کشمیر میں ستیہ پال کے بعد جی ایس مرمو اوراب منوج سنہا ؟

(Dr Salim Khan, India)

رام مندر کے شیلا نیاس کی خاطر 5اگست کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس کے ذریعہ جموں کشمیر کی جانب سے توجہ ہٹائی جائے۔وہ دن ہندو شاستروں کے مطابق تو شبھ نہیں تھا مگر سیاسی ضرورت کے اعتبار سے وہی مناسب ترین تاریخ تھی ۔ اس منحوس دن میں نہ جانے کس نے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ۳۲ سیکنڈ کی شبھ گھڑی تلاش کی لیکن اس سے حقیقت نہیں بدلی۔ امسال جس طرح بی جے پی شیلا نیاس پر نازاں و فرحاں ہے اسی طرح پچھلے سال وہ کشمیر سے متعلق آئین کی شق 370 ہٹا کر خوش ہورہی تھی۔ مرکزی حکومت نے اپنا دبدبہ قائم کرنے کی خاطر جموں و کشمیر میں ایک سال طویل لاک ڈاون لگایا جو غالباً ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ وادی میں مواصلاتی پابندیوں کے علاوہ کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلی سمیت تمام اہم سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کیاگیا اور 35 ہزار اضافی فوجی تعینات کیے گئے ۔ اس کے باوجود حکومت کوخدشہ تھا عسکریت پسند اس کی برسی ضرور منائیں گے ۔ اس کی جانب سے دھیان ہٹانے کے لیے شیلا نیاس کی خاطر اسی دن کا انتخاب کیا گیا تاکہ کشمیر کی ساری خبریں دب جائیں ۔

ایودھیا کا غلغلہ ساری دنیا میں تو تھا لیکن کشمیر میں ۴ جی کی عدم موجودگی اس کی راہوں کا روڑہ بن گیا۔ بہار کی طرح ایل ای ڈی نہیں لگایا گیا کیونکہ وادی میں سخت کرفیو نافذ تھا۔ عسکریت پسندوں کے حوصلے پست کرنے کی خاطرماہ جولائی میں سب سے زیادہ خون خرابہ ہوا۔ وزیر دفاع نے کشمیر میں جاکر حفاظتی انتظامات کا جائزہ بھی لیا ۔ اس سے قبل وزیراعظم نے لداخ کی سرحد سے قریبدورہ کرکے فوجیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی ۔ ان تمام کوششوں کے باوجود شیلانیاس والے دن کشمیر میں ایک پولس اہلکار عبدالرشید ڈار کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ۔ اس بیچارےکو سرچ آپریشن پر بھیجا گیا تھا لیکن وہ خود ہی واپس نہ آسکا ۔جولائی کی ابتدا میں بھی سی آر پی ایف کا ایک جوان اسی طرح کے حملے میں ہلاک ہوچکا ہے۔

5 اگست کے آس پاس 48 گھنٹوں میں یہ دو وارداتیں رونما ہوئیں ۔ 4 اگست کی شام کرفیو کے باوجود کلگام کے بی جے پی سرپنچ عارف احمد کو میر بازار میں گولی ماری گئی تھی۔کلگام ضلع کے ویسو گاوں میں بی جے پی کے سرپنچ سجاد احمد کھانڈےپر بھی اسی دن کو فائرنگ ہوئی ۔ ان کو گھر کے باہر پانچ گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ وادی کے وہ ابن الوقت سیاسی رہنما جو حالات سے گھبرا کر بی جے پی کی پناہ میں آ رہے ہیں اب اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہوں گے کیونکہ پچھلے ماہ بارہ مولہ میں ابھی اس طرح کی واردات ہوچکی ہے۔ وہاں پر بی جے پی کے رہنما معراج الدین ملا کو اغواء کرلیا گیا۔ ۔ ان حملوں نے اس دعویٰ کی پول کھول دی کہ آئین کی ترمیم کے بعد کشمیر میں امن بحال ہوجائے گا۔

