ماں سے ماں تک

(Saba Hassan, Lahore)

آج ماؤں کا دن ہے اور میری ماں نے جسطرح میری تربیت کی اُس کے توسط سے مجھے اس جہانءفانی میں ایک اور ماں نصیب ہوئی۔ میرے شوہر نامدار کی والدہ میری پیاری مرحوم ساس صاحبہﷲ اُن کو جنت الفردوس میں افضل مقام عطا کریں، آمین ثمہ آمین

امؔی بتایا کرتی تھی کہ اُنھوں نے زندگی میں بہت جدوجہد کی تھِِِی بہت دفعہ وقت نے اُن کو خالی برتن کی طرح ٹٹولا تھا اور بارھا امؔی نے وقت کے ڈھسوکلوں کو ایساچکما دیا کہ وقت نے اپنی سمت خود ہی بدل ڈالی۔ کبھی کبھی گزرے وقت کی تمازت انکی جھریوں میں نمودار ھوتی تو میں نہ جانے کیوں اُنکی تھرتھراتی آواز میں گم جاتی۔ جس انداز سےوہ مجھے ٹریٹ کرتی لگتا نہیں تھا کہ وہ وقت کو اُلو بنا چکی ھیں۔ اتنی معصوم،سوبر اورشفیق۔ میرا اور اُنکا سنگ یہی کوئی چھ سات سال رھااور ایک دن بھی نہ اُنکالہجہ کڑوہ ملانہ رویہ بدلا۔

اکثر امؔی کومسخرا سی بن کر چھیڑا کرتی تھی لیکن اپنے قہقہوں میں ایک روز بھی اُنکے قہقہے کی آمیزش نہیں سنی لیکن انکا مسکراتا چہرا جو میری بلائیں لیتا وہ فراموش کرنا ابتک ناممکن ہے۔

میری کئی بری عادتوں میں شاعری ھے اور شعروں کی خوبصورتی گانوں میں ہو تو کیا ہی بات ھے۔گانے میری کمزوری ھیں سنناہر دور میں میری مجبوری رہی ہے اور رہے گی شایدمیری ساس اللہ پاک نے خاص میرے لیے آرڈر پر تیار کیں تھیں۔ صبح کی عبادت کے بہترین آغازکے بعد میرا پہلا کام امؔی کو سلام کرنا اور دوسرا کام فُل بُوفرآن کرناتھا اور موسیقی سے لطف اُٹھاناتھاان تین چار گھنٹوں میں سارے کام نبٹا لیتی۔ اور کبھی اگر گانے نہ سنتی اُسی روز امؔی کو تشویش ہوجاتی چارپائی پر پاس بٹھا کر نبض پکڑتیں اورپوچھتیں کیا بات ھے طبیعت ٹیھک ھے۔۔۔۔ ؟؟؟ ھا ھا ھا ۔۔۔۔ 😘 یہ تو حال تھا میری ساس کا ۔۔۔ جانے ظالم ساس کیسی ھوتی ھیں میری ساس تو شہزادی تھیں۔🥰

مجھے ان چھ سات سال کی سنگت میں ایک روز بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں بےاولاد ہوں میرا یہ دکھ اُن کے جگر کا پھپھولا تھا جانتی ہوں لیکن ایک دفعہ بھی سرسری سا بھی انکے زہرقند نشتر میری سماعتوں تک نہیں پہنچے۔ ماں ہر حال میں ماں ہوتی ہے امؔی کا رویؔہ مجھے آج بھی یہ احساس دلاتا ہے۔ میں ماں تو نہیں بنی لیکن میری مامتا کا سارا نچوڑ ایک ماں کی خدمت میں جذب ھوگیا۔ امؔی کے آخری ایؔام میں جب وہ دنیاکی ہر شئے کا اثر اپنے دماغ سے فراموش کر چکیں تھیں اُس وقت بھی وہ صرف مجھے پہچان رہیں تھیں۔ 💞

اپنی وفات سے قبل جب وہ بےسدھ پڑی تھیں اور صرف ڈرپس پہ تھیں تومیں کسی پاگل کی طرح روٹی کے چھوٹے چھوٹے بھورے ہاتھوں سے مسؔل کر اُنکے منہ میں ڈال رھی تھی لاعلم تھی کہ جن کا دانہ پانی پورا ھوجائےوہ کچھ نہیں کھاتے۔ میرے لیے یہ بھولنابہت مشکل ھے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مجھے پھل پسند نہیں ھیں وہ اپنے تکیے کے نیچے خوبانی اور آلو بخارے رکھا کرتی تھیں جیسے ہی اُنکے پاس آتی پکڑا کر کہتیں ابھی کھا میرے سامنے۔۔۔۔💓 ھا ھا ھا۔ میرا خدا گواہ ہے میں نے اُنکو کبھی نہیں بتایا تھا کہ مجھےصرفؔ یہ دو پھل ہی بہت پسند ھیں۔

محبت کے احساس کے لیے جھنڈے نہیں لگانے پڑتے یہ اور اسطرح کی چھوٹی چھوٹی باتیں دل دماغ کو غلام کر لیا کرتی ھیں۔یہی محبت اور خلوص تھا جو آج بھی امؔی میرے دل میں دھڑک رہی ھیں۔

آج جب اپنے جیٹھوں کو اپنے سر پر شفقت اور محبت سے پیش آتے دیکھتی ہوں اپنے مجازی خدا کو اپنا رکھوالا پاتی ھوں تو امؔی کے لیے خود بہ خود دعاؤں کاچشمہ پھوٹ پڑتا ھے۔ اتنی اچھی ماں کے اتنے اچھے بیٹے ہی ھوتے ھیں۔
اللہ سب کا حامی و ناصر

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: saba hassan

Read More Articles by saba hassan: 12 Articles with 3044 views »
“Good friends, good books, and a sleepy conscience: this is the ideal life.” .. View More
17 Jul, 2020 Views: 134

Comments

آپ کی رائے