آدم رے آدم ۔ تیری کونسی کل سیدھی ؟؟

(Safdar Ali Hydri, )

 کتاب قدرت سے جہاں انسان کی عظمت اشکارا ہوتی ہے
وہیں انسان کی فطری کمزوریوں کا بھی بخوبی ذکر ملتا ہے
گویا انسان اچھائی اور برائی کا مجموعہ ہے اور اسے کمال تک پہنچنے کے لیے اپنی یہی خامیاں دور کرتے ہوئے عروج تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہیے -
اسے اچھائی اور برائی دونوں راستے دکھا دیے گئے ہیں اور یہ بھی کہ اپنے بارے میں وہ خوب جانتا ہے -
اس کی رہنمائی کے لیے الہامی ہدایت اور الہامی استاد بھی فراہم کیے گئے کہ وہ منزل تک پہنچنے سے پہلے بھٹک نہ جائے - آئیں دیکھیں کہ کتاب فطرت نے انسان کی کن خامیوں کا بطور خاص تذکرہ فرمایا ہے
" انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے "
" جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو رب کو پکارتا ہے اور جب وہ تکلیف اس سے دور ہو جائے تو پھر رب کو بھلا دیتا ہے "
گویا مفاد پرستی اسکی گھٹی میں پڑی ہے -
" یقینا انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے "
" جب اسے کچھ نوازنے کے بعد اس سے چھین لیا جاتا ہے تو وہ ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے "
" انسان یقینا بڑا ہی بے انصاف، ناشکرا ہے "
" انسان کو جس طرح خیر مانگنا چاہیے اسی انداز سے شر مانگتا ہے اور انسان بڑا جلد باز ہے "
" نجات دیتا ہے تو تم منہ موڑنے لگتے ہو " " اور انسان بڑا ہی ناشکرا ثابت ہوا ہے "
" انسان بہت (تنگ دل) واقع ہوا ہے "
" انسان بڑا ہی جھگڑالو (ثابت ہوا ) ہے "
" انسان عجلت پسند خلق ہوا "
" انسان تو یقینا بڑا ہی ناشکرا ہے "
" انسان تو یقینا بڑا ہی ناشکرا ہے "
" وہ کھلا جھگڑالو ہے "
" کوئی نعمت ملے تو جسے پہلے پکارتا تھا اسے بھول جاتا ہے "
" جب کوئی نعمت ملتی ہے تو کہتا ہے یہ تو مجھے صرف علم کی بنا پر ملی ہے "
" جب کوئی آفت آجاتی ہے تو مایوس ہوتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے "
" دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے "
" نعمت سے نوازا جائے تو وہ منہ پھیرتا اور اکڑ جاتا ہے "
" تکلیف پہنچنے پر لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے "
" یہ انسان یقینا ناشکرا ہو جاتا ہے "
" یہ انسان یقینا کھلا ناشکرا ہے "
" یہ انسان یقینا ناشکرا ہو جاتا ہے "
" انسان تو یقینا سر کشی کرتا ہے "
" انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے "
" آخرت میں متوجہ ہونے والا "
" پروردگار کے بارے میں دھوکے کھانے والا
یہ انسان، یہ کس قدر ناشکرا ہے "
" انسان اپنے آپ سے خوب آگاہ ہے "
" انسان یقینا کم حوصلہ خلق ہوا ہے "
" کھلا جھگڑالو بن گیا "
" بڑا ظالم اور نادان ہے "
" انسان تو یقینا بڑا ہی ناشکرا ہے "
" ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے "
" انسان عجلت پسند خلق ہوا "
" انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے "
" انسان بہت (تنگ دل) واقع ہوا ہے "
" نعمتیں ملنے پر روگردانی کرنے والا "
" جلد مایوس ہو جانے والا "
" بڑا ہی ناشکرا "
" بڑا جلد باز ہے "
" جھگڑالو ہے "
" بے انصاف، ناشکرا ہے "
۔۔۔
اگر ہم ان آیات کا بغور مطالعہ کریں تو انسان کی سب بڑی خامی ناشکرا پن بیان ہوئی ہے -
ناشکرا ہے ' جھگڑالو ہے' عجلت پسند ہے ' جلد مایوس ہو جانے والا یے' تنگ دل ہے ' نعمت ملنے ہر منہ موڑ لینے والا ' ظالم اور نادان ہے حالانکہ اپنے بارے میں خوب آگاہ ہے ' کم حوصلہ ہے ' پروردگار کے بارے میں دھوکے کا شکار ہے ' سرکش ہے '
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی ایک خاص خوبی ایک خاص وصف بھی وہ ذات باری نمایاں کرتی ہے :
" بتحقیق ہم نےانسان کو بہترین اعتدال میں پیدا کیا "
پھر احسن تقویم کہہ کر خلافت ارضی کا تاج اس کے سر پر سجاتا ہے -
فرشتوں سے کہتا ہے
جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ۔۔۔۔
یہ تمام نقائص اپنی جگہ اہم سہی مگر اس سب کے باوجود انسان کی شخصیت کے مثبت رخ کو بھی واضح کیا گیا یے -
گویا انسان کی شخصیت کا پورا پورا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے -
پھر کتاب میں جہاں برے کرداروں کا ذکر ملتا ہے وہیں ان کے پہلو بہ پہلو ایسے کرداروں کی بھی ہرگز کوئی کمی نہیں کہ جو انسانوں کے لیے لائق تقلید نمونہ ہیں -
ہمیں سمجھ یہ آتا ہے کہ انسان اپنی فطری خامیوں پر قابو پا کر اگر چاہیے تو روشنی کا مینار ' قطبی تارہ بن سکتا ہے
اقبال نے کیا خوب نصیحت فرمائی ہے
اے دوست اس چمن سے ایسے گلوں کو چن
کہ ہر شخص داد دے تیرے انتخاب کی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safdar Ali Hydri

Read More Articles by Safdar Ali Hydri: 75 Articles with 24099 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jul, 2020 Views: 167

Comments

آپ کی رائے