اس سے قبل خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے باوجود باندی پورہ میں بی جے پی کے رہنما وسیم باری کو ان کے والد اور بھائی سمیت گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ وسیم باری باندی پور میں بی جے پی کے صدر رہ چکے تھے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے اس سانحہ کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا تھا کہ : ’’ہم نے آج شیخ وسیم باری ان کے والد اور بھائی کو باندی پورا میں کھودیا ۔ یہ پارٹی کا بڑا نقصان ہے ۔ پسماندگان کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں ۔ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی ‘‘۔ اس کے بعد وسیم باری کے گھردہلی سے رام مادھو اور مرکزی وزیرجتیندر سنگھ بھی گئے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا رہنما جس کے تحفظ کی خاطر 8جوان متعین تھے محفوظ نہیں ہے تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا؟ انسپکٹر جنرل نے حفاظتی دستے افسران کو لاپروائی کے الزام میں گرفتار کرلیا لیکن اس سے کیا ہوگا؟

پچھلے سال5 مئی کو جب جنوبی کشمیر کے نوگام میں بی جے پی کے کارکن گل محمد میر پر گولی چلائی گئی تو اس کے لیے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا کیونکہ انہوں نے رمضان کے پیش نظر سرچ آپریشن بند کروادئیے تھے ۔ فی الحال محبوبہ مفتی نظر بند ہیں اور ایل جی براہِ راست وزیر داخلہ کے تحت ہیں اس لیے ان وارداتوں کی ذمہ داری امیت شاہ پر آتی ہے۔کشمیر میں بی جے پی رہنماوں کے قتل کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ یکم نومبر 2018 کو کشتواڑہ میں بی جے پی کے صوبائی سکریٹری انل پریہار اور ان کے بھائی اجیت پریہار کو گولیوں سے ہلاک کیا گیا تھا اور اب 8 اگست 2020 کو بڈگام ضلع کے اوم پورہ علاقہ میں بی جے پی کارکن عبد الحمید کو گولی مار دی گئی ۔ ایک زمانے میں مودی جی اور ان کے بھکت کہتے تھے کہ پاکستان کو گھر میں گھس کر مارا ۔ اسی طرح کا معاملہ بڈگام ضلع میں بی جے پی کی او بی سی یونٹ کے ضلع صدرعید الحمید کے ساتھ ہوا۔ عسکریت پسندوں نے اس کے گھر میں گھس کر گولی ماردی اور فرار ہوگئے ۔ عبد الحمید کو مارنے کے بعد حملہ آور اسی علاقہ میں موجود ایک خاتون بی جے پی کارکن کے گھر میں گھس گئے ۔ خوش قسمتی سے وہ بچ کیونکہ گھر پر موجود نہیں تھی۔

آئین میں ترمیمکے ستیہ پال ریاست کے گورنر تھے ۔ اکتوبر میں جب ریاست کی تنظیم نو کی گئی تو انہیں ہٹا کرکے جی سی مرمو کو نائب گورنر بنایا گیا۔ مرمو ویسے تو اڑیشہ کے رہنے والے ہیں لیکن ۲۰۰۲ سے ان کے وزیر اعظم اور امیت شاہ سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ ناناوتی کمیشن سے منسلک ہونے کے سبب گجرات فساد ات میں مودی کو کلین چٹ دلانے میں ان کا بڑا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ امیت شاہ جس وقت جیل میں تھے تو وہ گجرات جوائنٹ ہوم سکریٹری کے طور پر اس وقت کے وزیراعلیٰ مودی کی نگرانی میں کام کرچکے ہیں ۔ اس طرح اپنے خاص آدمی کو انہوں نے جموں کشمیر میں ایک اہم ذمہ داری پر فائز کیا لیکن وہ ناکام رہے۔ مرمو کو اب سی اے جی کا سربراہ بناکر دہلی بلا لیا گیا ۔ سی اے جی چونکہ سرکاری بدعنوانی پر نظر رکھتا ہے اس لیے وہاں بھی اپنے خاص وفادار کا ہونا لازم ہے۔ اس کے بغیر سرکاری ہیرا پھیری کی پردہ پوشی ممکن نہیں ہے۔ ویسے نہ کھاوں اور نہ کھانے دوں کا نعرہ لگانے والے آج کل فائل چبا کر کھارہے ہیں ۔رافیل کے بعد اب وجئے ملیا کی فائل بھی نہ جانے گائے کھا گئی یا رکشک چاٹ گئے ۔ مودی سرکار نے اب اس فن میں مہارت حاصل کرلی ہے کہ پہلے مجرم کو غائب کر کے ملک سے بھگا دیا جائے اور پھر واپسی کا راستہ صاف کرنے کے لیے فائل غائب کردی جائے۔

جی ایس مرمو کی واپسی کے بعد ستیہ پال ملک کی طرح پھر سے منوج سنہا نامی سیاستداں کو بھیجا گیا ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت دوبارہ انتخاب کرانے کے موڈ میں ہے۔ بی جے پی کے رام مادھو گزشتہ ماہ اس کا اشارہ کر چکے ہیں ۔ منوج سنہا کا نائب گورنر کی حیثیت سے انتخاب خوش آئند ہے۔ وہ ستیہ پال ملک کی طرح بڑ بولے نہیں بلکہ خاموش طبع فعال سیاستداں ہیں ۔ زمینی سطح پر ان کی خدمات کے لیےان کے حلقۂ انتخابات میں انہیں وکاس پوروش( ترقی کرنے والارہنما )کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ منوج سنہا نے رکن پارلیمان کی حیثیت سے اپنا پورا فنڈ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا تھا اور ان پر بدعنوانی کا الزام بھی نہیں لگا۔ یہ گزشتہ مدت کار کی بات ہے جب وہ وزیر مملکت برائے ریلوے اور پھر مواصلات ہوا کرتے تھے۔ ان ساری خوبیوں کے باوجود غلط پارٹی میں ہونے کے سبب وہ ۲۰۱۹ کا پارلیمانی انتخاب بی ایس پی کے افضال انصاری سے ہار گئے اس لیے وزارت سے محروم کردیئے گئے۔

منوج سنہا سے توقع ہے کہ وہ ریاست کی ترقی کی جانب توجہ دے کرعوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ نومنتخب لیفٹیننٹ گورنر نے حلف برداری کے بعد ریاست کی غیر یقینی صورت حال اور دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کیا اور تیز تر ترقی پر زور دیا ۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے عام لوگوں کے ساتھ بات چیت درکار ہے۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ بغیر ایجنڈا کے رابطوں میں کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔ یہ باتیں کہنا تو سہل ہے لیکن اس پر عمل درآمد کم ہی ہوتا ہے۔ کشمیر کے مادی مسائل ثانوی نوعیت کے ہیں ۔جب تک وہاں پر جاری ظلم و زیادتی کا خاتمہ نہیں ہوتا ۔ وہاں کے لوگوں کی احساسات و جذبات کا خاطر خواہ احترام نہیں کیا جاتا ۔ اس وقت تک اعتماد کی بحالی ناممکن ہے ۔ مالی نقصان کی بھرپائی سب سے آسان ہے۔ جسمانی زخم بھی قدرے مشکل سے بھر جاتے ہیں لیکن مرکزی حکومت کی رعونت نے کشمیری عوام کے دل کوجو ٹھیس پہنچائی ہے اس کا بھرنا بہت مشکل ہے۔ سوال یہ ہے کہ منوج سنہا یا انتخاب کے بعد اقتدار میں آنے والا وزیر اعلیٰ اس جانب متوجہ ہوگا یا نہیں ؟ اگر نہیں تو بیرونی لیپا پوتی بے کار ہے ۔ اس ایک سال کی واقعات سے اگر ارباب اقتدار نے یہ سبق نہیں سیکھا تو محض رام نام جپنے سے ملک و قوم کا کوئی بھلا نہیں ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1201 Articles with 436021 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2020 Views: 110

Comments

آپ کی رائے