اردو ادب میں زنداں نامے

(abdul waris Sajid, )

جب چمن میں تھے تو تھی یاد چمن ہم کو بس
اب چمن میں ہیں تو پھر یاد قفس آتی ہے
 

کس شاندار پہلو سے شاعر نے دل کے ارمان کہہ ڈالے ہیں، قفس اور اسیری اہل ادب کے ساتھ ہمیشہ سے یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے ہر زمانے میں بہت سے ادیب قیدوبند سے گزرے، پھر انہوں نے حال دل صفحہ قرطاس پر بکھیر دئیے اردو ادب کے ان زنداں ناموں پر غور کریں تو اردو کی بہت سی ممتاز شخصیات تاریخ کے دامن میں چھپی نظر آتی ہیں۔

اردو ادب میں زنداں نامے کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ اردو ادب میں آپ بیتی کا رجحان تو بہت زیادہ ہے مگر قیدوبند کے احوال سننے کا رجحان بہت کم ملتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں قیدوبند کا سلسلہ زیادہ تر انگریز کی آمد کے بعد ہے، جب ان کے ہندوستان کے علاقوں کو ہتھیانے کا سلسلہ شروع کیا تو ان کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو گولی کے ذریعے اور زنداں میں ڈال کر دبایا گیا۔ اس عنوان سے دیکھیں توزنداں نامے میں ’پہلی کتاب تاریخ میں’کالا پانی‘‘ ملتی ہے ۔

عبدالمجید قریشی لکھتے ہیں ’’کالا پانی‘‘ اس موضوع پر پہلی کتاب ہے جسے مولانا محمد جعفر تھانیسری نے 1885ء کے لگ بھگ قید فرنگ سے رہائی کے بعد تحریر فرمایا تھا۔ محترم مصنف اس جنگ آزادی کے اہم کردار ہیں جو فرنگی اقتدار کے خلاف پوری ایک صدی لڑی گئی۔ انہوں نے اس کتاب میں انگریز کے جبر و استبداد کی ایک ایسی ناقابل فراموش اور زندہ داستان بیان کی ہے جسے پڑھ کر ایک طرف فرنگی حاکموں کے ظلم و ستم کا صحیح اندازہ ہوتا ہے تو دوسری طرف مجاہدین حریت کی مظلومیت، بے کسی، ایثار اور اعلیٰ کردار کے صحیح نقش و نگار سامنے آ جاتے ہیں۔ ’’کالا پانی‘‘ نام کی ایک دوسری کتاب مشہور ہندو مہا سبھائی لیڈر بھائی پر مانند کے قلم سے بھی ہے جس میں انہوں نے جزیرہ انڈمان میں اپنے قیدوبند کے حالات سے پردہ اٹھایا ہے۔ مولانا حسرت موہانی نے 1908ء میں الٰہ آباد جیل کی جو وارداتیں ان پر گزریں انہیں اپنی رہائی کے بعد ’’مشاہدات زنداں‘‘ کی صورت میں لکھا تھا۔ ’’مشاہدات زنداں‘‘ کا ایک نیا ایڈیشن طویل عرصے کے بعد ’’قید فرنگ‘‘ کے نام سے کراچی سے شائع ہوا تھا جس میں مولانا حسرت کی شخصیت پر مولانا سید سلیمان ندوی کا مضمون بھی شامل تھا۔

مشہور سیاسی تحریک ’’ریشمی رومال‘‘ کی صدائے بازگشت 1915ء میں سرزمین حجاز میں سنی گئی۔ جہاں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیو بندی بہ ارادہ حج مقیم تھے۔ شریف مکہ نے شیخ الہند کو گرفتار کر کے انگریزوں کی خواہش کے مطابق ان کے حوالے کر دیا اور وہ انہیں جزیرہ مالٹا لے گئے۔ اس دور ابتلا میں شیخ الہند کے ہمراہ ان کے شاگرد مولانا حسین احمد مدنی بھی تھے جنہوں نے ’’سفر نامہ اسیر مالٹا‘‘ کے عنوان سے اس روح فرسا اور جاں گداز داستان کو رقم کیا۔

زعیم الاحرار چوہدری افضل حق نے اپنی آپ بیتی ’’میرا افسانہ‘‘ میں جہاں اپنی زندگی کے دلچسپ اور پرلطف واقعات کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے جیل خانے کے متعلق تاثرات ناقابل فراموش حد تک عبرتناک ہیں۔ ان کی دوسری کتاب ’’دنیا میں دوزخ‘‘ کا تعلق بھی اسی دنیا سے ہے جسے جیل خانہ کہتے ہیں۔ ممتاز صحافی اور طنز نگار ابراہیم جلیس کے ایام اسیری کی روداد ’’جیل کے دن اور جیل کی راتیں‘‘ حمید اختر کی ’’کال کوٹھڑی‘‘ اور عنایت اﷲ کی ’’اس بستی میں‘‘ پس دیوار زنداں کے مشاہدات کی بہترین عکاس ہیں۔

ریاض الرحمن ساغر نے ’’سرکاری مہمان خانہ‘‘ میں جرم و سزا کا ایک نئے زاویے سے جائزہ لیا ہے، اگرچہ انداز بیاں بہت شوخ ہو کر رہ گیا ہے۔ مجلس احرار اسلام کے جانباز مرزا نے بھی اپنی آپ بیتی ’’آتش کدہ‘‘ میں قیدوبند کی صعوبتوں کا ذکر کیا ہے۔ آغا شورش کاشمیری کی آپ بیتی ’’پس دیوار زنداں‘‘ بلاشبہ ایک وقیع اور باوقار کتاب ہے۔ پیر محمد قاسم شاہ (گڈ پیر سرحدی) کی مختصر کتاب ’’سرگزشت زنداں‘‘ بھی اس موضوع پر خاصا جاذب توجہ مواد فراہم کرتی ہے۔ ’’مکاتب زنداں‘‘ میں میاں طفیل محمد سابق قیم جماعت اسلامی کا مضمون ’’گرفتاری سے رہائی تک‘‘ ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ ادبی رسائل میں مطبوعہ مضامین میں م۔ ش کا ’’میری جیل یاترا‘‘ احمد ندیم قاسمی کا ’’زنداں و سلاسل‘‘ اور ’’مہربہ لب‘‘ اور نعیم صدیقی کی ’’جیل کی ڈائری‘‘ کو ہر لحاظ سے دلکش اور دل آویز کہنا چاہیے۔

یہ تو تھیں وہ کتابیں اور مضامین جن کا تعلق ہمارے ملک کی مختلف جیلوں اور قید خانوں سے ہے۔ اب ایک انوکھی کتاب ’’قید یاغستان‘‘ کے متعلق سنیے میاں محمد اکرم اور ان کے ساتھی کو 1910ء میں قبائلی لوگ بنوں سے اغوا کر کے یاغستان لے گئے تھے اور وہاں انہیں قیدی بنایا تا۔ اس قید ستم سے انہوں نے کیسے راہ فرار اختیار کی اور کن کن مصائب اور دشواریوں کے بعد صوبہ سرحد میں داخل ہوئے ان واقعات نے اس کتاب کو دہشت ناک داستان میں تبدیل کر دیا ہے۔
1۔ کال کوٹھڑی مشہور صحافی حمید اختر کی قیدوبند کی احوال ہے جو 1953ء میں شائع ہوئی تھی یہ جنگ گروپ کی طرف سے شائع کی گئی تھی اور اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے ہے اس کتاب کی اشاعت کے کے ڈیڑھ سال بعد جولائی 1956ء میں وہ دوبارہ گرفتار ہوئے اور 1981ء میں بھی تیسری بار جیل میں قیدوبند رہے۔

’’رو داد قفس‘‘ نے نام سے کشمیریوں کے عظیم قائد سید علی گیلانی داستان ہے جس میں ان ایام کا تذکرہ خاص ہے جو انڈین فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد مختلف جیلوں میں گزرے، یہ کتاب دو جلدوں میں مشتمل ہے۔
سید علی گیلانی کو بھارتی حکومت نے پہلی مرتبہ 28 اگست 1962ء کو گرفتار کر کے مسال جیل میں گزارے ان کے زنداں ناموں کے دو حصے تو شائع ہو گئے جبکہ تیسرا زنداں نامہ بھارتی حکومت نے ضبط کر لیا۔

۔ اردو کے مشہور ادیب اور صحافی شورش کاشمیری نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ قیدوبند کی صعوبتوں میں گزارا تھا۔ ان کی قیدوبند کا احوال ان کی چار تصانیف میں پھیلا ہوا ہے جن کے نام ’’بوئے گل ، نالہ دل، وودچراغ پس دیوار زنداں‘‘ تحفہ خدمت اور موت سے واپسی۔
3۔ جیل یاترا میں عبداﷲ ملک کی جیل میں گزارے ایام کی کہانی ہے، یہ کتاب مشہور ادارے دارالعشور سے عباس شاہ صاحب نے شائع کی۔ اس موضوع پر اردو ادب میں ایک شاندار اضافہ ’’تذکرہ زنداں‘‘ ہے جو جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد کی ایوبی دور میں 9 ماہ کی اسیری کی روداد ہے۔

 

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: abdul waris Sajid

Read More Articles by abdul waris Sajid: 47 Articles with 20408 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2020 Views: 161

Comments

آپ کی رائے