عورت، محبت اور شرم

(Syeda Khair-ul-Bariyah, Lahore)

عورت محبت اور وفا کی مورت مانی جاتی ہے لیکن محبت میں سب سے زیادہ غلطیوں کا ارتکاب بھی عورت ہی کرتی ہے۔ یہ میری انتہائ مختصر تحریر ہے جو ایک عورت ہو کے عورت کے لیے لکھی ہے۔ محبت میں روتی ہوئی عورت محبت سے زیادہ اپنا سب کچھ کسی کو سونپنے پہ روتی ہے۔ عورت جب محبت میں شرم نہیں کرتی تو پھر وہ سب کچھ کرتی ہے اور اس سب کچھ کے بعد اس سب کچھ کا الزام سب کا سب مرد پہ ڈال دیتی ہے یعنی پہلے ہاتھ پکڑتی ہے پھر چیختی ہے ہاتھ پکڑا کیوں؟ اس سلسلے میں وہ دو جھوٹ بولتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ عورت ہے جس کا مطلب ہے "چھپی ہوئ چیز" اور دوسرا جھوٹ یہ کہ اسے محبت ہے۔ جس محبت کا انجام زندگی کو تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کرنا ہو وہ جزبات کے ابال کے سوا کچھ بھی نہیں۔ محض حاصل کی ضد اور حاصل نہ ہونے پہ ہر سکھ چھن جانے کی خواہش۔
اس تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ مرد بالکل صحیح ہے بلکہ اس کا مقصد عورت میں اس شعور کو بیدار کرنا ہے کہ اپنے نقصان کی زمہ دار وہ خود بھی ہے۔ جب وہ اپنے اندر جھانکے گی ہی نہیں، یہ دیکھ ہی نہیں پاۓ گی کہ اس نے بھی غفلت برتی تب تک وہ خود کو مظلوم تصور کرتی رہے گی اور جس سے محبت کی دعوےدار ہے اس کے سر کے بالوں تک آ جاۓ گی۔ پھر وہ کہے گی اسے محبت ہے؟
انسان خطا کا پتلا ہے۔ دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔ خود کو معاف کرنا سیکھیں اور ایک اچھی اور بہترین زندگی کی طرف بڑھیں۔ ہر چیز کی حد ہوتی ہے اور یقین جانئیے محبت کی بھی حد ہے۔ اگر آپ محبت کے لفظ کو پیٹنے بیٹھ جائیں گے تو ابھر کر نفرت سامنے آۓ گی۔
عورت جب محبت میں خودی کا سودا کرتی ہے تو نہ محبت رہتی ہے نہ خودی۔ عورت پردے میں خوبصورت لگتی ہے اور اس کی محبت بھی حجاب کی طالب ہے۔

عورت فطرت سے عورت رہے۔ مرد کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔

کیا کروں لکھاری ہوں۔ معاشرہ رگوں میں چبھتا ہے تبھی تو قلم چلتا ہے۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda Khair-ul-Bariyah

Read More Articles by Syeda Khair-ul-Bariyah: 21 Articles with 15612 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jul, 2020 Views: 949

Comments

آپ کی رائے
اس تحریر کا انداز بیان ایسا رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ عورت ذہن میں عدالت بناۓ اور خود کٹہرے میں کھڑی ہو کر خود کو وکیل بنا کر اپنے خلاف کیا مقدمہ ہار جاۓ۔ ایسا کیوں ضروری ہے؟ایسا رہائ کے لیے ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ہماری کوئ بہت قیمتی چیز ہم سے ہی گم جاۓ تو ہم اپنی غلطی کو جلدی معاف کر دیتے ہیں۔ لیکن کسی اور سے گم جاۓ تو صبر اکثر دیر سے آتا ہے۔ اسی طرح عورت جب خود کو اپنے نقصان کا قصور وار ٹھہراۓ گی ، اپنے لیے سخت الفاظ استعمال کرے گی۔۔۔مرد کی غلطی ایک طرف رکھ کے یہ دیکھے گی کہ میں کہاں غلط تھی تبھی خود کو خود کی سوچ سے آزاد کر پاۓ گی۔ جب تک مظلوم بنی رہے گی روتی رہے گی۔ اس تحریر میں سختی سے مخاطب ہونے کا مقصد عورت کو آزاد کروا کر اس کی مدد کرنا ہے۔ کیونکہ اپنے اردگرد بہت سی خواتین کو اس مسئلے میں مبتلا دیکھا ہے۔۔۔۔شاید کوئ رہائ پاۓ۔ آمین
By: Syeda Khair-ul-Bariyah, Lahore on Aug, 22 2020
Reply Reply
1 Like