جب گیند براڈ کے ہاتھ میں آئی

(Sami Chahdury, Karachi)
 
اگر جیسن ہولڈر کو اپنی بیٹنگ لائن پر ذرا سا بھی بھروسہ ہوتا تو شاید اس سیریز کا نتیجہ بھی مختلف ہوتا اور آخری وزڈن ٹرافی بھی سدا کے لیے انھی کے قبضے میں رہتی۔
 
گذشتہ دو برسوں میں ہولڈر نے ٹاس جیت کر 65 فیصد مواقع پر حریف کو بیٹنگ کی دعوت دی اور ان میں سے جیت کی شرح صرف پندرہ فیصد رہی۔ مگر اس کے باوجود ہولڈر ہیں کہ ٹاس جیتتے ہی جھٹ پٹ مخالف بلے بازوں کو آزمانے چل پڑتے ہیں۔
 
گو یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ اگر ڈیرن براوؤ اور شیمرون ہیتمایر اپنے گھر والوں کو منا لیتے اور کورونا کے باوجود ’بائیو سکیورٹی ببل‘ پر اعتماد کر لیتے تو ویسٹ انڈین بیٹنگ گذشتہ دونوں میچز میں یوں رسوا نہ ہوتی۔
 
مگر جب میچ شروع ہوتا ہے تو پھر مقابلہ برابری کا ہوتا ہے۔ وگرنہ پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد بین سٹوکس بھی یہی اگر مگر کی گردان دہرا سکتے تھے کہ اگر روٹ فٹ ہوتے یا کاش میں نے سٹورٹ براڈ کو پلئینگ الیون میں شامل کر لیا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی وغیرہ وغیرہ۔
 
بہر حال یہ سیریز اس لحاظ سے ہمیشہ ناقابلِ فراموش رہے گی کہ کس طرح دو ٹیموں نے کورونا کے خطرات کے باوجود ہمت باندھی اور کرکٹ کی بحالی کی خاطر بائیو سکیورٹی ببل کی تنہائی اور بوریت میں رہنے جیسے کڑے فیصلے کیے۔
 
اب جبکہ سیریز ختم ہو چکی ہے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر پہلے میچ میں بھی بین سٹوکس نے سٹورٹ براڈ کو ٹیم میں شامل کیا ہوتا تو سکور لائن یقیناً مختلف ہوتی۔
 
 
کل سٹورٹ براڈ پانچ سو ٹیسٹ وکٹوں کا سنگِ میل عبور کر گئے۔ ان سے پہلے بھی اس ایلیٹ کلب میں کئی لیجنڈز کھڑے ہیں مگر کیا ان کے بعد بھی کوئی اس صف میں کھڑا ہو پائے گا؟ عین ممکن ہے کہ سٹورٹ براڈ پانچ سو وکٹوں کا ہدف عبور کرنے والے آخری بولر ہوں۔
 
کیونکہ کرکٹ جس تیزی سے بدل رہی ہے اور نئے بولرز کی ترجیحات جس طرح تغیرپذیر ہو رہی ہیں، بہت مشکل ہے کہ ٹی ٹونٹی اور لیگ کرکٹ کے ہوتے ہوئے کوئی بولر اتنی طویل اور متواتر ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا سوچے بھی۔
 
کیونکہ ہر انسان کی طرح کرکٹرز کو بھی اپنا معاشی مستقبل محفوظ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور معاشی آزادی کے لئے ٹی ٹونٹی اور آئی پی ایل و بگ بیش ایسے مواقع ٹیسٹ کرکٹ سے کہیں زیادہ آسان بھی ہیں اور طویل مدتی بھی۔
 
 
سو، ان حالات میں رہ کر سٹورٹ براڈ کا پانچ سو وکٹوں کے سنگِ میل تک پہنچ جانا بلاشبہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور اس کامیابی کا ذائقہ اس امر سے سوا ہو جاتا ہے کہ براڈ کی یہ پرفارمنس محض کسی انفرادی سنگِ میل پہ منتج نہیں ہوئی، یہ ٹیم کو بھی میچ اور سیریز دونوں جتوا گئی۔
 
ویسٹ انڈین کوچ فِل سمنز نے بجا طور پہ سٹورٹ براڈ کو پلییر آف دی سیریز قرار دیا۔ کیونکہ کرکٹ ویسے تو بائیس کھلاڑیوں کے مقابلے کا نام ہے مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ ایک کھلاڑی اکیلا ہی ایسی فارم دکھا جاتا ہے کہ باقی سب کی کاوشیں اس کی گرد میں ہی چھپ جاتی ہیں۔
 
سٹورٹ براڈ نے بھی اس میچ میں کچھ ایسی ہی پرفارمنس دکھائی۔ پہلی اننگز میں دھواں دھار بیٹنگ کر ڈالی جس نے میچ میں واپسی کا راہ کھوجتے ہولڈر کی ٹیم کا سارا مورال ہوا میں اڑا دیا۔ پھر اس کے بعد جب گیند ان کے ہاتھ میں آیا تو غرب الہند کے ڈریسنگ روم میں سبھی چراغ بجھ سے گئے۔
 
سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر براڈ اس فارم میں نہ ہوتے تو کیا ہولڈر کی ٹیم اور روٹ کی ٹیم میں مقابلہ ایسا ہی بے جوڑ ہوتا؟
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: