بھاگ گئی

(Tanvir Sadiq, Lahore)

پورے محلے میں شور تھا کہ عابدہ بھاگ گئی۔ اس کے بھائی رو رو کر لوگوں کو بتا رہے تھے کہ محلے کے کچھ لڑکے اسے اغوا کرکے لے گئے ہیں مگر کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ سب کو یقین تھا کہ بھائیوں کے رویے سے تنگ اس نے مجبوری میں خود یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ وہ خوبصورت تھی، جوان تھی۔ محلے کے کئی لڑکے خود اوربہت سوں کے گھر والے اسے اپنانا چاہتے تھے۔ مگر اس کے بھائی کسی کی سننے کو تیار ہی نہ تھے۔ میرا خیال تھا کہ اس نے ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔بھائی اس سے جو سلوک کر رہے تھے ،مجھے بھی پہلے سے یقین تھا کہ آخر کچھ ایسا ہی ہو گا۔کسی نے پولیس کو اطلاع دینے کا کہا، مگر بھائیوں کے بقول پولیس کچھ سننے کو تیار نہیں تھی۔دو دن بعد وہ میری بیگم اور محلے کی دوسری عورتوں سے ملنے خود وہاں موجود تھی۔ اس کی ساس اس کے ہمراہ تھی ۔ اس کی آمد سے ساری حقیقت بے نقاب ہو گئی۔وہ اپنے فیصلے پر نازاں تھی جو اس نے ٹھیک کیا تھا۔ اس نے سارے خاندان کی موجودگی میں شادی کی تھی۔بڑا فطری انجام تھا، اس انجام سے وہی بے خبر ہوتا ہے جس نے مفادات کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہو۔

اس دن وہ گھر میں اکیلی تھی جب دروازے پر دستک کی آواز سن کر اس نے دروازہ کھولا۔اس کے گاؤں کا وہ لڑکا جسکی ماں اور اس کی رشتے کی خالہ اس کے رشتے کے لئے بارہا اس کے گھر آتی رہی تھی،دروازے پر کھڑا تھا۔ لڑکے نے اس کے بھائی کا پوچھا۔ جواب میں اس نے بتایا کہ بھائی گھر پر نہیں وہ گھر میں اکیلی ہے۔لڑکے نے اسے کہا کہ وہ چند باتیں کرنا چاہتا ہے اگر اسے اعتراض نہ ہو۔ اسے کیا اعتراض تھا۔ اس کی تو مراد پوری ہو رہی تھی۔ اس نے اسے اجازت دے دی۔
لڑکے نے سوال کیا کہ تم شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی۔
تمہیں کس نے کہا ، اس نے جواب دیا۔

لڑکا بولا میری ماں پانچ سال سے چکر لگا رہی ہے ۔ تمہارے بھائی ہر دفعہ تمہاری عمر مزید کم کر دیتے ہیں اور کم عمری کا بہانہ کر کے انکار کر دیتے ہیں۔مجھے تم اچھی لگتی ہو اور میں نے اپنی ماں سے صرف تم سے شادی کا کہا ہے مگر تم لوگوں کے رویے سے میری ماں تنگ آ گئی ہے ۔پچھلی دفعہ تمہارے بھائیوں نے اتنا برا رویہ اپنایا کہ و ہ اب تمہارے گھر آنے کو تیار نہیں۔ مجبوری میں ،میں خود آیا ہوں ۔ میں تین چار دن سے موقع کی تلاش میں تھا کہ تم کہیں راستے میں اکیلی ملو تو بات کروں مگر تمہارا بھائی تمہیں اکیلا چھوڑتا ہی نہیں۔ آج میں نے دیکھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ نکلا ہے تو ہمت کرکے یہاں آیا ہوں۔

اس نے کہا بھائی آنے والا ہو گا تم میرا فون نمبر لے لو اور کل مجھے جب میں فیکٹری میں ہوں تو فون کرنا۔

لڑکے نے فون نمبر لیا اور واپس چلا گیا۔

اس کی ماں کو مرے چار سال ہو چلے تھے۔مرنے سے کچھ دن پہلے اس کی ماں کو کسی عزیز نے اپنے بیٹے کے لئے اس کے رشتے کا پیغام بھیجا تھا مگر اس کی ماں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ایک تو میری بیٹی چھوٹی ہے اور دوسرا میں نے ابھی ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی شادی کی ہے اس لئے مالی طور پر وہ ایک اور شادی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

