ایک گاؤں کی آپ بیتی

(Ghulam Shabir, )
اس آرٹیکل کا مقصد گاؤں کے ماحول کے پس منظر میں موجودہ بڑھتے شہری ماحول کا تجزیہ ھے

لفظ ”گاؤں“ کے ذھن میں آتے ھی میلے، دھول سے اٹے ،کیچڑ سے لدے ھوئے راستوں کا تصور ابھرنے لگتا ھے. جن پر ھماری ابتدائی یادیں چلتی دکھائی دیتی ھیں. جہاں ایک طرف ھم کھڑے ھوکے ایسے گھنے باغات جہاں اندھیرے خوف بن کر رھتے ھیں دوسری طرف ایسے کچے مکانات دیکھتے ھیں جن کی چھتیں نرم تنکوں سے بنی ھیں. ایک ”گاؤں“ ایک ایسا ھی کچھ آشیانہ تھا جہاں قدرت نے اپنوں رنگوں کا اچھا استعمال دکھایا ھوا تھا. وہ پرانے برگد کے درخت جو گلدستہ کی صورت میں گاؤں کی خوبصورتی کی جان تھے نہ صرف اس کے باسیوں بلکہ پرندوں کے مل بیٹھنے کا سامان تھا. کراہ ارض پر کوئی پرسکون جگہ کسی کو نصیب ھوئی ھے تو وہ گاؤں ھے. جو مل بیٹھنے، بے مقصد گھومنے، گویا اگرانسان کا روپ دوستی، وفا ھو تو گاؤں اسکی ایک منہ بولتی تصویر. ایسی انسانی بلندی ایک گاؤں کے دن رات میں شامل تھی جہاں راہ چلتے بڑوں بچوں کا ملنا گویا احترام، شفقت کا ملنا ھوتا تھا. تو اس سے زندگی کسی دلھن سے کم حسین نظر نہ آتی تھی. اس گاؤں کے پرکشش راستوں جنہوں نے اپنی حفاظت پر بوڑھے، جوان درختوں جن کی پشتوں پر گھنے باغات کا پیرا ھوتا کو معمور کیا ھوا تھا، جن کا سدا بہار جیون ٹرانسپورٹ کے شور اور آلودگی سے ابھی تک ناواقف تھا ندی، نالے، دریا کسی گاؤں کو قدرت کے حسن سے مالامال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ھیں. جن کی بدولت گاؤں نہ صرف انسانوں،جانوروں بلکہ پرندوں کا من پسند مسکن رھے ھیں. کچھ ایسا ھی اس ”گاؤں“ کے ندی، نالے دریا اپنے بہہ جانے کی فطرت سے گاؤں کواپنا آپ دے رھے تھے. جن کے دم سے گاؤں مختلف انواع کے پرندوں کی آماجگاہ تھا. ھر وقت پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ ھواؤں کو چیرتے خود کو سنبھالے جب درختوں کی چوٹیوں کو زینت دیتے تو لگتا جیسے یہ اس گاؤں کے پرسکون ماحول میں خود کو پا کر نازاں ھیں پھر جب زمانہ آگے بڑھتا ھے تو گاؤں اپنے باسیوں کی نئی نسل دیکھنا شروع کرتا ھے. جو اب اپنے بسیرے ڈالنے کے لے اپنی ضروت کی خاطر اس گاؤں میں نئی تعمیرات کاآغاز کرتے ھیں پر دیکھتے دیکھتے انکی ضرورتیں خواھشات کا روپ دھار لیتی ھیں. جن کے آگے گاؤں خاموشی اختیار کرلیتا ھے. اپنے پرسکون اور سرسبز حصوں کو حوالے کرکے انکی خدمت میں لگا دیتا ھے. پر اسے کیا خبر تھی. کہ اسکے باسیوں کی نئی نسلیں جو ضرورتوں سے تجاوز کرکے خواھشات کے پیچھے بھاگ کھڑی ھوں گئیں. انکی ایسی روش اس کی خوبصورتی کے درپے ھوجائے گی . پھر اس میں اور گھس بیٹھیے آتے گئے جنہوں نے بستیاں بسائیں پرمعلوم نہ تھا کہ وہ یہاں آکر کیوں بسے ھیں؟ پھر ان سے کچھ ایسے نو دولتیے آئے جنہوں نے اسکی خوبصورت گزرگاھوں کو وقتی دولت اکٹھی کرنے کی خاطر روند دیا اور روند رھے ھیں . بس ایک ھی جواب ھے کہ ھم نے مدتوں سے ھرےبھرے آشیانہ کو جو سکون، روجانی مسرت کا قدرتی خزانہ تھا کو چند کاغذوں کے بدلے اپنی ملکیت میں لے لیا ھے. اور دوسری طرف اسکو کاٹ کاٹ دینے والے ایسے جن کے زندگی کی معانی اس خزانہ کو لوٹ کے شاہ بنے رھنا ھے. یہ روگ گاؤں کو گہرے زخم دے گیا. گاؤں نے اپنی ندیاں، نالے خشک کرلئے یوں اسکے پرانے گھنے درخت اس صدمے سے دوچار ھوکر ابدی نیند سوگئے پھر شروع ھوا اس گاؤں پر ظلم کا راج... ھر طرف انسان ھی انسان گاڑیوں،موٹربائیکس کا ھنگام ۔۔ اب اس گاؤں کے دن میں قرار ھے نہ رات میں چین، نہ محبت کے بول ھیں، نہ بے غرض دوستی کے نشان نہ فضاؤں میں پہلے جیسی خوشبو ھے نہ ھواؤں میں پہلی جسیی رنگت ، اسکی صبح میں بیگانگی کا احساس لیے ھوۓ آتی ھے. شام ھجر جیسا روگ لاتی ھے.لوگ ھیں پر اسکے غمگسار کہاں. بے اعبتباری ھے، خوف ھے، حسد ھے، حرص و طمع کی دلدل ھے خدشات ھیں. ؛؛؛؛؛؛؛؛ اب گاؤں ایسے ھے جسیے سرائے میں بیٹھا مسافر جو رخت سفر باندھے بیٹھا ھے، مغموم ھے ، بے چین



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Shabir

Read More Articles by Ghulam Shabir: 10 Articles with 3846 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2020 Views: 718

Comments

آپ کی رائے