آہ کشمیر

(Ainus Saba, )

کشمیر جنت کی مانند ہے اور اس میں رہنے والے لوگوں کی زندگی پہاڑوں کے ان راستوں کی طرح ہے جو بل کھاتے ہوئے ان پہاڑوں میں سے نکلتی ہیں اتنے خوبصورت علاقے میں رہتے ہوئے بھی یہاں کے لوگ پرسکون اور پرامن زندگی بسر نہیں کر رہے،پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ہم سب خدا کی مخلوق ہیں۔ہمیں اللّٰہ تعالیٰ نے آ زاد بنایا ہے۔پھر لوگ ہمیں محکوم کیوں بناتے ہیں؟لوگ ہم پر کیوں ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں؟کیوں ہم غلام بنے ہوئے ہیں؟ ذرا سوچئے! ہم ہی کیوں؟کشمیر جنت کی مانند ہے۔کشمیر وہ خوبصورت باغ ہے۔جہاں ہر طرف سبزہ اور ہریالی ہے،لہلہاتے کھیت ہیں۔ خوبصورت پھل،پھول اور پودے ہیں۔ہر چیز خوشی اور مسرت سے اﷲ تعالیٰ کی یاد میں مصروف ہے۔لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں ہماری زندگی میں طوفان ہے،اک آ ندھی ہے جس نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ہم بھی اس جنت میں رہنا چاہتے ہیں۔جہاں ہر طرف خوشی اور مسرت ہو،ہر طرف ہریالی اور ہرے بھرے کھیت ہو۔اے رب کائنات! ہماری زندگیوں سے اس طوفان کو ختم کر دے، اس آ ندھی کو دور کر دے۔ کیونکہ کشمیر ہماری جنت ہے اور مجھے اپنی جنت میں رہ کر خوشی اور مسرت سے زندگی بسر کرنی ہے۔اے خدائے کن فکاں! تو نے ساری دنیا کی تکالیف کو دور فرما دیا، لوگوں کی تاریک زندگیوں کو روشن بنا دیا ہماری تاریک زندگیوں کو بھی روشن بنا دے اے رب کائنات! ساری دنیا آ زاد ہے۔ میں آ ج بھی قید ہوں اور محکومیت کی زندگی بسر کر رہا ہوں ساری دنیا کو تو نے دردو آ لام سے نجات عطا کی پھر میں کیوں آ زاد نہیں؟بچہ! اپنی ماں سے مخاطب ہے کہ اے اماں! کس کے خوف سے تو مجھے سلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر لوری سنا کر تو مجھے بہلانے کی کوشش کرے گی تو میں اتنی آ سانی سے بھولنے والا نہیں ہوں، کیونکہ اس طوفان نے، نہ جانے میرے کتنے پیاروں کو مجھ سے جدا کر دیاآ ج مجھے تفصیل سے بتا دیں کے میرے ابو کہاں ہے؟اور اس کے علاوہ میں اپنے کن کن اپنوں کو گنوا چکا ہوں میرے ابو واپس کیوں نہیں آ تے جو ہمارے سائبان بن کر ہمیں ان تکا لیف سے چھٹکارا دلا دیں کیوں لوگوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں؟ کیوں لوگ ہمارے حق میں آواز نہیں اٹھاتے؟ جب انڈین سامراج ہم پر ظلم و تشدد کر رہا ہو تو لوگ ہماری مدد کو کیوں نہیں آتے؟ پیاری اماں جان! آ ج مجھے تفصیل سے بتا دیں کہ ہم نے اور کتنا ظلم و تشدد برداشت کرنا ہے؟ اور کتنی تکلیف سہنی ہے؟ ایسا بھی ہم نے کیا جرم کر دیا ہے جس کی پاداش میں ہر روز تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں؟اے رب کائنات! پاکستانیوں کو توفیق دے کہ وہ ہمارے حق میں آ واز اٹھا ئے ہمارے لئے انڈیا سے لڑیں، اور ہمیں آ زاد کرا دیں۔ ہماری خوشیاں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔انھوں نے ہی ہمیں آ زاد کرا نا ہیاور ہمیں ہماری خوشیاں لوٹانی ہیں۔ہمیں اپنی اس جنت میں رہنا ہے۔ جہاں طوفان کا گزر بھی نہ ہو، بلکہ خوشیاں ہی خوشیاں ہوں۔ ایک دن کشمیر بنے گا پاکستان (انشا ء اﷲ)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 550 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ainus Saba
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: