اب جو ایک حسرتِ جوانی ہے

(Roshan Khattak, Peshawar)

 عمر گزرتے دیر نہیں لگتی ،پتہ ہی نہیں چلا ، اور میری زندگی کی ستّر بہاریں گزر گئیں۔زندگی کے اس سفر میں خیالات ہر پل ایک نئے انداز سے سامنے آتے رہے۔بچپن کا زمانہ تھا یا جوانی کی جولانیاں، ہر لمحہ نئی حقیقتوں اور سچائیوں سے روشناس کرتے ہوئے گزر گیا ۔اب میں نواسوں، نواسیوں والا مرد ہوں۔مگر سچی بات یہ یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو بوڑھا نہیں سمجھتا ۔زندگی خیالات سے بنتی ہے اور میرے خیالات بوڑھوں والے ہر گز نہیں ۔لیکن میری تمام اہل و عیال مجھے بڑھاپے کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی۔ کہیں ،کسی وقت مٹھائی کا ڈبّہ گھر آجائے اور رس گلہ کھانے کے لئے میرے منہ میں پانی بھر آئے تو آدھا رس گلہ ابھی منہ میں ڈالا نہیں کہ میرا چھوٹا بیٹا ذیشان میرے ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے ’’نا ،با با نا! میٹھا مت کھاؤ ! آپ کے لئے میٹھا کھانا تو عزرائیل کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ میں صرف پینسٹھ سال کا ہی تھا اور پشاور ہی میں ایک نجی کالج میں پڑھاتا تھا کہ ایک روز میرے ایک بیٹے نے میرے زانو پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ابا جی !آپ نے جو محنت مشّقت کرنی تھی‘کر لی ۔اب آپ ہمیں خدمت کا موقعہ دیں ، آپ گھر بیٹھ کر آرام کریں اور اﷲ اﷲ کریں ۔میں نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ بیٹا ! ابھی تو میں جوان ہوں ،گھر بیٹھ کر کیا کروں گا، فارغ بیٹھنا بیماری کو دعوت دینا ہی تو ہے مگر ان کی ضد تھی اور بیٹے کی ضد کے سامنے میں ٹہر نہ سکا اور ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ مگر اﷲ تعالیٰ مجھ پر ہمیشہ مہربان رہا،پرانے دوست تو تھے ہی مگرملازمت چھوڑنے کے بعد جسٹس شاہ جی رحمن کے وساطت سے ایسے نئے دوست بھی ملے کہ کبھی تنہائی کا احسا س تک نہ ہوا۔

