اگر اب بھی نہ سمجھے تو

(Syed Mujtaba Daoodi, Karachi)


امن و امان، خوش حالی، عزت اور اقتدار سب اللہ کریم کی عطا کردہ نعمتیں ہی تو ہیں ! لیکن جب کوئی قوم یا قومیں اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے سر کشی پر اتر آتی ہیں تو اللہ پہلے اُن پر خوف و ہراس طاری کر تا ہے اور پھر اپنی دی ہوئی نعمتیں چھین لیتا ہے۔ یہ آپس کی مار کاٹ، خانہ جنگیاں، یا دشمنان دین کی مسلط کردہ جنگیں، قدرتی آفات، زلزلے ، طوفان اور وبائیں، پے در پے طرح طرح کے حادثات کا وقوع پذیر ہونا یہ سب اللہ کا نازل کردہ عذاب ہی تو ہیں !جن کا بنیادی سبب کفرانِ نعمت اور ناشکری ہے۔

ہم نے اگر قرآن مجید کی اشاعت کے لیے کاغذ۔ پرنٹنگ پریس اور سیاہی (اِنک) ہی بنا لی ہوتی تو شاید کچھ فرض کفایہ ادا ہوجاتا لیکن ہم تو حرمین شریفین کے لیے دنیا سب سے بڑا ساؤنڈ سسٹم اور ائیر کنڈیشننگ نظام بھی یہودی کمپنیوں ہی سے خریدتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آب زم زم بھی اب کافروں کی کمپنیاں ہی نکالتی ہیں ! تسبیح اور جا نمازیں چین سے آتی ہیں اور احرام اور کفن جرمن مشینوں پر تیار ہوتے ہیں ۔ اگر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سعودی عرب کو بھیڑیں سپلائی کرنے سے انکار کردیں تو مسلمان حج پر قربانی تک نہیں کر سکیں گے۔ ہم آخر کس برتے پر خود کو دنیا کی عظیم ترین قوم سمجھے بیٹھے ہیں ؟‘‘

ہم اپنی مسجدوں میں یہودیوں کے ایجاد کیے اور بنائے ہوئے بجلی کے پنکھوں اور ائیر کنڈیشنر (اے سی) لگا کر عیسائیوں کی بنائی ہوئی ٹونٹیوں سے وضو کر کے، کافروں کے بنائے ہوئے ساؤنڈ سسٹم پر اذان دے کر اور لا دینوں کی بنائی ہوئی جا نمازوں پر سجدے کر کے اُن ہی سب کی بربادی کے لیے دعائیں کرتے ہیں ! ہم دوائیں بھی یہودیوں ہی کی بنائی ہوئی کھاتے ہیں بم اور بارود بھی کافروں ہی کا استعمال کرتے ہیں۔

مسلمانوں نے دنیا کا ۹۵ فی صد علاقہ اسلامی عروج کی پہلی صدی ہی میں فتح کرلیا تھا لیکن اُس کے بعد مسلمان ساڑھے تیرہ سو سال اس علاقے کے لیے ایک دوسرے سے لڑتے اور یکے بعد دیگرے ایک ایک کر کے انہیں گنواتے رہے۔ہمارے علم، فلسفے، سائنس اور ایجادات کی ۹۵ فی صد تاریخ بھی اسی ابتدائی ترین سو برسوں تک محدود رہی۔ ہم نے پچھلے ایک ہزار سال میں خود اپنوں ہی سے لڑتے رہنے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہنے کے سوا اور کیا کیا ہے؟

یہ ۲۰۲۰ ہے۔ آپ ایک ہزار سال پیچھے چلے جائیے آپ کو محمود غزنوی ہندستان پر حملے کرتا ملے گا۔ ہسپانیہ میں مسلمانو ں کے ہاتھوں آپ مسلمانوں ہی کے گلے کٹتے ہوئے پائیں گے۔ ترکی میں آپ کو سلجوق تلواریں اُٹھائے آپس ہی میں ایک دوسرے کو دہلاتے نظر آئیں گے۔ عرب میں آپ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی دیکھیں گے۔ سنی شیعوں کے اور شیعہ سنیوں کے سر اُتارتے نظر آئیں گے۔ مسلمان ہی مسلمانوں کی مسجدیں جلاتے دکھائی دیں گے اور مسلمان ہی مسلمانوں کے سروں کے مینار بناتے مل جائیں گے۔

اس طرح آپ جتنا آگے بڑھتے جائیں آپ کو مسلمان دوسرے مسلمانوں کا خون بہاتے اور درمیانی وقفے میں حرام خوری کرتے نظر آئیں گے۔ ہم نے ان ہزار برسوں میں حرام خوری کے سوا اور کیا ہی کیا ہے ؟ ہم ایک ہزار سال سے کنگھی سے لے کر نیل کٹر (ناخون کاٹنے کا چھوٹا سا آلہ ) تک اُن ہی لوگوں کا بنایا ہوا استعمال کر رہے ہیں جنہیں ہم دن میں پانچ بار بد دعائیں دیتے ہیں ۔

اب ہمارا اور ہمارے تمام مسائل کا ایک اور صرف ایک ہی علاج ہے کہ سب سے پہلے ہم سیدھے سچے اور خالص مسلم بن جائیں ۔ نہ شیعہ نہ سنی۔ نہ دیو بندی نہ وہابی۔ نہ بریلوی نہ خانقاہی۔ اور توبہ کریں فرداً فرداً اور اجتماعی۔

ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے بغیر۔۔ یاد رہے کسی مسلک اور مذہب کی نہیں صرف اور صرف اللہ کی رسی کو ۔ ۔اور اسلام میں پورے کا پورا داخل ہوئے بغیر۔ اور قرآن کو محض طوطے کی طرح پڑھ لینے اور یاد کر لینے کے بجائے ایک ایک آیت کو سمجھ کر پڑھنے اور کتاب ہدایت کی ہر ہر ہدایت پر عمل کیے بغیر، اور کتاب ہدایت قرآن اور نبی کریم ﷺ کے اُسوہ حسنہ کو اپنے کردار میں ڈھالے بغیر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔

اس کے سِوَا جو کچھ ہے وہ ابلیس کے وَسوَسے ہیں اور بس ۔ اس لیے کہ۔ ۔لا یغیرو ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم۔ ۔جتنی جلدی ہو سکے ہم جھوٹ بولنا چھوڑ دیں، ظلم اور کرپشن کے قومی دھارے سے باہر آجائیں ۔ نہ خود ظلم کریں نہ اپنے اوپر یا کسی اور ظلم ہونے دیں ۔ ظلم اور ظالم کے خلاف سر سے کفن باندھ کے کھڑے رہیں

اگر ہم جھوٹ ظلم اور بد عنوانی و بے ایمانی کو تین طلاق دے کر آگے بڑھے تو مستقبل عدل و قسط اور مستضعفین فی الارض کی پیشوائی کا ہے ظالموں، اور منافقوں کا ہرگز نہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Mujtaba Daoodi

Read More Articles by Syed Mujtaba Daoodi: 37 Articles with 13276 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2020 Views: 197

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