کلرسیداں کی سیاسی صورتحال

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

کلرسیداں کی سیاسی فضامیں اس وقت زیادہ گرمی موجود نہیں ہے جس کی سب سے بڑی وجہ منتخب نمائندوں کی یہاں کے معاملات میں عدم دلچسپی ہے کلرسیداں کے عوام نے بڑی چاہت سے پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر یہاں سے بھاری اکثریت میں کامیاب کروایا تھا جس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے امیدواروں نے دھواں دار تقریریں سنا کر عوام کو اس شک میں مبتلا کر دیا تھا کہ اصل تبدیلی تو اب نظر آئے گی عوام جذباتی تقریریں سن کر دیوانہ وار ان امیدواروں کے جھانسے میں آ گئے اور یہ گردانے میں لگ گئے تھے کہ حقیقی لیڈر تو اب ان کو ملے ہیں ان سے قبل تو ان کو صرف دھوکہ ہی دیا جاتا رہا ہیاب ان کے کام ہوں گئے ان کے مسائل حل ہوں گئے لیکن ان کے امیدواروں نے منتخب ہونے کے بعد ان کو بلکل بھلا دیا ہے ایم این اے صداقت علی عباسی نے کلرسیداں کے عوام کو بلکل تنہا چھوڑ دیا ہے مسائل حل ہونا تو درکنار عوام ان کا چہرہ دیکھنے کو بھی ترس رہے ہیں ایم پی اے حلقہ پی پی 7راجہ صغیر احمد عوام میں ہر وقت موجود ہیں ان کے دکھ درد میں بھی شریک ہو رہے ہیں لیکن وہ اپنے گروپ کو پروموٹ کر رہے ہیں پی ٹی آئی کی طرف ان کا کوئی خاص دھیان نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ عوام کے مسائل بہترین طریقے سے حل کروانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے حلقہ کے عوام ان سے نالاں نہیں بلکہ خوش ہیں لیکن عوام صداقت علی عباسی کی کارکرگی سے بہت نالاں ہیں رہی سہی کسر کلرسیداں کی مقامی قیادت نے نکال دی ہے جس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں اور کارکنان میں گروپ بندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کئی گروپ پیدا ہوگئے ہیں ہر گروپ اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر کوئی کسی کے سامنے یہ کہے کہ میرا تعلق پی ٹی آئی سے ہے تو سامنے موجود شخص فورا یہ سوال کرتا ہے کہ کس گروپ سے ہیں مقامی کارکن سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی توہین کر رہے ہیں ایک دوسرے کو بے عزت کر رہے ہیں جو افراد فوکل پرسن مقرر کیئے گئے تھے وہ مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ چکے ہیں ان کی کہیں بھی کوئی سنائی نہیں ہو رہی ہے عہدیدار مقرر کر دیئے جاتے ہیں لیکن ان کو عزت نہیں دی جا رہی ہے ان کو اپنے عہدوں سے اس طرح توہین آمیز طریقے سے الگ کیا جاتا ہے جیسے وہ کسی مخالف جماعت سے تعلق رکھتے ہوں جس وجہ سے کلرسیداں کی سیاسی فضاء مانند پڑ چکی ہے اور اپوزیشن جماعتیں جو ایک لمبے عرصے سے خاموشی اختیار کیئے ہوئے تھیں وہ اب جاگ اٹھی ہیں اور انہوں نے تھوڑا ورک شروع کر دیا ہے پچھلے کچھ دنوں سے یہاں کی سیاسی فضا ء میں کچھ تیزی دیکھنے کو ملی ہے جس کی وجہ سینئر مسلم لیگی رہنماء اور سابق چیرمین یو سی بشندوٹ زبیر کیانی کا بطور چیرمین تحصیل کونسل کلرسیداں سے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرنا ہے ان کے اس اعلان سے مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سر کھرچنے شروع کر دیئے ہیں ان کے اس اعلان سے سیاسی فضاء میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے زبیر کیانی کا شمار اہم لیگی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ان کی ن لیگ سے وابستگی بہت پرانی ہے چوھدری نثار علی خان جب ن لیگ کا حصہ تھے تو زبیر کیانی نے ان کے لیئے ہراول دستے کا کردار ادا کیئے رکھا ہے لیکن جب انہوں نے ن لیگ سے اپنی راہیں جدا کیں تو زبیر کیانی نے بھی چوھدری نثار علی خان سے نظریں پھیر لیں اور انسے اپنی راہیں الگ کر ڈالی ہیں اس کے بعد جب حلقہ این اے 57کو حلقہ بندیوں کے دوران پھیلا دیا تو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسیاس حلقہ میں تشریف لائے تو زبیر کیانی نے ان کو بھی یہاں متعارف کروانے میں اپنا عملی کردار ادا کیا ہے اس حلقے میں شاہد خاقان عباسی کی انتخابی مہم کاآغاز انہوں نے اپنے گھر میں جلسہ منعقد کرواتے ہوئے کیا تھا اور وہ جلسہ اس قدر بڑا تھا اور عوام علاقہ نے اس قدر بڑی تعداد میں شرکت کی تھی شاہد خاقان عباسی بھی حیران ہو گئے تھے الغرض زبیر کیانی نے مسلم لیگ ن کو ہر دور میں پروموٹ کروانے میں اپنا سیاسی کردار ادا کیئے رکھا ہے اب تحصیل کونسل کلرسیداں سے چیرمینی کا ایکشن لڑنے کے اعلان میں بھی ن لیگ کی پروموشن شامل ہے وہ اپنی جماعت کیلیئے بہترین امیدوار ثابت ہوں گئے کیوں کہ وہ پوری تحصیل کلرسیداں میں اپنا سیاسی اثرو رسوخ اور ایک اہم مقام رکھتے ہیں جبکہ حکمران جماعت کی طرف سے ابھی تک کوئی بھی متوقع امیدوار سامنے نہیں آ سکا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ مقامی گروپ بندی ہے کلرسیداں میں اصل بلدیاتی مقابلہ ن لیگ اور حکمران جماعت کے درمیان ہی ہو گا یہاں پر یہ بات بھی بلکل واضح ہے کہ حکمران جماعت کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ن لیگ دوبارہ عوامی مقبولیت کی جانب گامزن ہو چکی ہے اور اس کا مقابلہ پی ٹی آئیکیلیئے کوئی آسان کام ثابت نہیں ہو گا بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن واضح ہدایت جاری کر چکے ہیں اور نومبر میں الیکشن کے انعقاد کی توقع کی جا رہی ہے چیف الیکشن کمشنر نے بھی الیکشن کمشن کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کام تیزی سے مکمل کرے ان تمام باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی الیکشن کروانے میں واقعی مخلص ہے آنے والے دنوں میں کلرسیداں کی سیاسی فضاء میں مزید گرمی پیدا ہو گی اور مزید بلدیاتی امیدوار بھی سامنے آئیں گئے کامیابی کس کا مقدر بنتی ہے یہ وقت بتائے گا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 143 Articles with 45240 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Aug, 2020 Views: 125

Comments

آپ کی رائے