دیوارِ سندھ (رنی کوٹ)

(Dara Fahad, )

تاریخی مقامات دنیا بھر میں موجود ہیں جو تاریخی حیثیت رکھتے ہیں جن میں قدیم مساجد، قلعے، مندر اور بھی بہت سارے مقامات ہیں ایسے ہی ایک بہت پرانا اور تاریخی قلعہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع جام شورو کے سن شہر سے 35 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے جس کو دیوارِ سندھ(رنی کوٹ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

رنی کوٹ ایک پہاڑی سلسلہ کھیرتھر میں موجود ہے جس کی لمبائی 32 کلومیٹر ہے، اس تاریخی اور دل کو لبھانے والی دیوار میں داخل ہونے کے چار راستے سن گیٹ، آمری گیٹ، شاہ پیر گیٹ اور موہن گیٹ کے نام سے جانے جاتے ہیں، سن گیٹ کا نام سن شہر سے آنے والے راستے کی وجہ سے پڑا اسی طرح آمری کا گیٹ ماضی کے آباد شہر آمری کے راستے سے پڑا، جبکہ موہن کوٹ کی وجہ سے تیسرے داخلے راستے پر موہن گیٹ نام پڑا اور شاہ پیر گیٹ کے نام کا سبب ابھی تک تاریخ میں معلوم نہیں ہوا، تاریخ کی بات ہوئی ہے تو ذکر کرتے چلیں کہ رنی کوٹ کی اب تک کوئی حقیقی تاریخ معلوم نہیں ہوئی جس سے پتہ لگایا جائے کس زمانے میں بنا اور کس نے بنوایا۔ ویسے کچھ تاریخدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دیوار کورؤ اور پانڈوں کے زمانے کا بنا ہوا ہے۔

(دیوارِ سندھ) رنی کوٹ کے احاطے کے اندر تین چھوٹے کوٹ واقع ہیں جن میں میری کوٹ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کے بادشاہ کی رہائش گاہ ہوا کرتی تھی، دوسرا موہن کوٹ تیسرا شیر گڑھ کوٹ جو سب سے اونچائی پر بنا ہوا ہے، جس کے اندر پانی جمع کرنے کے دو کنویں بھی بنے ہوئے ہیں، اس کوٹ تک جانے والوں کو ہی پتہ ہے کتنا دشوار راستہ سر کرکے پہنچنا پڑتا ہے۔

رنی کوٹ کے اندر میٹھے پانی کا ایک قدرتی چشمہ ہے جو سال بھر چلتا رہتا ہے ، رنی کوٹ کے اندر کچھ بلکل چھوٹے گاؤں بھی ہیں اور وہ لوگ کئی پیڑہیوں سے رہتے آرہے ہیں آج کے زمانے میں وہ ابھی تک بجلی، گئس جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ چشمے کا پانی ایک جگہ تالاب کی شکل میں ہے جسے مقامی لوگ پرین جو تڑ (Fairy’s Pond) بولتے ہیں ان لوگوں کا ماننا ہے کہ بہت سال پہلے یہاں پریاں آکر نہایا کرتی تھیں جس وجہ سے ان کو پرین جو تڑ کہا جاتا ہے۔

رنی کوٹ اور اس کے اندر بنے کوٹ جن کی تاریخ ابھی بھی دھندلی ہے لیکن اس کو دیکھ کر ہم صرف اندازہ ہی لگاسکتے ہیں اور دیکھ کر حیران ہی ہو سکتے ہیں کہ اس زمانے میں بغیر کسی جدید آلات کے باکمال کام کیا گیا ہے۔ تاریخی مقامات کے گھومنے والوں کو اس جگہ ایک مرتبہ ضرور جانا چاہئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dara Fahad

Read More Articles by Dara Fahad: 8 Articles with 3807 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2020 Views: 196

Comments

آپ کی رائے