وہ شخص موسموں کی ہوا ساتھ لے گیا

(Faisal Farooq Sagar, Gujranwala)

ڈی ایس پی عمران عبا س چدھڑکے صدر سرکل سیالکوٹ تبادلے کی خبر سب سے پہلے سیالکوٹ سے ہی آنے والی ایک کال کے ذریعے ملی ،گوجرانوالہ میں منظم جرائم پیشہ گروہوں نے سکھ کا سانس لیا ہوگا جبکہ انکی سیالکوٹ آمد کا سن کر ہی وہاں سراسیمگی پھیل گئی ہے جرائم پیشہ گروپ انکے نام سے ویسے ہی خائف رہتے ہیں وہ دھن کے پکے اور غیر روایتی پولیس آفیسر ہیں جو حیران کن حد تک شاندارکارکردگی کے ساتھ ساتھ انسانیت دوست رویے کی وجہ سے گوجرانوالہ کے عوام میں بے حد مقبول ہیں، تبادلے کی خبر کی تصدیق کے لئے میں نے فون پر دریافت کیا توہر جانے والے افسر کی طرح بولے کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ تو ملازمت کا لازمی حصہ ہوتا ہے ، گوجرانوالہ میں خدمات کے دوران مجھے جو پیار ملا وہ ناقابل فراموش ہے ،سیالکوٹ قریب ہی ہے میں آپ لوگوں سے زیادہ دور تو ویسے ہی نہیں جا رہا ، وہ مخصوص لہجے میں مختصر بات کرتے ہوئے بولے ،عمران عباس چدھڑ سے میری زیادہ ملاقاتیں نہیں ہوئی لیکن ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے دل کے قریب آ جاتے ہیں اور پھر احترام والے خانے میں جگہ پالیتے ہیں،عمران عباس چدھڑ کے اس احترام کی وجہ انکا لوگوں کے ساتھ نرم اور ہمدردانہ رویہ ہے جس سے عام طور پر پولیس والے محروم ہو تے ہیں ، اپنی تعیناتی کے دوران مشکل سے مشکل کیسز میں انہوں نے عوام کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کی ایسی بے شمار کہا نیاں ہیں جن میں انہوں نے خطرناک مجرموں کو انکے انجام تک پہنچانے کے لئے اپنی جان کی بھی پرواہ کئے بغیر کارروائیاں کیں گوجرانوالہ میں اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری ، قتل ،ڈکیتی کی سینکڑوں وارداتوں کے مجرموں انجام تک پنچایا منشیات فروشوں کو قانون کے کٹہرے میں لے کر آئے لیکن اس ساری کارکردگی سے زیادہ وزن انکے سینے میں انسانیت کے لئے دھڑکنے والے اس دل کا ہے جو بلاشبہ اﷲ کی طرف سے ایک انعام ہے ، بطور پولیس آفیسر ان کاہر دن نئی نئی کہانیوں اور مشاہدات میں گزرتا ہے یہ تجربہ سماجی مسائل کو سمجھنے میں بددگار ثابت ہوتا ہے انسانیت کا پہلا سبق یہ ہے کہ آپ دوسروں کے درد کو محسوس کریں ، آپکے اندر احساس کا جذبہ مرنے نہ پائے ،عمران عباس چدھڑ حساس دل کا وہ انسان ہے جسے معاشرے کے مسائل نشیب وفراز کو قریب سے دیکھنے کاموقع ملا ہے لوگوں کے دکھوں کو کم کرنا ہی انسانیت دوستی کا تقاضا ہے ، مجھے لاک ڈاؤن کے ابتدائی دن یاد آگئے ، تب وہ عوام میں ماسک تقسیم کرنے نکلے تھے سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں ایک سبزی فروش معمر خاتون کو ماسک دیئے اور چند منٹوں بعد وہ خاتون ایک ماسک بیچنے والے کو وہی ماسک فروخت کرتی نظر آئی تو ان کا دل پسیج کر رہ گیا اپنی جیب سے بزرگ خاتون کی مددکر کے چلے آئے ، عمران عباس چدھڑ کا تجربہ اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں جرائم کی سب سے وجہ غربت اور اسکے بعد جہا لت ہے ہمارے ملک میں غربت اور جہالت ایک دوسرے سے بڑھ کر موجود ہیں جو جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں ، معاشی مشکلات اور پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے لوگ جرائم کا راستہ اپنالیتے ہیں عمران عباس چدھڑ کی پختہ رائے ہے کہ جیل کی اکیڈمی لوگوں کو سدھارنے کی بجائے بگاڑ کی طرف لے جاتی ہیں اسلئے ہر مجرم کو ھالات کے رحم وکرم پر چھوڑنا اور ایک سا سلوک نہیں کیا جاسکتا ، انسان کو سدھرنے کاموقع مل جائے تو وہ جرائم کی اندھیرنگری مین ہمیشہ کے لئے بھٹکنے اور پھر ایک المناک انجام سے دوچار ہونے کی بجائے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں اپنے خاندان کے ساتھ خوشیوں بھری زندگی ایک بار پھر اسکی منتظر ہوتی ہیپولی ہی نہیں ہم سب کہیں بھی اور کسی بھی شعبے سے وابستہ ہیں ہمیں لوگوں کے دل جیتنے کا ہنر سیکھنا چاہئے اوردلوں کو فتح کرنے کا نسخہ آقائے دوجہاں صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے 14سو سال پہلے عملی شکل میں دے دیا تھا ، قیامت تک حسن اخلاق اور محبت سے زیادہ طاقتورکوئی شے دستیاب ہے نہ ہوگی ،عمران عباس چدھڑ لوگوں کے دل جیتنے کا ہنر جان گئے ہیں پچھلے دنوں بے روزگاری کے مارے ایک نوجوان جس نے فاقوں سے مجبور ہو کر ڈکیتی کی کوشش کی اور گرفتار ہو گیا تھا جس طرح عمران عباس چدھڑ اور ان کے ماتحت عملے نے مدد کی تھی وہ ناقابل فراموش ہے ، جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں عمران عباس چدھڑ سیالکوٹ میں اپنی ذمہ داری کا چارج لے چکے ہوں گے، ضلع سیالکوٹ میں منظم جرائم کی شرح کم نہیں ہے وہاں سپورٹس اور سرجیکل سامان کے بعد منشیات فروشی سب سے بڑا اور آسان دھندہ بن چکا ہے ، اچھے اچھے گھرانوں کے بظاہر معزز اور طاقتور گھرانے ان منشیات فروشوں کی پشت پر کھڑے ہو جاتے اور انکو قانون کی گرفت سے بچانے کے لئے آموجود ہوتے ہیں ،زورا ٓوروں کے جھرمٹ میں کام کرنے کے لئے عمران عباس چدھڑ کو جوش و جذبے کے ساتھ ساتھ حکمت اور تدبر کا استعمال بھی کرنا ہوگا ،اہل گوجرانوالہ کی طرف سے ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں انکی نذر ہیں
ؔؔ
باتوں کے رنگ حسن و ادا ساتھ لے گیا
وہ شخص موسموں کی ہوا ساتھ لے گیا
رخصت ہوا جو کل میری بستی کا آدمی
آثمؔ وہ ہر کسی کی دعا ساتھ لے گیا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Farooq Sagar

Read More Articles by Faisal Farooq Sagar: 77 Articles with 29858 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2020 Views: 707

Comments

آپ کی رائے