میرے بچے ، بہوبیٹیاں میرا بہت خیال رکھتے ہیں ، خدمت گزاری میں پیش پیش رہتے ہیں ۔لیکن مجھے میرے خیال کے مطابق جینے نہیں دیتے۔دراصل وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ ان کا اس طرح میرا خیال رکھنا میرے اندر عجیب سا مزاحمت پیدا کر رہا ہوتا ہے۔میری بیٹی جب اپنے بچوں سمیت گھر آتی ہے تو گھر کے رونق میں اضافہ ہو جاتا ہے مگر جب وہ مجھے کہتی ہے کہ با با ! خیال کرنا ، فرش پر لگے ٹائیلز پر چلتے ہوئے گِر نہ جانا تو میں چپکے چپکے اپنے آپ سے پو چھتا ہوں ’’کیا میں بوڑھا ہو گیا ہوں ؟ اندر سے جواب کے لئے میں’نہیں ‘‘کا بٹن دبا دیتا ہوں۔ ‘‘ میں نے اپنی پوری زندگی اپنی بیوی مہر النساء ( فرضی نام ) اور بچوں کے ساتھ نہایت وفاداری اور اخلاص کے ساتھ گزاری ہے ۔ بچوں کے مستقبل سنوارنے اور بیوی کے سکھ چین کے لئے اپنی جوانی وقف کر دی تھی ۔اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں انہیں ایک اچھا لائف سٹائل دینے میں کامیاب بھی ہوا ۔اب اﷲ کا دیا ہوا سب کچھ ہے ۔لیکن میرے دل کے احساسات میری عمر کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ۔دل کہتا ہے کہ میں اپنی مہر انساء کا ہاتھ پکڑے مری کے مال روڈ پر گھوموں، پھروں۔ناران میں دریائے کنہار کے کنارے ٹھنڈی ٹھنڈی ہواوئں سے پنگا لوں ۔مہر النساء کے کلائیوں میں سرخ و سبز رنگ کے چوڑیوں کے کھنک اور بہتے آبشاروں کے شور سے ملی جلی موسیقی سے لطف اندوز ہوں۔ لیکن مہر النساء تو رنگ برنگے چوڑیاں پہنتی ہے نہ تیز و شوخ رنگ کے کپڑے۔‘ پچھلی عید پر یونیورسٹی روڈ پر ایک دکان میں چوڑیاں اور سوٹ پسند آیا تو خرید کر گھر لایا کہ مہر النساء خوش ہو جائیگی مگر وہ تو اس سوٹ اور چوڑیوں کو دیکھ کر شرماتے ہوئے کہنے لگی ’’ پہ دے عمر کے بہ دہ اغوندم ، منڑا سہ شرماول کوے ‘‘ یعنی کیا اس عمر میں اس طرح کا سوٹ اور چوڑیاں پہنوں گی؟ کیوں شرمندہ کر رہی ہو ؟ ‘‘ اس عمر میں بیویاں ہوتی ہی ایسی ہیں ، اندر سے شکرگزار مگر اوپر سے ہر بات پر تنقید ۔ آج کل کرونا سے چونکہ ہم گھر میں دبکے بیٹھے ہیں تو وقت گزاری کے لئے کبھی کتاب ہاتھ میں لیتے ہیں تو کبھی موبائل لے کر فیس بک کھول لیتے ہیں ۔ کرن میری فیس بک فرینڈ ہے، ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی ہیں ۔چالیس سال کی ہو گئی ہیں مگر ابھی تک شادی نہیں کی ،میں نے سوٹ اور چوڑیوں والی بات انہیں بتائی تو ہنس کر کہنے لگی ’’ہم تو ہمیشہ ایسے تحفہ کے منتظر رہے ،اگلی بار ہمیں تحفہ بھیجو ا دیجئے، واﷲ ! انکار نہیں کریں گے ‘‘ میں جب بھی اسے شادی کرنے کا مشورہ دیتا ہوں تو وہ فورا کہتی ہے ’’خٹک صاحب !آپ جیسا کوئی ہو تو قسم سے سوچنے میں ایک منٹ نہیں لگاوئں گی ‘‘ ویسے یہ جو فیس بک کی دنیا ہے نا ، یہ ہمارے جیسے فارغ لوگوں کے لئے نماز،تلاوت اور کتب بینی کے بعد وقت گزاری کے لئے بڑی نعمت ہے ۔پرسوں رات تین بجے کی بات ہے ،مجھے نیند نہیں آرہی تھی ،میں نے فیس بک کھول لی اور مصروف ہو گیا ۔اچانک مہر النساء کی آنکھ کھلی ،مجھے موبائل پر ٹِک ٹِک کرتے دیکھ کر کہنے لگی ’’ اس وقت اور موبائل ؟ خیر تو ہے ؟ میں نے کہا ’’نیند نہیں آرہی ہے ! کہنے لگی ’’ نیند نہیں آرہی ہے تو تہجد پڑھو، نفل پڑھو ، اس لعنتی یعنی موبائل پر اپنا وقت کیوں ضائع کر رہے ہو۔ ،،اور مجھے میر تقی میر کا یہ شعر یاد آیا ، ’’ اب جو ایک حسرتِ جوانی ہے۔۔۔عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے ۔۔‘‘
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 169 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 260 Articles with 141830 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: