مسجد آیا صوفیا کی ترکی میں بحالی: روشن صبح کا استعارہ

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

 "جن کے ہاتھوں میں دامنِ مصطفیٰ ﷺ ہو؛ وہ بے راہ نہیں ہوتے۔ وہ اسلام سے پختہ وابستگی رکھتے ہیں۔ اپنے مذہبی آثار کی بحالی کے لیے منصفانہ تقاضوں کی تکمیل کرتے ہیں۔"

سوشل میڈیا پر ایک کلپ نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا۔ میں محوِ حیرت تھا؛ ترکی کے سربراہ رجب طیب اردگان نے والہانہ انداز میں رسول اللہ ﷺ کی نعت پیش کی۔ وارفتگیِ شوق اور محبتِ رسول ﷺ کا یہ نظارہ اِس بات کی طرف واضح اشارہ تھا کہ یہ حکمراں یہود و نصاریٰ کی غلامی کا شکار نہیں ہے۔ یہ تو مکینِ گنبد خضریٰ سے محبت و الفت کی سوغات بانٹ رہا ہے کہ؛ نعت پاک کا مفہوم کچھ اِس طرح تھا:

"یارسول اللہﷺ! آپ کی محبت مجھے طیبہ کھینچ لائی۔یارسول اللہﷺ! آپ کے فراق میں مَیں سرگرداں ہوں۔ یارسول اللہ ﷺ! میں محبتوں کی بزم میں آپ کی عطا سے پہنچ گیا ہوں۔ یارسول اللہﷺ! آپ کی رحمت ہادی ہے، ہر اِک آپ کا طالب ہے۔ ذہن و قلب جلوؤں سے روشن ہیں۔ میں آپ پر فِدا یارسول اللہﷺ۔ مِری روح و دل صدقے یارسول اللہﷺ!…"

یہ محبتوں کا نغمہ تھا…یہ عشقِ رسول ﷺ کی بولی تھی…دل سے نکلی تھی…تعمیری فکر کا اشاریہ تھی…اِسی لیے آج ساری دُنیا کے مسلمان ترکوں کو قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں…

ہم نے ان حکمرانوں کو بھی دیکھا…جو مسلم مملکتوں کے سربراہ ہیں…لیکن مغربی طاقتوں کے قدموں میں پڑے ہیں…انھیں بھی دیکھا جو پاکیزہ زمیں کی دولت سے ٹرمپ کو تحائف سے نواز رہے ہیں…انھیں بھی دیکھا جو فلسطین کے خونِ مسلم بہائے جانے پر خاموش ہیں اور یہودی کاز کے لیے سرگرمِ عمل ہیں…انھیں بھی دیکھا جو قادیانیت کو سروں پر بٹھاتے ہیں…ناموسِ رسالت ﷺ میں توہین کے گھونٹ پی جاتے ہیں…جو امریکہ کی مدحت میں جیتے ہیں اور اُمتِ مسلمہ کے لہو پر اقتدار کے سورج اُگاتے ہیں…جو اپنے عیش کدوں کی تعمیر کے لیے لاکھوں خانماں برباد کلمہ گو کو لُٹتے، پِٹتے اور تباہ ہوتے دیکھتے ہیں…جو ظلم کے خلاف مظلوم کا ساتھ نہیں دیتے…ظالم کے ہمراہ نظر آتے ہیں…جو استعماری قوتوں کے ہاتھوں بِک چکے ہیں…ارضِ حرمین میں جو جوئے کے اڈے، کلبیں اور عیاشی کی محفلیں قائم کر رہے ہیں…

ایک طرف دہریت، لادینیت کا فتنہ شباب پر ہے…قادیانیت و دشمنیِ صحابہ کا زہر اُبل رہا ہے…ایک طرف شرک پوری توانائی کے ساتھ وجودِ مسلم ختم کرنے کے لیے تیار ہے…کالے قوانین کے ذریعے گلشنِ خواجہ غریب نواز میں مسلمانوں کی فصل کاٹنے کی تیاری کی جا چکی ہے…مسلم ممالک اپنے اقتدار کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں…دشمنوں کی غلامی نے انھیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری کر دیا ہے…عراق کی تباہی، افغانستان کی بربادی، لبنان کی مفلوک الحالی اور لیبیا کی تاراجی سے مسلم حکمراں سبق نہیں لے رہے…ہر اِک دوسرے مسلم ملک کو ختم کرنے کی فکر میں ہے…جن دشمنوں کو انھوں نے لا بٹھایا وہ اِن کا خرمن بھی پھونک سکتے ہیں…

تمہیں کالی گھٹا کا بھی نہیں پہچاننا آتا
نشیمن سے دُھواں اُٹھتا ہے تم کہتے ہو ساون ہے

سرزمینِ قسطنطنیہ عیسائیت کا مضبوط پڑاؤ تھی۔ عثمانی سلطان محمد فاتح نے اِس سرزمین پر جہدِ مسلسل سے کام لیا۔ بالآخر فتح کی صبح طلوع ہوئی۔ مسیحی دنیا کا ناقابلِ تسخیر سمجھا جانے والا شہر اسلام کے مضبوط حصار میں آیا۔ صلیب شکست سے دوچار ہوئی۔ آیا صوفیا ان کا مذہبی مرکز تھا، جسے وہ اپنے باطل عقائد کی بنیاد پر ناقابلِ تسخیر مستقر سمجھتے تھے؛ وہ مسلماں کے زیر اثر آیا۔ ۱۴۵۳ء میں سلطان نے اسے باقاعدہ طور پر خرید کر مسجد میں بدل دیا- ۱۹۳۵ء میں دین بیزار اسیر فکرِ مغرب اتاترک نے اس مسجد کو میوزیم میں تبدیل کر دیا۔ ۱۹۳۵ء میں دین بیزار لبرلز نے اپنے اقتدار کا فائدہ اُٹھا کر مسیحی دنیا کی خوشی کے لیے اِس مسجد کو میوزیم کی شکل دی۔ موجودہ صدر ترکی نے باقاعدہ کورٹ کے ذریعے انصاف و دیانت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے وادیِ آیا صوفیا میں اذانِ سحر دی اور وہ صبح نمودار ہوئی جس کے بطن سے مسجد کا وقار بحال ہوا۔

مسجد آیا صوفیا کی بحالی اُس مسیحی ایجنڈے کا عملی جواب ہے جس کے نفاذ کے لیے ہزاروں افراد کے ایمان خریدے گئے۔ گستاخِ رسول پیدا کیے گئے۔ مسلمانوں کا رشتہ بارگاہِ رسول ﷺ سے کم زور کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ دنیا کی کئی مساجد کی توہین کی گئی۔ دن دہاڑے مساجد کو ڈھایا گیا۔ بُت رکھے گئے- حیر ت کا مقام ہے کہ جس سال خواجہ کے گلشن میں ایک مسجد کو شرک کدے میں بدلنے کا فیصلہ نافذ کیا جا رہا تھا؛ انھیں ساعتوں میں ترکی کی سرزمین سے صبحِ تابندہ کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ مسجد آیا صوفیا کی حرمت بحال کی جا رہی تھی۔ دیانت و انصاف کے ذریعے مسیحی زعما کو یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ ’’وادی یہ ہماری ہے وہ گلشن بھی ہمارا‘‘…انصاف یہ ہوتا ہے کہ مسجد کا وقار باقی رکھا جائے…رضائے الٰہی کے لیے زندگی گزاری جائے…

ایسے وقت میں جب کہ ہر طرف مسلمانوں کے لہو کی سرخی ہے، ایک ایسا مقام جس کا وجود ہی صلیبی فکر کا نشانِ امتیاز مانا جاتا تھا، جو آرتھوڈوکس زعما کی عقیدتوں کا محور تھا۔ استعماری نقطۂ نگاہ سے ان کی مرکزیت کا نشاں تھا۔ قسطنطین اعظم نے ۳۶۰ء میں اس مقام پر کلیسا تعمیر کیا۔ اسی مقام پر باقاعدہ سلطان محمد فاتح نے زمین کی رقم ادا کر کے جس مسجد کی بنیاد رکھی تھی؛ اس کا وقار مدتوں بعد منصفانہ بنیادوں پر بحال ہوا۔ یہ امتِ مسلمہ کے تاباں مستقبل کا استعارہ ہے۔ جس سے مغربیت زدہ، لبرل، ملحد، دھریے حواس باختہ ہیں۔ وہ بھی مضطرب ہیں جو اسلام دشمن قوتوں کی زباں رکھتے ہیں۔ اسلام کی شوکت سے خوفزدہ مملکتیں نیز یہود و نصارٰی اِس منصفانہ اقدام ’’بحالیِ مسجد‘‘ سے مغموم ہیں۔ حالاں کہ انھیں ساری دنیا میں وہ واقعات دکھائی نہیں دیتے؛ جب مسلمانوں کی زمیں پر غاصبانہ قبضہ کے بعد مساجد کو چرچ و کلیسا میں بدل دیا گیا؛ کتنے ہی مقامات پر سجدہ گاہوں کو مسمار کر دیا گیا۔ اسلامی شوکت کے نشاں مٹا دیے گئے۔ اشبیلہ، طلیطلہ، قرطبہ میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کے بعد مساجد کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ بھی تاریخ کا المیہ ہے کہ عرب سرزمین پر غیرتِ دیں کا سودا کرنے والوں نے بت کدوں کی تعمیر کی منظوری دی۔ جو مملکتیں اسلام کے نام پر وجود پائیں وہاں مشرکین کے مراکز کا قیام المیہ ہی ہے۔ دوسری طرف ارضِ خواجہ میں مسجد کو بت کدے میں بدلنے کی تحریک چلائی گئی۔ ایسے ماحول میں ان مسلمانوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے جو ایوانِ کفر کے ہاتھوں کھلونا بنتے ہیں اور مسلمانوں سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب سے بیزارہوجائیں۔ مغربی چکاچوند اور مشرکانہ رسوم کو قبول کر لیں۔ لیکن جن کی نگاہوں میں طیبہ و نجف کا سرمہ ہو، جن کے ہاتھوں میں دامنِ مصطفیٰ ﷺ ہو؛ وہ بے راہ نہیں ہوتے۔ وہ اپنی حقیقت یعنی اسلام سے پختگی سے وابستہ رہتے ہیں۔ اور اپنے مذہبی آثار کی بحالی کے لیے منصفانہ تقاضوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی کی زمیں پرمسجد آیا صوفیا کی بازیابی ہوئی۔ یہ روشن صبح کا استعارہ ہے۔ یہ تاباں سحر کا درخشاں باب ہے۔ یہ پیغام ہے مسلمانوں کے لیے کہ شریعت کی پابندی کریں اور اسلامی تعلیمات پر استقامت اختیار کریں؛ اپنے آثار کی بحالی کے لیے دستوری تگ و دَو پوری توجہ سے جاری رکھیں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 145763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2020 Views: 442

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