پھرچند مہینوں بعد اس کی ماں مر گئی۔اب وہ اپنے گاؤں والے گھر میں بالکل اکیلی تھی۔مرنے والی کی کچھ دن کی رسومات کے بعد جب اس کا بھائی شہر اپنے کام پر بیوی بچوں سمیت واپس آ رہا تھا تو اسے بھی ساتھ شہر لے آیا۔گاؤں کے مقابلے میں یہ شہر کا نیا ماحول بڑا مختلف تھا۔ وہ سارا دن اداس اداس بیٹھی رہتی اور کبھی شدت سے ماں کی یاد آتی تو اسے یاد کرکے رو لیتی۔بھائی نے یہ سوچ کر کہ اس کا دل بہل جائے اسے گھر کے قریب ایک فیکٹری میں نوکری دلا دی۔

فیکٹری میں کام کی وجہ سے اس کا دل شہر میں لگ گیا۔ بڑی معقول تنخواہ تھی۔ ایک غریب خاندان کے لئے یہ بہت بڑی رقم تھی۔ گھر کے لوگ اس کا احترام بھی کرنے لگے اور خصوصی خیال بھی رکھنے لگے۔اس کی شادی کا سوچنا بھی ختم کر دیا گیا۔گھر میں جوان بچی ہو تو رشتے تو ہر صورت آنے ہوتے ہیں۔اس کی ماں کو مرے ایک سال ہو گیا تھا۔ اب جو رشتے آئے اس کے بھائی نے ان لوگوں کو یہ کہہ کر کہ میری بہن بہت چھوٹی ہے۔ ابھی تو وہ فقط انیس(19) سال کی ہے ،لوگوں کو واپس کر دیا۔ اس نے بڑی معصومیت سے بھائی کو پوچھا،’’بھائی جب ماں مری تھی تو میں بیس سال کی تھی، ماں کو مرے ایک سال ہو گیا ہے ، مگر میری عمر ایک سال بڑھنے کی بجائے، کم کیسے ہو گئی ہے؟ــ‘‘بھائی نے مسکرا کر کہا کہ تمہاری عمر کی بچیاں شادی کی باتیں نہ تو کرتی ہیں اور نہ ہی اس بارے سوچتی ہیں۔ ہم جب بھی فیصلہ کریں گے وہ تمہارا بھلا دیکھ کر ہی کریں گے۔

کچھ مزید سال گزر گئے۔ وہ عورت جو رشتے میں اس کی خالہ بھی تھی اور اس کی ماں کی زندگی میں رشتہ مانگنے آئی تھی اس سال پھرایک بار پھر اپنے بیٹے کے لئے اسکے بھائی کے پاس آئی۔ بھائی نے اس عورت کو پھر انکار کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ میری بہن تو ابھی بہت چھوٹی ہے فقط سترہ برسوں کی ۔میں اتنی چھوٹی عمر میں اس کی شادی نہیں کروں گا۔عورت اس کے بھائی سے جھگڑنے لگی کہ کیا مذاق ہے ۔میں ہر سال آتی ہوں تم اگلے سال آنے کا کہہ کر وقتی انکار کرتے ہواور ساتھ ہی اس کی عمر ایک سال بڑھانے کی بجائے کم کر دیتے ہو۔تمہاری بہن چوبیس سال کی ہونے والی ہے تم سترہ کہتے ہو۔مجھے بات سمجھ آ رہی ہے۔ تمہاری بہن فیکٹری میں کام کرتی ہے، معقول تنخواہ لیتی ہے۔ لگتا ہے تمہیں بہن کو ملنے والی تنخواہ بہت عزیز ہے۔ صرف اس تنخواہ کے لئے تمہیں اپنی بوڑھی ہوتی بہن نظر نہیں آتی۔ اس کے بھائی اور اس عورت میں بہت تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور وہ عورت لڑتی ہوئی ان کے گھر سے چلی گئی۔

