاتا ہوں ، عبادت تو زندگی کا نصب العین ہے اس کے لئے ہرحال میں وقت نکالنا ہے جیسے دنیاوی کام اورضرورت کے لئے وقت نکالتے ہیں ۔ ہم میں جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو ہاسپیٹل جانے ، علاج کرنے ، آرام لینے اور اسی طرح کھانے پینے اور سونے کے لئے کیسے وقت نکالتا ہے ؟ جب دنیا کے لئے ہم وقت نکال سکتے ہیں تو دین کے لئے بھی ضروری وقت نکال سکتے ہیں اور یہ اہم ترین ذمہ داری ہے ۔

یہ ہمارے اوپر منحصر ہے کہ دنیاوی کام اورعبادت میں کیسے توازن قائم کریں تاکہ نہ دین ہاتھ سے جائے اور نہ ہی معیشت وتجارت سے محروم ہوں ۔ عبادت کے لئے بہرحال وقت نکالنا ہے ورنہ دونوں جہان میں اﷲ کے عتاب کے شکار ہوں گے ۔ دنیا میں اﷲ اس قدر مشغول کردے گاکہ عبادت کی مہلت درکنار اس کا تصور بھی ذہن سے محو ہوجائے، اس کا دل کبھی نیکی کی طرف راغب نہ ہوگا اور آخرت میں بربادی الگ سے ملے گی ۔ حدیث قدسی میں ہے :
یقولُ اللَّہُ سبحانَہ یا ابنَ آدمَ تفرَّغْ لعبادتی أملأْ صدرَک غِنًی وأسدَّ فقرَک وإن لَم تفعَلْ ملأتُ صدرَک شُغلًا ولم أسدَّ فَقرَکَ(صحیح ابن ماجہ:3331)
ترجمہ: اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔

آنکھیں کھولنے اور بصیرت حاصل کرنے کے لئے یہ حدیث کافی ہے ۔ اس کے ذریعہ ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ عبادت اور اعمال صالحہ کو دنیاپر ترجیح دینے ہوں گے اور عبادت جو مقصد تخلیق ہے اس کے لئے خود کو فارغ کرنا پڑے گا۔ جو ایسا نہیں کرے گا اس کا نقصان بھی یہاں پر بتادیا گیا ہے کہ پھر اﷲ تعالی ایسے لوگوں کو دنیا میں مزید الجھاکر بے پناہ مشغول کردے گا اور مال کی برکت سلب کرکے محتاجگی کے ایسے احساس میں مبتلا کردے گا کہ دولت ہوتے ہوئے ہمیشہ دولت کی کمی اور بھوک محسوس ہوگی ۔ اﷲ ہم میں سے کسی کے ساتھ ایسا نہ کرے ۔

قرآن میں بھی اﷲ نے نصیحت فرمائی ہے کہ اولاد اور مال کی محبت کہیں تمہیں اﷲ کے ذکرسے غافل نہ کرے ، اگر ایسا ہوا تو تمہارا بہت نقصان ہوگا۔ فرمان الہی ہے :
أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُلْہِکُمْ أَمْوَالُکُمْ وَلَا أَوْلَادُکُمْ عَن ذِکْرِ اللَّہِ Ú وَمَن یَفْعَلْ ذَٰلِکَ فَأُولَٰئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ (المنافقون:9)
اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اﷲ کے ذکر سے غافل نہ کردیں ، اور جو ایسا کریں وہ بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں۔

ان باتوں سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اﷲ کی عبادت کے لئیہرکسی کو ہرحال میں وقت نکالنا ہوگا خواہ وہ کتنا بھی مصروف اور منہمک آدمی کیوں نہ ہو۔ ایسا کرنے سے رب کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے اور زندگی کا مقصد پورا ہوتا ہے اور جو دنیاوی مشغولیت کو ہی ترجیح دیتا ہے ، اپنی مصروفیات میں سے عبادت کے لئے خود کو فارغ نہیں کرتا ہے ایسے لوگ اﷲ کے نافرمان ہیں ، انہیں اس نافرمانی کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی ۔

دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ رب کی بندگی کے علاوہ کسی کو فرصت کے اوقات نصیب ہوں تو ان کو غنیمت جان کر فائدہ اٹھانا چاہئے جیساکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ باتوں کے ضمن میں اس بات کی بھی نصیحت فرمائی ہے ۔

پہلی بات سے متعلق لوگوں میں عبادت کے تئیں بیحد غفلت ہے اور یہ بہانہ زبان زدخاص وعام ہے کہ عبادت کے لئے یا دین کے لئے وقت نہیں ملتا ہے ۔ اس پہ ہمیں غور کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ ایساکہنا اور لوگوں کا دنیاوی مشغولیت کی وجہ سے عبادت ترک کرنا ٹھیک ہے ؟ ٹھیک تو بالکل نہیں ہے اس لئے ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے اور علماء کی بھی ذمہ داری ہے کہ لوگوں میں موجود اس غفلت کی اصلاح کے لئے کوشش کریں ۔

دوسری بات سے متعلق بھی لوگوں میں غفلت دیکھنے کو ملتی ہے کہ فرصت ملنے پر عوام تو عوام پڑھے لکھے لوگ بھی نہ صرف لہوولعب اور لایعنی کاموں میں اوقات ضائع کرتے ہیں بلکہ اکثر معصیت کے کاموں میں سکون تلاش کرتے ہیں مثلا فلم بینی اورسوشل میڈیا کا منفی استعمال وغیرہ

یہاں ایک بات قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ ہم لوگ معمولی فرصت کو بالکل ہی اہمیت نہیں دیتے اور جس سماج میں فرصت کا مطلب ہی نہ ہو وہاں چندساعت کی فرصت کیا معنی رکھے گی ۔ حقیقت میں چند ساعت بلکہ چند منٹوں کی فرصت بھی مومن کی زندگی میں بڑی وقعت رکھتی ہے ۔ فرصت کی مقدار اور صلاحیت کے اعتبار سے فائدہ اٹھانا قوم مسلم کی پہچان ہونی چاہئے ۔ چند منٹ کی فرصت میں کوئی شخص تلاوت ، کوئی اذکار، کوئی دعا، کوئی صدقہ، کوئی ایک آیت یا ایک حدیث کی تعلیم ،کوئی پڑوسی کی زیارت اورکوئی معمولی نیکی انجام دے سکتا ہے ، یہ فرد کی صلاحیت ورغبت پر منحصر ہے ۔ اس ضمن میں ایک پیاری سی حدیث رسول پر غور کرتے ہیں اور لمحات بھر کی فرصت اور ان سے استفادہ کی صورت پر نظر ڈالتے ہیں ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنْ قامَتِ السَّاعۃُ وفی یدِ أحدِکُم فَسیلۃً فإنِ استَطاعَ أن لا تَقومَ حتَّی یغرِسَہا فلْیغرِسْہا(صحیح الأدب المفرد:371)
ترجمہ:اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہو اور اگر وہ اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے اسے لگا لے گا تو اسے ضرور لگانا چاہئے۔

اس حدیث میں معمولی فرصت کی اہمیت بتاکراس میں اعمال صالحہ انجام دینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اگر کسی کو معمولی فرصت بھی مل جائے اور اس میں ذرہ برابربھی نیک کام کرنے کی مہلت میسر ہو تو بلاتاخیر نیکی کرجائے ۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ قیام قیامت سے چند لمحہ قبل عمل صالح کی انجام دہی کی ترغیب سے آج اور ان دنوں اعمال خیر کی کس قدر ترغیب ملنی چاہئے ؟

اﷲ تعالی ہمیں اپنی عبادت کے لئے متفرغ بنائے اور فرصت کی معمولی مقدار سے بھی دینی فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے ۔ آمین


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 95 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqbool Ahmed

Read More Articles by Maqbool Ahmed: 292 Articles with 144095 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: