۵ اگست : امرناتھ سے ایودھیا تک

(Dr Salim Khan, India)

وزیر اعظم نریندر مودی نے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد 5 اگست کو غیر معمولی اہمیت کا دن بنا دیا۔ اپنے پہلے سال میں اس دن انہوں کشمیر کی دفع 370کو ختم کروایا اور دوسرے سال رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اس لیے یہ سوال زیر بحث آجاتا ہے کہ آخر اس تاریخ کے آتے آتے مودی جی پر یہ جنونی کیفیت کیوں طاری ہوجاتی ہے؟ اس سوال کا اصلی جواب تو وہی دے سکتے ہیں لیکن اس طرح کے سوال ان سے پوچھے نہیں جاتے ۔ ان سے تو مسخرے سوال کرتے ہیں کہ وہ آم کاٹ کر کھاتے ہیں یا چوس کر کھاتے ہیں اور وہ اس کا خوب مزہ لے لے کر وہ جواب دیتے ہیں ۔ بھکت اس جواب لطف اندوز ہوتے ہوئے بھول جاتے ہیں بازار میں آم کس قدر مہنگا ہوگیا ہے یا ان کی خالی جیب کا سوراخ کتنا بڑا ہوگیا؟ مودی جی کے ہیجان کی بنیادی وجہ تو یوم آزادی پر لال قلعہ سے ان کی تقریر ہوتی ہے۔ ابتدا میں وہ وہاں آکر خواب دکھاتے مثلاً سوچھ بھارت(پاک صاف بھارت)، میک ان انڈیا ، اسٹارٹ اپ انڈیا وغیرہ وغیرہ۔ اتفاق سے وہ سارے خواب چکنا چور ہوگئے نہ ہندوستان صاف ہوا ، نہ بنا اور نہ شروع ہوا۔

پانچ سال حکومت کرنے کے باوجود انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا تھا کہ جس کو فخر کے ساتھ بیان کیا جاسکتا تھا۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے ساتھ ساتھ رافیل کی بدعنوانی ان کا پیچھا کررہی تھی اس لیے کوئی ایسابڑا ہنگامہ کرنا ضروری تھا جس کو فخر کے ساتھ بیان کیا جاتا اور پھر سال بھر کے اندر منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھنایا جاتا۔ اسی غرض سے انہوں نے اچانک ریاست جموں کشمیر کی دفع 370کو ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کروادیا ۔ اس سے ان کی ۱۵ اگست والی تقریر کے لیے فضا ہموار کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ۔ دس دن بعد یومِ آزادی کے موقع پر دلی کے لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی شق 370 کو ختم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'کشمیر کے حل لیے ایک نئی سوچ کی ضرورت تھی۔ ہم مسئلے ٹالتے ہیں نہ مسئلے پالتے ہیں۔ ہم نے 70 دن میں وہ کر دکھایا جو مختلف حکومتیں 70 برس میں نہ کر سکیں۔' کشمیر میں ایک سال تک لاک ڈاون جاری رکھنے کا بزدلانہ اقدام کسی حکومت نے 70 تو دور 700سالوں میں بھی نہیں کیا۔

کشمیر کی امرناتھ یاترا بہت مشہور ہے۔ گزشتہ سال یہ یاترا یکم جولائی کو ماسک شیوراتری کے دن شروع ہوئی اور اسے 15 اگست کی شراون پورنیما کو ختم ہونا تھا لیکن 5اگست کو آئین میں ترمیم کی خاطر اچانک 2 اگست کو اسے درمیان ہی میں منسوخ کردیا گیا اور سارے زائرین کو زبردستی کشمیر سے نکلنے کے احکامات جاری کیے گئے ۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دہشت گرد وادی میں کوئی بڑا دھماکہ کرنے والے ہیں لیکن 3دن بعد ایوان پارلیمان میں وزیر داخلہ نے دھماکہ کرکے ساری دنیا کو چونکا دیا اور یاتریوں کو پتہ چل گیا انہیں کس دہشت گردی سے خطرہ لاحق تھا ؟ امرناتھ یاترا کی5 ہزار سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع مودی جی کی بدولت آیا۔ امسال کورونا کی وبا کے باوجود 24جون کوجموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو نے سالانہ امرناتھ یاترا کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے چیئر مین کی حیثیت سے انہوں نے متعلقہ عہدیداروں سے کہا کہ وہ بنیادی ڈھانچے، صحت ، سہولیات، راشن اور ایل پی جی کی سپلائی، بجلی، پینے کا پانی، سکیورٹی بندوبست، ٹیلی مواصلات اور آفات کے بندوبست جیسے تمام بندوبست کو یقینی بنائیں۔ اس وقت تک مندر کے غار پر کیمپ قائم کیا جا چکا تھا اور برف ہٹانے کا کام مکمل ہوگیا تھا ۔

اس کے بعد2 ہفتہ بعد 8جولائی کو اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر کلدیپ کرشن سدّھانے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ امرناتھ یاترا خوش اسلوبی کے ساتھ کرانے کیخاطر سبھی انتظامات کو اسی دن مکمل کرلیں۔انھوں نے راہداری کیمپ FCI گودام، میر بازار میں انتظامات کو حتمی شکل دینےکےلئے افسروں اور انجینئروں کی میٹنگ کی صدارت کی لیکن پھر اچانک کووڈ-19وبا کا بہانہ بناکر 22جولائی کے دن سالانہ امرناتھ یاترا منسوخکردی گئی ۔ کشمیر کے شدید ترین حالات میں بھی امرناتھ یاترا نہ تو کبھی پچھلے سال کی مانند درمیان میں معطل اور اس سال کی طرح منسوخ ہوئی تھی ۔ یہ دونوں شرف مودی سرکار کے حصے میں آئے ہیں ۔ اس طرح مودی جی نے ہندووں کے لیے لال قلعہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ کہ ’’ وہ کشمیر کی کھوئی ہوئی عظمت واپس لائیں گے‘‘ پورا کردیا ۔

کورونا کی بہانے بازی کا جہاں تک سوال ہے تو کیا یہ وبا تیاری شروع ہونے کے بعد پھوٹی؟ ہندوستان کے اندر اپریل 21 سے کورونا کے خلاف جنگ کا باقائدہ آغاز ہوا۔ اس کے دوماہ بعد جموں کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر نے جی ایس مرمو نے تیاریوں کا جائزہ لیا اور 8 جولائی کو اس کی تکمیل کا اعلان بھی کردیا گیا اس لیے یہ بہانہ تو بالکل بے بنیاد ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ جو کورونا پہلگام میں ہے کیا وہ ایودھیا میں نہیں ہے ؟ اتر پردیش کے مقابلے میں جموں کشمیر کے اندر کورونا سے متاثرین اور مرنے والوں کی تعداد چار گنا سے بھی کم ہے اس کے باوجود رام مندر کا سنگ بنیا د رکھا جارہا ہے جبکہ امرناتھ یاترا منسوخ ہوچکی ہے۔ آندھرا پردیش کے تروپتی مندر میں 170 اہلکار اور کئی پجاری کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں اس کے باوجود مندر کھلا ہے لیکن امرناتھ یاترا بند ہوگئی اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کورونا تو صرف ایک بہانہ اصل حقیقت ناکامی کو چھپانا ہے۔

کشمیر میں آئین کی شق 370 کے خاتمہ کا دوسرا ہدف مہاراشٹر اور ہریانہ میں انتخاب جیتنا تھا ۔ مودی اور شاہ نے انتخابی مہم کے دوران اسے خوب اچھالا لیکن دونوں مقامات پر ناکامی ہاتھ لگی ۔ ہریانہ میں تو خیر غیروں کی مدد سے کسی طرح سرکار بن گئی لیکن مہاراشٹر میں اپنوں نے ٹھینگا دکھا دیا۔ اس کے بعد جھارکھنڈ کا انتخاب آیا ۔ بی جے پی پر کشمیر کے تماشے کا فلاپ ہونا واضح ہوچکا تھا اس لیے عدالت عظمیٰ سے رام مندر کا فیصلہ کروایا گیا ۔ وہاں بھی شکست ہاتھ لگی تو دہلی میں رام مندر کو بھول کر سی اے اے اور شاہین باغ پر انتخاب لڑا گیا ۔ اس میں بھی منہ کی کھانی پڑی اس طرح مودی سرکار کی دوسری مدت کار میں پہلے ہی سال ناکامیوں کی ہیٹ ٹرک ہوگئی۔ اب بہار ، آسام اور بنگال کے انتخابات سامنے ہیں اس لیے پھر سے 5اگست کی تاریخ آئی تو مودی جی نے اپنی پرانی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیےنیا تماشہ لگانے کورونا کے باوجود ایودھیا پہنچ گئے ۔

