ہمارے سوا کوئی چوائس نہیں

(haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
ہمارے سوا کوئی چوائس نہیں
حسیب اعجازعاشرؔ
جس الیکشن منشور کے ساتھ تحریک انصاف برسراقتدار آئی تھی عوامی رائے میں دو سال گزرجانے کے باوجود حکومت اپنے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں کامیاب ہوتی نظرنہیں آرہی ہے ایک کے بعد ایک بحران اور ایک کے بعد ایک مافیا سراُٹھا رہا ہے پہلے کو چھوٹ ہے اگلے کو دھمکی اور یہ سلسلہ یونہی اپنی راہوں میں مگن ہے۔مشیروں کی تعداد بڑھائی گئی،اپنے وعدوں کے برعکس وزیروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا،ٹیکنوکریٹس سے مددحاصل کی گئی،کچھ باہر سے بُلائے گئے اور کچھ مقامی تجربہ کاروں سے استفادہ حاصل کیا گیا،حکومت نے سب تجربے کر کے دیکھ لئے مگر مثبت نتائج کے حصول میں حکومت کامیابی کے صفوں میں کھڑی نظر نہیں آرہی۔ساہیوال سانحہ میں متاثرین کیساتھ انصاف نہیں ہوا، مافیا کو عبرت کا نشان نہیں بنایاگیا، لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں ملنا تو درکنا ایک کروڑ بیس لاکھ مزید بے روزگار ہونے کی خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں، بے گھروں کو پچاس لاکھ گھر وں کا منصوبہ سردخانوں کی نظر ہوچکا۔ پٹرول،بجلی،گیس سمیت خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔چھوٹے کاروبار بندہوتے نظر آرہے ہیں،تاجر اور بڑے صنعت کار بھی ڈگمگاتے معاشی حالات کے پیش نظر سرپکڑے بیٹھے ہیں،ملک مسلسل قرضوں کی دلدل میں پھنستا چلا جارہاہے،کشمیرایشو پر بات ٹوئیٹر پیغامات سے آگے نہیں بڑھ رہی،سی پیک سست روی کا شکار ہے،بلوچستان میں دہشت گردی کے پھر سے سراُٹھانے کے خدشات کا اظہارہورہاہے۔کورونا سے نمٹنے کیلئے حکومت کی متزلزل پالیسیوں نے ادارہ صحت تحفظات کا اظہار کرچکا ہے،اسی طرح تمام قومی اور بین الاقوامی اداروں کی سروے رپورٹس حکومتی کارکردگی کی قلعی کھول رہے ہیں۔اِن سب کے باوجو د موجودہ حکومت پاکستان کی ۲۷سالہ تاریخ کی سب سے مضبوط ترین حکومت ہے اور اُسے پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے کمزورترین اپوزیشن کا سامنا ہے جو عوام کی آوازوں کو ایوانوں میں پہنچانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنے بیانات میں بے لگام بھی ہیں اور اپنی پالیسیاں بنانے اور اِس پر عملدرآمد کرانے میں بااختیاراور آزاد بھی۔
پہلی آڈٹ رپورٹ میں 270ارب کی بے ضابطگیوں کے انکشاف کے باوجود عمران خان کا کہنا ہے کہ میرے جانے کی خبروں بے بنیاد ہیں ہمارے سواکوئی چوائس نہیں۔۔بول بڑے ہیں مگر بے معنی نہیں،ایک بحث تو یہ ہے کہ عمران خان یہ بات کس کو سنائی؟ جو اس حوالے سے بحث و مباحثہ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے وہ کئی اعتبار اور کئی پہلو سے بے وقت کی راگنی ہے۔دوسری بحث یہ بھی ہے عمران خان کو یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تو ظاہر ی سی بات ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل اپنے جماعت کو اعتماد میں لینا بہت ضروری تھا کہ روز روز میرے جانے کی افواہوں میں کان نہ دھریں۔میں کہیں نہیں جارہا بلکہ پانچ سال ہی نہیں دس سال رہوں گا اور میں اِس ملک کے مسائل حل کروں گا ایسا ہی دس سال کی مدت کے حوالے سے کچھ ملتا جلتا بیان عمران خان کے قریبی ساتھی فیصل وڈا کی جانب سے بھی دو روز قبل دیا گیا ہے۔اب آتے ہیں ”میرے سوا کوئی چوائس نہیں“کی طرف،کہ اِس بات میں کتنی صداقت ہے۔تو یہ فقط عمران خان کی خام خیالی ہے۔ کیونکہ اِسی سوچ پر کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
اس سے پہلے جو یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی خدا ہونے کا اتنا ہی یقیں تھا
دور جمہوریت ہو یا دور آمریت تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ وقت کے حکمرانوں کا دعوی رہا کہ میرے جانے سے ہمالیہ روئے گا،یا میرے جانے سے ملک دیوالیہ ہو جائے گا وہ سب تخت نشین گوشہ نشین ہوگئے مگر پاکستان کل بھی قائم تھا اور آج بھی قائم ہے۔اور ویسے بھی چوائس او رآپشن کبھی ختم نہیں ہوتے یہ وقت اور حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔پہلی چوائس یہ ہے کہ سب کچھ لپیٹ کر نئے الیکشن کروا دیئے جائیں۔جو ووٹ لینے اور ووٹ دینے والوں دونوں کے لئے قابل قبول ہوں۔ تویہ اِسی صورت ممکن ہے جب حکومت میں شفاف الیکشن کرانے کی ہمت بھی ہو اور جرات بھی۔جس کے بارے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ دہلی دور است۔اگر ہاؤس میں تبدیلی کی بات کی جائے تو بھی خاطر خواہ نتائج نکلتے برآمد نہیں ہوتے،کیونکہ اول تو ملک معاشی،اقتصادی لحاظ سے جس نہج سے پہنچ چکا ہے کوئی بھی اِس کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہوئے ہچکچائے گااور دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نئی تبدیلی کمزور ترین ہوگی۔ یہ حکومت تو مافیا کے ہاتھوں استعمال ہوتی رہی تو اگلی حکومت پچھلی حکومت یعنی موجودہ کرتے دھرتوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ جائے گی بظاہری طور پر چہرہ نیا ہوگا مگر اصل دوڑیں پہلے سیٹ آپ کے ہاتھوں میں ہی ہوں گی بس دوسال کا کیا دھرا سب سیاہ سفید اپنے ماتھے میں لگانا پڑے گا۔ایسے میں نہیں لگتا ہے کہ اپوزیشن میں سے کوئی بھی سیاسی قیادت اتنا بڑا سیاسی خطرہ مول لے سکتی ہے۔ تو پھر تیسری صورت اگرتحریک انصاف کو میدان خالی چھوڑنے پر اپناکپتان بدلنے پر اکتفا کرنا پر جائے،تو یہاں سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف میں بیسٹ چوائس کیا ہوگی؟ تحریک انصاف کو عمران خان کی وجہ سے ووٹ ڈالنے والے اور تحریک انصاف میں شامل ہونے والے نئے سیاستدانوں کے لئے شاہ محمود قریشی،شیخ رشید،بابراعوان،فواد چوہدری،جیسے سیاستدان جن کی سیاسی وابستگیاں پہلے بھی کسی نہ کسی جماعت سے رہیں،کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور ایسی صورتحال میں تحریک انصاف میں اسد عمر کے سوا تحریک انصاف کے لئے دوسری کوئی آپشن یا چوائس نہیں۔ ویسے بھی گزشتہ چند ماہ میں اسد عمر نے اپنی کارکردگی سے جماعت میں اپنے اثرورسوخ کو بھی بڑھایا ہے اوراپنا وقاربھی بلند کیا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اسد عمر ڈپٹی وزیراعظم کے کردار کے طور پر بڑے فعال ہوچکے ہیں، لیکن یہ تبدیلی بھی اُسی صورت ممکن ہے جب کوئی دباؤ بڑ ھانے والا ہو، اپوزیشن تو ویسے ہی سارے ہتھیار پھینک کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔تو سمجھ لینا چاہیے کہ عمران خان صحیح کہہ رہے کہ ایسی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے عوام کے پاس ”ہمارے سوا کوئی چوائس نہیں“۔عمران خان کو اگر کوئی گھر بھیج سکتا ہے تو وہ عمران خان ہی ہے جب چاہیے رخصتی کا پروانہ عوام کے سامنے رکھ دے،یہاں گھر بھیجنے والے عمران خان سے مرادعمران خان کو لانے والے فیصلہ ساز ہیں چونکہ وہ سامنے نہیں اِس لئے تذکرہ بھی مناسب نہیں۔عوام کی تسلی کیلئے بس اتنا ہی کہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 136 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir

Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 109 Articles with 47662 views »
https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: