نا معلوم مگر انتہائی اہم پیش آمدہ مسائل قربانی

(Tanvir Ahmed, )

قربانی کس شخص پر واجب ہے ۔سونے،چاندی ،مال تجارت اور گھر میں روزمرہ استعمال کی چیزوں سے زائد سامان کی قیمت لگا کر اسمیں نقدی رقم جمع کی جائے ،ان پانچوں کا مجموعہ یا ان میں سے بعض ایک دو چیزیں مل کر،اگر ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت (جو آجکل تقریبا 73000تہترہزار روپے ہے)کے برابر ہوں تو اس کے ذمہ قربانی واجب ہے۔ تین جوڑے کپڑوں سے زائد لباس ،بڑی بڑی دیگیں ،رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں اور ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ پلاٹ ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں اور ٹی وی وغیرہ انسانی ضروریات میں داخل نہیں ،اس لیے ان جیسی چیزوں کی قیمت بھی حساب میں لگائی جائے گی٭ اگر قربانی واجب ہے اور نقد رقم نہیں تو قرض لے کر قربانی کرنا لازم ہے اوربعد میں قرض کی رقم ادا کرنا لازم ہو گا۔ ٭فضول چیزیں جو اپنی ضرورت وحاجت کی نہ ہوں بلکہ نمودونمائش کے لئے ہوں ان کی قیمت کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے گا ٭ جس قرض کے ملنے کی توقع وامید ہوخواہ وہ نقدی کی صورت میں کسی کو دیاہو یا کوئی چیز فروخت کی ہواور قیمت وصول کرنا باقی ہو،ان سب کو شامل کر کے حساب کیا جائے گااور تمام چیزوں میں قیمت فروخت کے اعتبار سے قیمت لگائی جائے گی ٭ اگر قربانی واجب ہے اور نقد رقم نہیں تو قرض لے کر قربانی کرنا لازم ہے اوربعد میں قرض کی رقم ادا کرنا لازم ہو گامسئلہ۔قربانی صرف اپنی طرف سے واجب ہے، اپنی اولاد یا اپنی بیوی یا والدین کی طرف سے قربانی کرنا واجب نہیں ،اگر ان میں سے ہر ایک مالک نصاب ہے تو ہر ایک پر الگ الگ قربانی واجب ہے ہاں اگر اولاد اپنی سب کمائی مالکانہ طور پر والد یا سربراہ کو دے دیتی ہے اور اولاد کی ملکیت میں کوئی اور مال اور ضرورت سے زیادہ سامان نصاب کے برابر نہیں تو صرف والد یا سربراہ وسرپرست پر قربانی ہو گی، اولاد و ماتحت پر نہیں ہو گی٭قربانی کاحکم لاگوہونے کے لئے کسی شخص کا بر سر روزگار ہونا ضروری نہیں،اگر کوئی شخص نصاب کا مالک ہے تو اس پر قربانی واجب ہے اگرچہ وہ بر سر روزگار نہ ہو٭عورتوں کے پا س عمومااتنابقدر نصاب زیور ہوتا ہے چاہے پہنا ہوا استعمالی ہویا نہ ہو،جس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے اگرچہ وہ بیوہ ہی کیوں نہ ہو٭اگر ایک گھر میں کئی افراد ہیں اور سب صاحب نصاب ہیں تو سب پر الگ قربانی واجب ہو گی ٭بعض لوگ ایساکرتے کہ باری باری ،کسی سال اپنے نام سے اور کسی سال اپنی بیوی یا والدین کے نام سے قربانی کرتے ہیں،یہ صورت صحیح نہیں ،اگر قربانی کرنے والا خود صاحب نصاب ہے تواس کو پہلے اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے ٭میت (مرحوم )کی طرف سے ایصال ثواب کے لئے قربانی کرنا جائز اور مستحسن عمل ہے اوراسی طرح اپنی طرف سے نفلی قربانی کر کے اس کا ثواب ایک سے زیادہ مردوں اور زندوں کو بخشنا درست ہے اگرگنجائش ہو تو اپنی قربانی کے ساتھ اپنے پیارے مرحومین کے لیے ضرورالگ قربانی کرنی چاہیے ،بڑے ثواب کا کام ہے ۔قربانی نہ کرنے کی وعید ۔حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص طاقت کے باوجود قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔یعنی ایسا شخص اﷲ تعالی کی بارگاہ میں حاضری کے قابل نہیں
کونسے اور کیسے جانوروں کی قربانی ہو گی؟ مسئلہ ۔بکرا ،بکری اور بھیڑ کی عمر ایک سال ،گائے بھینس دو سال، اونٹ پانچ سال، ہاں چھ ماہ کا دنبہ موٹا تازہ ،صحت مند ہو اور دیکھنے میں سال کا لگتا ہو تو اس کی بھی قربانی جائز ہے ،شریعت میں عمر پوری ہونے کا اعتبار ہے دانتوں کے نکلنے کا اعتبار نہیں ،دانتوں کا ہونااحتیاطاپوری عمرہونے کی علامت ہے٭مسئلہ۔ خصی جانور کی قربانی افضل ہے کیونکہ اس کا گوشت اچھا ہوتا ہے اور خود حضور ﷺ نے خودایسے جانوروں کی قربانی کی ٭بانجھ جانور کی قربانی بھی درست ہےَ۔خنثٰی جانور کی قربانی درست نہیں کیونکہ یہ عیب ہے۔٭گھر میں پالے ہوئے جانور مین نیت کی کہ اس کی قربانی کروں گا تو اس نیت سے اسی خاص جانور کی قربانی لازم نہیں ہوتی ،ایسے جانور کو بدلنا اور فروخت کرنا بھی جائز ہے۔٭اور اگر قربانی کی نیت سے خریدا اور اس کے بدلہ میں دوسرا جانور دینا چاہیں تو پہلے جانور سے کم قیمت والانہ دیں اور اگر کچھ قیمت کا فرق ہو تو اتنی قیمت صدقہ کر دیں۔٭اگر کسی صاحب نصاب آدمی کی خریدی ہوئی قربانی میں عیب پیدا ہو گیا تومالدار، صاحب نصاب پر لازم ہو گا کہ اس کے بجائے بے عیب جانور کی قربانی کرے اور اگر فقیر ہو تو اسی عیب دار کی قربانی کرے٭اگر کسی جانور کو جلدی بیماری ہو اور اس کا اثر گوشت نہ پہنچا ہو تو قربانی درست ہے ورنہ درست نہیں۔٭جس جانور کے پیدائش ہی سے سینگ نہیں لیکن عمر اتنی ہو چکی ہے جتنی قربانی کے جانور کے ہوتی ہے تو قربانی درست ہے اوراگر سینگ نکل آئے اور ان میں ایک یا دونوں کچھ ٹوٹ گئے یا خول اتر گیاتو بھی قربانی درست ہے اور اگر بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے تو درست نہیں ۔٭بھیڑ، بکری اور دنبی کے ایک تھن سے اور بھینس ،گائے وغیرہ کے دو تھنوں دودھ نہ اترتا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ۔ مسئلہ۔قربانی کے جانور کے تھنوں میں اگر دودھ اتر آئے اور ذبح کا وقت نہیں آیا توتھنوں پر ٹھنڈا پانی چھڑک دیں تاکہ دودھ اترنا رک جائے اور اگر دودھ نکال لیا تو اسکی قیمت کو صد قہ کردیں ٭مسئلہ ۔اگر مادہ(حاملہ) جانور کی قربانی کی اور اس کے پیٹ میں سے بچہ نکل آیا تب بھی قربانی ہو گئی اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کر دیں٭قربانی کے جانو ر کا بال کاٹنا درست نہیں ، اگر کاٹ لیے تو اتنی قیمت کا صدقہ کرنا ضروری ہو گا٭بڑے جانور میں سات سے کم افراد بھی شریک ہوں تب بھی قربانی درست ہے٭قربانی کے جانور کی جھول اور رسی صدقہ کرنامستحب ہے اگر خود استعمال کرے یا ہدیہ دے تو جائز ہے اور اگر فروخت کی تو اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے۔

حلال جانور کے سات اجزاء حرام ہیں وہ کھانا جائز نہیں ہیں اوروہ یہ ہیں ۱۔بہنے والا خون2 پیشاب کی جگہ (نرو مادہ کی)3خصیے (کپورے) 4پاخانے کی جگہ5 غدود (سخت گوشت)6 مثانہ( پیشاب کی تھیلی)7پتہ۔ اوجھڑی کھانا بالکل حلال ہے۔کوئی کراہت نہیں جب اچھی طرح صاف کرلی جائے٭اگر کسی قربانی کرنے والے قربانی کا گوشت فروخت کیا تو اس کی قیمت کے برابر رقم صدقہ کرنا ضروری ہے۔٭بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کر لئے جائیں ،ایک حصہ اپنے گھر کے لئے ،دوسرا حصہ رشتہ دار اور دوست احباب کے لئے اور تیسرا حصہ فقراء اورمحتاجوں کے لئے ،لیکن اگر اہل و عیال زیادہ ہیں اور گوشت کی خود ضرورت ہے تو سارااپنے گھر کے لئے رکھ سکتا ہے ،گناہ نہیں ہو گا ۔اگر کسی قربانی کرنے والے نے قربانی کا گوشت فروخت کیا تو اس کی قیمت کے برابر رقم صدقہ کرنا ضروری ہو گا ۔اگر ذبح کی تیاری میں عیب پیدا ہو گیا ٹانگ ٹوٹی یا آنکھ خراب ہو گئی تو کوئی حرج نہیں ،قربانی صحیح ہو گی۔٭اگر ذبح کے دوران مرغی یا کسی جانور کا گلاکٹ گیا یعنی الگ ہو گیا تو اس کا کھانا درست ہے مکروہ نہیں البتہ جان بوجھ کر اتنا زیادہ ذبح کرنا مکروہ ہے ،جانور مکروہ نہیں ہو گا۔٭اگر قربانی کے جانور میں شریک افرادمیں سے کسی نے ثواب نیت نہ کی اور نہ ہی واجب ادا کرنے کی نیت کی ،بلکہ گوشت کھانے یا صرف شادی کی دعوت نمٹانے کی نیت کی تو جان بوجھ کر ایسے آدمی کو شریک کرنے کی صورت میں کسی کی بھی قربانی صحیح نہ ہو گی۔مشترک قربانی میں قربانی کاگوشت اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں،وزن کر کے برابر تقسیم کرنا ضروری ہے،اگر کسی حصہ میں کمی بیشی ہو گئی تو سود لینے اور دینے کا گناہ ہو گاالبتہ اگر گوشت کے ساتھ کلہ،پائے وغیرہ کو شریک کر لیا جائے تو کمی بیشی جائز ہے۔قربانی کا گوشت یا چربی یا چھیچھڑ ،سری پائے قصائی کو مزدوری میں نہ دیں بلکہ مزدوری اپنے پاس سے الگ دیں اورقربانی کہ اجرت میں دی ہوئی چیزوں کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہو گاقربانی کرنے والے کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد عید کی نمازتک بال اور ناخن نہ کتروائے حاجیوں کی مشابہت کی وجہ سے خصوصی رحمت کا مستحق ہو گا اور قربانی نہ کرنے والے بھی قربانی کرنے والوں کی مشابہت کریں تو ثواب سے محروم نہ ہوں گے تکبیرات تشریق نویں ذی الحجہ کی نماز فجر سے لے کر تیرہویں ذی الحجہ کی نماز عصر تک فرض نماز کے فورابعدایک مرتبہ، مرد حضرات کے لیے بلند او ر خواتین کے لیے آہستہ آواز سے کہنا واجب ہے اگر نہ کہا تو اس کی بعد میں قضا نہیں توبہ کرنا لازم ہے قربانی کی کھال کی قیمت کا مصرف زکوٰۃ کا مصرف ہے یعنی مسلمان فقیروغریب اور دینی مدارس کے غریب طلباء بہترین مصرف ہیں جس کی حقیقت یہ ہے کہ جس کو دی جائے وہ مالک بن جائے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 101 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Ahmed

Read More Articles by Tanvir Ahmed: 13 Articles with 3907 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