سورہ التکاثر کا اردو ترجمہ

(Mehboob Buttar, Faisalabad)
٭حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کیا تم میں سے کوئی شخص اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ ہر روز ایک ہزار آیات کی تلاوت کرے؟صحابہؓ نے عرض کیا:ہر روز ایک ہزار آیات کون پڑھ سکتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص (ہر روز)الھکم التکاثر پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا؟(مستدرک للحاکم)
٭حضرت جریر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں تمہارے سامنے سورۃ الھکم التکاثر پڑھ رہاہوں،جو اس کو سن کر رویا اس کیلئے جنت ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سورت پڑھی،اس کو سن کر بعض لوگ روئے اور بعض نہیں روئے، جو لوگ نہیں رو رہے تھے انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!ہم نے بہت کوشش کی لیکن ہم رونے پر قادر نہ ہو سکے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں تمہارے سامنے دوبارہ پڑھتا ہوں،پس جو رویا اس کیلئے جنت ہے،جو رونے پر قادر نہ ہو وہ رونے کی کوشش کرے۔(تفسیر در منثور)

یہ سورت مکی ہے اور اس میں آٹھ آیتیں ہیں۔
ترجمہ:
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرما نے والا ہے۔
(اے لوگو!)تمہیں کثرت ِمال(زیادہ مال جمع کرنے)کی ہوس اور فخر نے(آخرت سے غافل کر دیا)۔(یعنی زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس اور اس پر فخر کرنے نے تمہیں آخرت سے غافل کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تم حلال وحرام کی تمیز کئے بغیر مال جمع کرنے میں لگے رہے)۔(۱)یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔(۲)ہر گز نہیں!(مال ودولت تمہارے کام نہیں آئیں گے)تم عنقریب(اس حقیقت کو) جان لو گے۔(حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ کہتا ہے میرا مال،میرا مال حالانکہ اس کیلئے اسکے مال سے صرف تین نصیب ہیں،ایک وہ جو اس نے کھا کر فنا کر دیا،دوسرا وہ جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیااور تیسرا وہ جو اس نے صدقہ کر کے(آخرت کیلئے)ذخیرہ کر لیا،اسکے سوا جو بھی کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کیلئے چھوڑنے والا ہے۔(مسلم) حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی خواہش کرے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کر لے اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمائے گا۔(بخاری))(۳)پھر(آگاہ کیا جاتا ہے:)ہر گز نہیں!عنقریب تمہیں (اپنا انجام)معلوم ہو جائے گا۔(۴)ہاں ہاں! کا ش تم(مال وزر کی ہوس اور اپنی غفلت کے انجام کو)یقینی علم کے ساتھ جانتے(تو دنیا میں کھو کر آخرت کو اس طرح نہ بھولتے)۔(۵)تم (اپنی حرص کے نتیجے میں)جہنم کو ضرور دیکھ کر رہو گے۔(۶)پھر تم اسے ضرور یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔(۷)پھر اس دن تم سے(اللہ کی)نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا(کہ تم نے انہیں کہاں کہاں اور کیسے کیسے خرچ کیا تھا)۔(۸)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Buttar

Read More Articles by Mehboob Buttar: 6 Articles with 1353 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jul, 2020 Views: 208

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