کشمیر کی بابت مودی جی ایک سال بعد یہ تو بتا نہیں سکتے کہ اس عرصے میں کیا حاصل ہوا ؟ تو اس چبھتے ہوئے سوال سے دھیان ہٹانے کے لیے ایودھیا میں نیا ناٹک شروع کردیا گیا ۔ پچھلے سال اپنی تقریر میں وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ شق 370 سے جموں وکشمیر میں صرف علیٰحدگی پسند اور شرپسند عناصر کوشئے ملی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شق کے ختم ہوجانے سے علیٰحدگی پسندی ختم ہوجا نی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امسال جولائی کے اندر سامنے والے اعدادو شمار اس دعویٰ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جولائی میں ہندوستانی فوج نے سرچ آپریشن ے دوران 24 کشمیریوں کو شہید کیا اور مختلف کارروائیوں میں 59 کشمیری زخمی ہوئے۔حکومت ہند نے جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں اس کے مطابق گزشتہ آئینی ترمیم سے قبل 7ماہ میں 188 حملے ہوئے تھے جبکہ اس سال4 ماہ کی کورونا وبا کے باوجو د 120حملے ہوگئے تو یہ کوئی بہت بڑا فرق نہیں ہے۔ اس ایک سال میں 138عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنا پڑا جبکہ پہلے یہ تعداد صرف 126تھی ۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ علٰحیدگی پسندی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے اس سال 110مقامی عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ بیرونی عسکریت پسندوں کی تعداد صرف 14تھی ۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے شق 370 کے ہٹنے علٰحیدگی پسندی میں کمی آئی ہے تو یہ اس کی ہٹ دھرمی ہے۔ جہاں تک حفاظتی دستوں کی ہلاکت کا سوال ہے پچھلے سال یہ تعداد 75 تھی اس سال ابھی تک 35 ہوچکی ہے یعنی اس میں بھی کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔

سیاسی سطح پر اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہوسکتی ہے کہ مرکزی حکومت اپنی سابقہ حلیف محبوبہ مفتی کو رہا کرنے ہمت ابھی تک جٹا نہیں پائی ہے۔ وزیراعظم نے پچھلے سال لال قلعہ سے قوم کو بتایا تھا کہ شق 370 نے ریاست میں بدعنوانی اور خواتین و کمزور طبقوں کے ساتھ تفریق اور نا انصافی کے نظام کو جنم دیا۔یہ بات اگر حقیقت تھی تو اس ایک سال بعد عوام کو گھروں سے باہر نکل کر اس کا جشن منانا چاہیے تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو ریاست جموں کشمیر میں کرفیو لگانے پر مجبور ہوناپڑا۔ جہاں تک معاشی تباہی کا سوال ہے کشمیر چیمبر آف کامرس کے مطابق 5 اگست سے 3 دسمبر 2019کے بیچ3 ماہ میں 17 ہزار 878 کروڈ روپئے کا نقصان ہوا ۔ پچھلے سال سیاحوں کی 80فیصد تعداد شق کے ہٹنے سے قبل اور صرف 20 فیصد بعد میں آئی۔ ان میں سے بھی کتنے سیاح اور کتنے سرکاری افسر تھے کوئی نہیں جانتا؟سیاحت کے شعبے میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ بیروزگار ہوگئے۔ ان میں اکثریت ان روزآنہ کے مزدوروں کی ہے جن کی فلاح کے لیے یہ شق ہٹائی گئی تھی ۔

آئین میں ترمیم کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اب بڑے سرمایہ کارکشمیر کا رخ کرسکیں گے لیکن وہ تو کشمیر کے قریب بھی نہیں پھٹکے ۔ وطن لوٹنے کا خواب دیکھنے والے کشمیری پنڈت پہلے سے زیادہ خوفزدہ ہیں ۔ جموں کے ہندوبھی اپنا ریزرویشن گنوا کر رو رہے ہیں اور باہری لوگوں سے مقابلہ آرائی ان کو پریشان کررہی ہے ۔ باہر کے جن لوگوں ڈومسائیل سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے ان میں دو تہائی تعداد جموں میں ہے۔ یہ سب باتیں تو خیر نہیں ہو سکیں لیکن کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنا کی مصداق امیت شاہ کےایوانِ پارلیمان والے بیان کو چین نے بڑی سنجیدگی سے لے لیا۔شاہ جی نے بڑے زور دار انداز میں کہا تھا جب میں جموں کشمیر کہتا ہوں تو اس میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے ساتھ سیاچن بھی شامل ہے اور میں اس کے لیے اپنی جان لڑا دوں گا۔ لداخ میں در اندازی کرکے چین نے امیت شاہ کو اپنی دلیری دکھانے کا نادر موقع عطا کیا لیکن وہ دہلی سے باہر نکلنے کے ہمت نہ کرسکے اور اب تو گروگرام کے میدانتا اسپتال میں کووڈ کے بہانے آرام فرما رہے ہیں ۔ ایسے میں اگر وزیر اعظم ایودھیا جاکر لمبی چوڑی تقریر نہ کریں تو آخر ان کا لال قلعہ سےخطاب کون سنے گاَ ؟ اور بہار، آسام و بنگال میں ووٹ کیسے دے گا؟ پچھلے ۵ اگست سے اس ۵ اگست تک کا یہ رپورٹ کارڈ جس کو ایودھیا کے بھومی پوجن میں اگنی کنڈ کی نذر کردیا گیا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1251 Articles with 462366 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2020 Views: 176

Comments

آپ کی رائے