عمران عباس چدھڑ کا سی پی او گو ھر مشتاق کو انکی ٹرانسفر پر خراج تحسین

(Misbah Gull, Gujranwala)
کوئی آتا ہے کوئی جاتا ہے
ادارے کی روایت جاری ہے
افسران بدلتے رہتے ہیں
گھڑی یہ الوداع کی ہے
گویا بچھڑنا لازمی ٹھہرا
ہمیں اس طرح بچھڑنا ہے
کہ گویا کل بھی ملنا ہے

عمران عباس چدھڑ کا سی پی او گو ھر مشتاق کو انکی ٹرانسفر پر خراج تحسین
کوئی آتا ہے کوئی جاتا ہے
ادارے کی روایت جاری ہے
افسران بدلتے رہتے ہیں
گھڑی یہ الوداع کی ہے
گویا بچھڑنا لازمی ٹھہرا
ہمیں اس طرح بچھڑنا ہے
کہ گویا کل بھی ملنا ہے

آج الوداعی تقریب ہے سی پی او گوہر مشتاق بھٹہ صاحب کی ان کا آنا کچھ دن پہلے کی بات لگ رہی ہے کہ گوہر مشتاق صاحب جیسے ہونہار اور قابل آفیسر کا گوجرانوالہ میں آنا کسی نعمت سے کم نہیں تھا ٹرانسفر ڈیوٹی کا حصہ ہے مگر ان کا آنا اور اتنی جلدی جانا ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے آتے ہوئے اذان ہوئی جاتے ہوئے نماز لیکن اتنے کم ڈینور میں میں انہوں نے اپنے تمام متحد جوانوں کو ایک ماں کی طرح پالا دنیا میں سب سے اچھا رشتہ ماں اور اولاد کا ہے گوہر مشتاق صاحب نے اپنے جوانوں کے جذبوں کو ایسے تقویت دی جیسے ایک ماں اپنے بچوں کو کامیابی کی منازل طے کروانے کے لیے ان کے جذبوں کو بڑھاتی ہے گوہر مشتاق صاحب نے تمام ماتحت جوانوں کے جذبوں کو ماں کی طرح پروان چڑھایا جس طرح ماں اپنے بچوں کے لئے فکر مند ہوتی ہے

گوہر مشتاق صاحب نے اپنے ضلع کے تمام ماتحت جوانوں کے حوصلیکو نا صرف بلند کیا بلکہ اعلی ظرفی کے ذریعے بھی اپنی شخصیت کے گوہر کو صف اول میں رکھا اگر اعلی ظرفی کی بات کی جائے تو میں اپنی ایک بات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جہاں آغاز کے دنوں میں پورے ضلع م میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا تو انہی دنوں میں کرونا وائرس کا ایک مریض ہوسپیٹل سے بھاگ گیا اس سے پہلے یہ خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل جاتی اور تمام لوگ اور خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور گوہر مشتاق صاحب نے یہ ذمہ داری مجھے سونپی دو دن کی محنت کے بعد ہم نے یہ مریض ڈونڈ نکالا میں دو دن سویا نہیں تھا اس کے اگلے دن میری رات کی پیٹرولنگ تھی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے میرے اعصاب جواب دے چکے تھے اور ذہنی دبا بھی تھا اور اتنی ہمت نہ تھی کہ میں رات کی پیٹرولنگ کی ذمہ داری کو بھی احسن طریقے سے سر انجام دے سکوں میں بھی اسی سوچ میں گم تھا کہ فون پر بیل ہوئی اور سی پی او صاحب کا فون تھا گوہر مشتاق صاحب نے کہا کہ عمران شاباش تم نے اپنی ذمہ داری کو بڑے اچھے طریقے سے سرانجام دیا اور اس مریض کو پکڑ لیا اور شہر میں اور خوف و ہراس پھیلانے سے روک لیا اب موبائل بند کرو اور آرام کرو تم دو دن سے نہ دن کو سو سکے نہ رات کو آرام میسر آیا ان کی اس بات کو سن کر میری آنکھیں نم تھیں اور یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ انسانی ہمدردی اور اپنے ماتحتوں کا خیال رکھنے والے آفیسر گوہر مشتاق بھٹہ صاحب نے ایک ماں کی طرح میرے جذبات اور خیالات کو سمجھا ہے کیونکہ آج اگر میری ماں بھی زندہ ہوتی تو کبھی بھی میری ایسی حالت دیکھ کر مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہ دیتیگوہر مشتاق صاحب نے اپنے ضلع کے تمام ماتحت جوانوں کے حوصلیکو نا صرف بلند کیا بلکہ اعلی ظرفی کے ذریعے بھی اپنی شخصیت کے گوہر کو صف اول میں رکھا اگر اعلی ظرفی کی بات کی جائے تو میں اپنی ایک بات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جہاں آغاز کے دنوں میں پورے ضلع م میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا تو انہی دنوں میں کرونا وائرس کا ایک مریض ہوسپیٹل سے بھاگ گیا اس سے پہلے یہ خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل جاتی اور تمام لوگ اور خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور گوہر مشتاق صاحب نے یہ ذمہ داری مجھے سونپی دو دن کی محنت کے بعد ہم نے یہ مریض ڈونڈ نکالا میں دو دن سویا نہیں تھا اس کے اگلے دن میری رات کی پیٹرولنگ تھی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے میرے اعصاب جواب دے چکے تھے اور ذہنی دبا بھی تھا اور اتنی ہمت نہ تھی کہ میں رات کی پیٹرولنگ کی ذمہ داری کو بھی احسن طریقے سے سر انجام دے سکوں میں بھی اسی سوچ میں گم تھا کہ فون پر بیل ہوئی اور سی پی او صاحب کا فون تھا گوہر مشتاق صاحب نے کہا کہ عمران شاباش تم نے اپنی ذمہ داری کو بڑے اچھے طریقے سے سرانجام دیا اور اس مریض کو پکڑ لیا اور شہر میں اور خوف و ہراس پھیلانے سے روک لیا اب موبائل بند کرو اور آرام کرو تم دو دن سے نہ دن کو سو سکے نہ رات کو آرام میسر آیا ان کی اس بات کو سن کر میری آنکھیں نم تھیں اور یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ انسانی ہمدردی اور اپنے ماتحتوں کا خیال رکھنے والے آفیسر گوہر مشتاق بھٹہ صاحب نے ایک ماں کی طرح میرے جذبات اور خیالات کو سمجھا ہے کیونکہ آج اگر میری ماں بھی زندہ ہوتی تو کبھی بھی میری ایسی حالت دیکھ کر مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہ دیتیگوہر مشتاق صاحب نے اپنے ضلع کے تمام ماتحت جوانوں کے حوصلیکو نا صرف بلند کیا بلکہ اعلی ظرفی کے ذریعے بھی اپنی شخصیت کے گوہر کو صف اول میں رکھا اگر اعلی ظرفی کی بات کی جائے تو میں اپنی ایک بات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جہاں آغاز کے دنوں میں پورے ضلع م میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا تو انہی دنوں میں کرونا وائرس کا ایک مریض ہوسپیٹل سے بھاگ گیا اس سے پہلے یہ خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل جاتی اور تمام لوگ اور خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور گوہر مشتاق صاحب نے یہ ذمہ داری مجھے سونپی دو دن کی محنت کے بعد ہم نے یہ مریض ڈونڈ نکالا میں دو دن سویا نہیں تھا اس کے اگلے دن میری رات کی پیٹرولنگ تھی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے میرے اعصاب جواب دے چکے تھے اور ذہنی دبا بھی تھا اور اتنی ہمت نہ تھی کہ میں رات کی پیٹرولنگ کی ذمہ داری کو بھی احسن طریقے سے سر انجام دے سکوں میں بھی اسی سوچ میں گم تھا کہ فون پر بیل ہوئی اور سی پی او صاحب کا فون تھا گوہر مشتاق صاحب نے کہا کہ عمران شاباش تم نے اپنی ذمہ داری کو بڑے اچھے طریقے سے سرانجام دیا اور اس مریض کو پکڑ لیا اور شہر میں اور خوف و ہراس پھیلانے سے روک لیا اب موبائل بند کرو اور آرام کرو تم دو دن سے نہ دن کو سو سکے نہ رات کو آرام میسر آیا ان کی اس بات کو سن کر میری آنکھیں نم تھیں اور یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ انسانی ہمدردی اور اپنے ماتحتوں کا خیال رکھنے والے آفیسر گوہر مشتاق بھٹہ صاحب نے ایک ماں کی طرح میرے جذبات اور خیالات کو سمجھا ہے کیونکہ آج اگر میری ماں بھی زندہ ہوتی تو کبھی بھی میری ایسی حالت دیکھ کر مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہ دیتی

ایک واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے پولیس جوان رضوان شہید ہوگیا اور عمران زخمی ہو گیا اس واقعے کے بعد اتنی پریشانی ان کے اپنے گھر والوں کو نہیں ہوگی جتنی سی پی او مشتاق بھٹہ کو تھی اور ان کی فیملی اور ان کے بچوں کو گھر جا کر تسلی دی اور شہید ہونے والے جوان کے گھر درجنوں دفعہ جا کر ان کے گھر والوں کو صبر کرنے کی تلقین کی کی اور کہا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ہر جوان آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہے اگر گوہر مشتاق صاحب کا کرائم کو ختم کرنے کے حوالے سے کردار پر نظر ثانی کریں تو انتہائی پروفیشنل طریقے سے تمام کام سرانجام دیتے رہے ان کے پروفیشنل ہونے کا تذکرہ تمام ماتحت جوان و افسران کی زبان پر ہے ان کی پروفیشنلزم کار کردگی کا ذکر کریں تو پنجاب بھر میں ضلع کرائم کو کم کرنے کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے انہوں نے کرائم کو کم کرنے کے لئے ایس ایچ اوز لیول پر بات کر کے محنت کرکے کرائم کرنے والے ڈاکوں کو جیل میں رکھا اور مقدمے اس طرح سے چالان کروائے کہ زیادہ تر ڈاکو اب بھی جیل میں ہیں اور سزا کے حقدار ٹھہرے ہیں اور ڈاکو کے جیل میں ہونے کی وجہ سے کرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے گوہر مشتاق صاحب نے تمام ماتحتوں کو حکم نہیں دیا کہ اس کام کو سر انجام دوں بلکہ یہ بھی بتایا کہ اس طرح سے سرانجام دو گے ایک کانسٹیبل سے لے کر ایس پی لیول کے آفیسر کو بھی ایک قابل افسر کی طرح گائیڈ کیا جو پولیس جوان کرونا کا شکار ہوئے ایک منٹ بھی ان کو تنہا نہیں چھوڑا اور ان کی فیملی کو بھی مکمل طور پر سپورٹ کیا اور جس پولیس آفیسر اور پولیس جوان کی طبیعت ناساز ہوئی اس کو فوری ریسٹ اور کیر دی گوہر مشتاق صرف نام کے گوہر نہیں بلکہ ان کی شخصیت بھی گوہر ہے ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہمیں ان کے ماتحت کام کرنے کا موقع ملا ٹرانسفر ڈیوٹی کا حصہ ہے اللہ تعالی ان کو نئی اسائنمنٹ میں کامیاب کرے آمین
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 49 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Misbah Gull

Read More Articles by Misbah Gull: 11 Articles with 2977 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: