باعزت میڈیا

(Aqsa Amal, Karachi)


ہمارے معاشرے کا وہ باعزت میڈیا جس کا کیمرہ غریبوں اور سفید پوشوں میں راشن تقسیم کرتے وقت ہی تصویر کھینچنے کے کام آتا ہو۔ جن کا مائیک سڑکوں پر کھڑے لوگوں سے فضول سوال کرنے اور انکی ہنسی اڑانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہو۔ جن کی براہ راست دکھائ جانے والی نشریات اپنے منہ میاں مٹھو بننے اور سیاسی لڑائ جگھڑوں سے بھری ہوں ۔ ایسا باعزت میڈیا جن کے مارننگ شوز کا مقصد اداکاروں، سٹارز ، موسیقار اور ٹک ٹاک کی مشہور شخصیات کو متعارف کرانے کا ذریعہ ہو اور خاص کر اپنے حال پر رونے والے غریبوں کو خیرات دے کر انکی عزت نفس کو ٹھیس پہنچا کر اپنی واہ واہ کروانا ہو۔ ایسا میڈیا جو انعام کا لالچ دے کر عورتوں , نوجوانوں اور بوڑھوں کو سرعام بے شرمی پر اتر کر موسیقی پر رقص کرواتا ہو۔
 
تو ایسے با عزت میڈیا سے کیا امید کہ وہ ملک کا نام روشن کرنے والے نوجوانوں کو دنیا کے سامنے لاۓ ؟ یہ میڈیا محض ریٹنگز بڑھانے کی خاطر اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کرنے والے جوڑے کو مارننگ شو میں بلاتا ہے ۔ یہ میڈیا احمد شاہ جیسے بچوں کو صرف " پیچھے دیکھو پیچھے" کہنے کی وجہ سے دنیا میں متعارف کروانے کا ٹھیکیدار ہے۔ مگر بلاول لطیف داور جیسے کم عمری میں مصنف بننے والے بچوں کو حوصلہ دینے اور متعارف کرانے سے قاصر ہے۔کیونکہ انکے نزدیک یہ معمولی سی خبر ہے۔ اس سے لوگ دل برداشتہ ہو کر یا انٹرٹین ہو کر ریٹنگز کا ذریعہ تھوڑی بنیں گے! یہ میڈیا یہودیوں کے گٹھ جوڑ میں بندھا دجالی فتنہ ایسی خبریں ڈھونڈتا ہے جس میں کسی کا مرنا, چھت سے گرنا, دل دہلا دینے والے حادثے ہونا, خود کشیاں , غیرت کے نام پر قتل, سیاسی چاپلوسیاں , کے الیکٹرک سے پریشان حال لوگوں کے چہرے ،سڑک پر مرتے دم توڑتے زخمی لوگ شامل ہوں۔ کتنی بے حسی ہے کہ یہاں ایک شخص اذیت میں ہو اور دوسرا مدد کے بجائے اسے براہ راست دکھانے میں مصروف ہو! بقیہ انکے پاس کسی کی حوصلہ افزائی کرنا , کسی کے ہنر کو سامنے لانا , ملک کا نام روشن کرنے والے بچوں اور نوجوانوں کو اپنی نشریات کا حصہ بنانے کا وقت ہی نہیں ہے۔ ان کے نزدیک یہ ریٹنگ میں کمی کا باعث ہیں۔
میں نے ساتویں جماعت میں پڑھنے والے چھوٹے سے بچے بلاول لطیف داور کو دیکھا جس کا تعلق پشاور سے ہے۔ اس نے پشتون ہیروز پر ایک کتاب لکھ ڈالی۔ چھوٹی عمر میں یہ اسکی لکھی گئ دوسری کتاب ہے جس کے متعلق سوال کیا گیا کہ آخر پشتون ہیروز پر ہی کتاب کیوں لکھی؟ اس کے جواب میں بلاول نے کہا کہ: " میں نے یہ کتاب اس لیے لکھی تاکہ پشتون عوام میں فخر آۓ , مغرب میں ایک غلط فہمی موجود ہے کہ پشتون ناخواندہ ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ یہ سوچ ختم ہو جاۓ " ۔ بلاول نے اپنی تحقیق کی اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پسندیدہ پشتون ہیروز کو کتاب میں شامل کرے اور یہ ہیروز جن کا ذکر کتاب میں موجود ہے واقعی مانے جاتے ہیں۔اسکی کتاب میں احمد شاہ ابدالی جیسے عظیم جنگجوؤں کی کہانیاں موجود ہیں. مجھے بہت افسوس ہوا! کہ اسے الیکٹرونک میڈیا نے کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔۔۔نہ اس پر کوئی تبصرہ کیا نہ انٹرویو لیا اور نہ ہی اسے فخر پاکستان جیسا کوئی لقب دیا گیا!!۔

میں سمجھتی ہوں کہ احمد شاہ جیسے بچوں کو (جن کے پاس نہ کوئی ہنر ہے نہ ہی صلاحیت , فقط باتیں ہیں جو دوسروں کو ہنسا دیں ) انہیں پروموٹ کرنے کے بجائے بلاول جیسے بچوں کو منظر عام پر لانا چاہیئے۔جو ہماری قوم کا سرمایہ اور ملک کا نام روشن کرنے کا سبب ہیں۔ ہمارے ملک میں بلاول کے علاوہ بھی چھوٹی عمر کے ہنر مند بچے موجود ہیں جنہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سوشل میڈیا تو ان جیسے بچوں کے لئے احساس اور حوصلہ افزائیوں سے بھر جاتا ہے۔مگر الیکٹرانک میڈیا اکثر ہی کام کی باتوں پر خاموش رہتا ہے۔

عجیب ہے کہ میڈیا کا مقصد لوگوں کا درد دوسروں تک پہنچانا, ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا , حوصلہ دینا ( جس میں امیر و فریب ہونے کا کوئ دخل نہ ہو) , حالات کی خبر اور سیاست کا حال لوگوں تک پہنچانا تھا۔

اب بھی مقصد یہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اب دولت حاصل کرنے کے لئے ریٹنگز زیادہ اہم ہیں۔ جس میں زیادہ تر سیاسی جنگوں کو ہوا دینا اور زینب جیسے پردے میں رہنے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہے ! جس کا نقصان میڈیا کو نہیں ملک اور معاشرے کو ہوتا ہے ( ظاہر ہے ان جیسے جرائم کو ہوا دیں گےتو ایسے واقعات میں اضافہ ہی ہوگا ) ۔

ہمارا میڈیا ایک ایسا موضوع ہے جس پر لکھنے سے قلم بھی پناہ مانگنے لگے کہ خدارا بس کرو، یہ تو شیطان سے بھی بڑھ کر ظالم ہے۔ جس پر کسی کی تنقید کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ میڈیا کو کہنا کہ "سد ھر جاؤ اپنے فرض نبھاؤ " بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے ! سوال یہ ہے کہ کیا کبھی میڈیا شفاف ہو پائے گا؟ کیا کبھی یہ ایمان داری سے کام کرے گا؟ جواب مختصر ہے کہ اس بلاۓ جاں کو پوچھے کون اور سنوارے کون !

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqsa Amal

Read More Articles by Aqsa Amal: 3 Articles with 665 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2020 Views: 317

Comments

آپ کی رائے