عورت کی بات اسے بھی سمجھ آ رہی تھی۔ یہی باتیں اس کی فیکٹری میں کام کرنے والی سہیلیاں بھی کہتی تھیں۔ واقعی اس کا بھائی پیسے کے لالچ میں اس کی شادی کرنے کو تیار نہیں تھا۔ آدمی بالغ ہو جائے اور اس کی معقول آمدن بھی ہو تو کہتے ہیں کہ اس کے اندر کوئی چیز بولتی ہے جو اسے شادی کے لئے مائل کرتی ہے۔ اس کی عمر بھی تھی، معقول آمدن بھی تھی۔شادی اس کی بھی خواہش تھی، وہ کیسے چپ رہتی۔ اس نے پہلے دبے دبے لفظوں میں بھائی سے احتجاج کیا ۔ بھائی کی ہٹ دھرمی دیکھ کر وہ کچھ نالاں بھی ہوئی ۔ اپنے ناراض رویے سے گھر والوں کو محسوس کرایا کہ ان کے فیصلے سے وہ کچھ خوش نہیں۔ مگر بے بس تھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

لالچ عجیب بلا ہے کہ کسی کا بس نہیں چلتا۔اس کی معقول آمدن کے لالچ میں اس کے بھائی تو ہر دفعہ چھوٹی عمر کا بہانہ کردیتے تھے اور ہر دفعہ اس کا یہ احساس کہ بھائی اس سے مخلص نہیں بڑھتا جا رہا تھا۔ عورت کے جانے کے بعد اسے پوری طرح اندازہ ہو گیا کہ اس کی آمدن اس کی شادی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بن چکی ہے مگر مجبو ر تھی۔وہ بھائی اور گھر والوں سے کچھ کھچی کھچی رہنے لگی۔ اسے مسلسل ناراض پا کر بھائی بڑے پیار سے اسے سمجھانے لگا کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی شادی دھوم دھام سے ہو ۔ اس وقت پیسے نہیں کچھ انتظار کرو۔ اس کے نہ ماننے پر بھائی کھل کر کہنے لگا ۔ تم لوگوں کے بھڑکانے پر ہمیں بھوکا مارنا چاہتی ہو۔ جو مرضی ہو میں تمہاری شادی نہیں کروں گا۔ بھائی کی یہ بات سن کر اسے یقین ہو گیا کہ اس کا یھائی اس سے دھوکا کر رہا ہے ، وہ اس کی تنخواہ اپنے بچوں پر خرچ کر رہا ہے اور اور وہ اس کی شادی کسی صورت نہیں کرے گا۔

اس لڑکے سے ملاقات کے بعداس احساس سے کہ کوئی اسے چاہنے والا ہے عابدہ عجیب نشے سے دو چار، اگلے دن اپنے فیکٹری جانے کا سوچ کر بے قرار تھی۔ پہلے فون پر رابطہ ہوا ۔دو چار دن میں کچھ تکلف کم ہوا تو پھر لڑکا اسے خود آ کر ملا۔ چند دن بعد اس کی ماں اور باپ بھی آ کر اسے ملے۔ اسے حوصلہ دیا کہ ہم تمہارے ماں باپ ہی ہیں۔ بہتر فیصلہ اور باقاعدہ شادی کریں گے اور تمام برادری اس میں شریک ہو گی۔ وہ تو ذہنی طور پر پہلے ہی تیار تھی، ان کی باتیں سن کر اس نے ہاں کر دی۔ پلان کے مطابق اگلے کچھ دن سے وہ اپنی ضروری چیزیں گھر سے لاتی رہی اور پھر تمام انتظام کرنے کے بعد ایک صبح وہ فیکٹری کی بجائے ایک وکیل کے دفتر میں موجود تھی۔ اس کا سسر بڑا جہاں د یدہ شخص تھا، اس نے پورا انتظام کیا ہوا تھا۔ پہلے نکاح ہوا پھر ایک مجسٹریٹ کے سامنے دونوں میاں بیوی کا بیان حلفی اور گھر جانے سے پہلے متعلقہ تھانے میں نکاح او ر بیان حلفی کی کاپیاں جمع کرا دی گئے۔ چند گھنٹوں بعد وہ پورے اطمینان سے اپنے گھر میں نئی دلہن کے روپ میں ،کسی ڈر اور خوف سے بے نیاز، موجود تھی۔ شادی کا پورا اہتمام تھا، سارا گاؤں ، اس کے سارے رشتہ دار ، سوائے بھائی کے ،موجود تھے۔ اک عرصہ بیت چکا ہے، وہ آج بھی اپنے گھر میں خوش اور اپنے میاں کے ساتھ ا ٓرام دہ خوشگوار زندگی گزار رہی ہے۔اس کا بر وقت فیصلہ اس کی زندگی سنوار گیا ہے۔ کبھی کبھی بر وقت بھاگنا بھی بڑا سود مند ہوتا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 96 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 419 Articles with 195403 views »
Teaching for the last 45 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: