پن بجلی:پاکستان میں موجودہ نصب صلاحیت، ممکنہ وسائل اور درپیش چیلنجز

(Ch Zulqarnain Hundal, Gujranwala)
نوٹ: تحریر میں معلومات واپڈا، وکی پیڈیا،اے ای ڈی بی، انڈیپینڈنٹ پاور پرڈیسور ایسوسی ایشن، انٹرنیشنل ہائیڈروپاور ایسوسی ایشن اور دیگر سے لی گئی ہیں، تحریر میں موجود کچھ حساب ذاتی طور پر کیا گیا ہے۔
ذوالقرنین ہندل،گوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے، پیشے کے اعتبار سے مکینیکل انجینئر ہے اور گزشتہ سال 2019میں توانائی کی قسم میں آگاہی ایوارڈ حاصل کر چکاہے۔
پن بجلی قابل تجدید توانائی کی وہ قسم ہے، جو گرتے ہوئے پانی اور اس کے تیز بہاؤ کی طاقت کو استعمال کر کے حاصل کی جاتی ہے۔یہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قابل تجدید توانائی کا زریعہ ہے۔ جس سے کم و بیش دنیا کی کل قابل تجدید توانائی کا 54فیصدجب کہ دنیا کی کل توانائی کا 18فیصد حاصل ہورہا ہے۔زمانہ قدیم میں پانی کی طاقت کو مختلف قسم کی پانی کی ملوں،آب پاشی کے حصول اور مختلف قسم کے مکینیکل آلات جیسے چکی، آرے، کپڑے بنانے والے کھڈے، بڑے ہتھوڑے، ڈوک کرین، اور گھریلو لفٹ وغیرہ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ انسویں صدی کے آخر میں پانی باقاعدہ بجلی پیدا کرنے کا زریعہ بن گیا۔نارتھمبرلینڈ 1878میں کرگسائیڈ پن بجلی سے چلنے والا پہلا گھر تھا۔جب کہ پہلا تجارتی پن بجلی گھر 1879 میں نیاگرا فالز میں تعمیر کیا گیا۔ پن بجلی کا استعمال بیسویں صدی کے اوائل سے بڑھنا شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔توانائی کا یہ منصوبہ نہ صرف سستا بلکہ ماحول دوست بھی ہے۔اسی لئے عالمی بینک جیسا ادارہ پن بجلی کو(جو فضا میں کاربن کی خاطر خواہ مقدار کو خارج کئے بغیر بجلی پیدا کرتا ہے) معاشی ترقی کے ایک بڑے زریعہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ پن بجلی کے حصول کے لئے مختلف قسم کے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔پہلا’ڈیم یا حوض‘ بنا کر پانی کو ذخیرہ کر کے ٹربائن کی مدد سے بجلی پیدا کرنا۔دوسرا’رن آف ریور‘ یعنی بہتے دریا میں پین سٹوک کے زریعے جس میں ڈیم بنانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ تیسرا ’پمپڈ اسٹوریج‘ جس میں زخیرہ پانی کو پمپ کی مد د سے کھینچ کر توانائی کے حصول کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مختلف اعداد و شمارکے مطابق ایک ڈیم کی اوسط عمر 50سال کی ہے۔مگر کئی ڈیم اپنی 100سالہ زندگی گزار چکے ہیں۔ شعبہ توانائی کے مطابق 30میگاواٹ سے زائد صلاحیت کے حامل منصوبے بڑے جب کہ 10میگاواٹ یا کم کے منصوبے چھوٹے، اور 100کلوواٹ کے منصوبے مائکرو پن بجلی کی اقسام میں تصور ہوتے ہیں۔ پن بجلی کے عمومی طور پرتین بڑے حصے ہوتے ہیں۔جس میں ’حوض‘ جو پانی زخیرہ کرنے کے لئے، ’ڈیم‘ جو پانی کے بہاؤ کو قابو کرنے کے لئے، اور’بجلی گھر‘ جو بجلی بنانے کے لئے ہے۔ سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو پانی میں موجود متحرک توانائی (کائنے ٹک توانائی)کو ڈیم میں نصب ٹربائن مکینیکل توانائی میں تبدیل کرتی ہے۔جسے بعد ازاں جنریٹربجلی (الیکٹریکل توانائی) میں تبدیل کرتے ہیں۔
بات پاکستان میں توانائی کے بحران کی ہو تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلتا آ رہا ہے۔ لوڈ شیڈنگ نے جہاں لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں، وہیں صنعتی محاذ پر ہم دنیا سے خاصا پیچھے رہ گئے ہیں۔سیاسی رسہ کشی میں مگن مقتدر حلقوں نے عوام سے روشنیوں کے بلند و بانگ دعوے تو کئے مگر کبھی بھی توانائی کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا۔گزشتہ کئی برسوں سے تیل اور گیس سے مہنگی توانائی کے حصول کی بدولت ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔سی پیک میں موجود توانائی کے منصوبوں نے لوگوں کو امید کی ایک نئی راہ دکھائی ہے۔گزشتہ دو ادوار میں توانائی کے منصوبوں پرکچھ پیشرفت ہوئی اور موجودہ حکومت بھی قابل تجدید توانائی کے زرائع پر دلچسپی لے رہی ہے۔آج بہت سے منصوبوں پر کام جاری ہے اور کئی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔
”اکنامک سروے2019-20 کے مطابق پاکستان کی 2020 میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت37400میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔صنعتی اور گھریلو زیادہ سے زیادہ طلب 25000 میگاواٹ تک ہے۔ جب کہ ترسیل کی صلاحیت تقریبا 22000 میگاواٹ پر تعطل کا شکار ہے“۔پاکستان میں ترسیل کا نظام خاصا پرانا ہے، اس کی صلاحیت کو نہ صرف بڑھانے بلکہ اس میں جدید تقاضوں کے تحت تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان میں توانائی کا ایک بڑا حصہ لائن لاسز اور بجلی چوری کی نظر ہو جاتا ہے۔متعلقہ اداروں کو سوچنا ہو گا کہ کونسے عوامل کی بنا پر بجلی کی ترسیل میں مشکلات پیش آرہی ہیں؟ آخر توانائی کی وافر مقدار کے ہوتے ہوئے بھی لوڈشیڈنگ کے مسائل سے کیوں دو چار ہیں؟
’یونائٹیڈ اسٹیٹس گورنمنٹ‘کے مطابق 2019 میں پاکستان64فیصد توانائی حیاتیاتی ایندھن، 27فیصد پن بجلی، اور 9فیصد دیگر قابل تجدید اور جوہری زرائع سے حاصل کر تا رہا ہے۔ جب کہ’واپڈا‘ کے مطابق 2020 میں ہائیڈل شیئر 32فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔
بات پاکستان میں نصب منصوبوں کی ہو تو تقسیم کے وقت پاکستان کو وراثت میں 31.5 ملین نفوس کے لئے 60 میگاواٹ توانائی کے منصوبے نصیب ہوئے تھے۔واپڈا کے قیام کے وقت 1958میں پاکستان کی پن بجلی کی مقدار بڑھ کر 119 میگاواٹ تک پہنچ چکی تھی۔پھر سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا حق142ملین ایکڑ فیٹ تک ٹھہرا تو وارسک ڈیم،منگلا، اورتربیلاجیسے منصوبے نصب کئے گئے۔جو آج بھی پاکستان کے بڑے منصوبوں میں شما ر ہوتے ہیں۔
پاکستان میں پن بجلی کے موجودہ نصب چھوٹے بڑے فعال منصوبے 90کے قریب ہیں۔جن کی مجموعی صلاحیت 10132میگاواٹ کی ہے۔ جس میں کم و بیش 5700میگاواٹ کے پی کے،پنجاب 1800،آزاد کشمیر2400، گلگت بلتستان 147 اور سندھ میں 0.5میگاواٹ کے منصوبے نصب ہیں۔پاکستان کے چند بڑے فعال منصوبے۔تربیلا ڈیم جو دریائے سندھ پر ہری پور میں واقع ہے۔ یہ پاکستان کا زیر استعمال سب سے بڑا ڈیم ہے۔جس کی صلاحیت4888-6298میگاواٹ تک ہے۔ یہ منصوبہ1976 میں مکمل ہوا۔
غازی بروتھا جو اٹک کے مقام پر دریائے سندھ سے منسلک منصوبہ ہے۔ یہ بہتے دریا پر نصب منصوبہ ہے۔جس کی صلاحیت 1450میگاواٹ تک ہے۔منگلا ڈیم میر پور آزاد کشمیر کے مقام پر دریائے جہلم پر واقع ہے۔ جس کی پیداواری صلاحیت1000میگاواٹ ہے۔ جب کہ اس کو 15 فیصد اضافی بوجھ پر چلا رہے ہیں اور اس کی 1500میگاواٹ تک توسیع کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔نیلم جہلم،آزاد کشمیر میں جو 2018میں فعال ہوا قریب970میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت کا منصوبہ ہے۔
ورسک ڈیم پشاور ویلی میں دریائے قابل پر واقع ہے۔ جس کی پیداواری صلاحیت243میگاواٹ ہے۔
اسی طرح دیگر کئی چھوٹے بڑے پن بجلی کے منصوبے کام کر رہے ہیں۔ بہت سے پرانے منصوبوں کے استعمال کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے۔ مستقبل میں بڑھتی ہوئی توانائی کی کھپت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو توانائی کے نئے منصوبے جلد تعمیر و فعال کرنا ہوں گے۔
اسی ضمن میں بہت سے نئے منصوبوں پر تعمیری کام ہو رہا ہے۔
پن بجلی کے 20منصوبے ایسے ہیں،جوزیر تعمیر یا تعمیر کے لئے تیاری کے مرحلوں میں ہیں۔ جن کی مجموعی صلاحیت12032میگاواٹ کی ہے۔جس میں کم و بیش6683میگاواٹ کے پی کے،720 پنجاب،48 آزاد کشمیر(اعداد و شمار میں آزاد پتن کا نیا منصوبہ شامل نہیں)،4563گلگت بلتستان،13.6 سندھ اور4.4میگاواٹ کے منصوبے بلوچستان میں موجود ہیں۔
موجودہ حکومت نے گلگت بلتستان میں چلاس کے قریب دریائے سندھ پر واقع دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا ہے، جس کی تکمیل2028تک متوقع ہے۔ یہ 4800میگاواٹ کی صلاحیت کا منصوبہ ہے۔ اس کی تکمیل سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پایا جا سکے گا، بلکہ یہ منصوبہ 12لاکھ ایکڑسے زائد رقبہ بھی سیراب کرے گا۔داسو ڈیم جو 4320میگاواٹ کا منصوبہ ہے وہ بھی زیر تکمیل ہے۔ اسی طرح حکومت نے سی پیک کے تحت آزاد پتن کے منصوبے پر بھی دستخط کر لئے ہیں اور اس کے مکمل ہونے کا عندیہ 2026 تک کاہے۔ اس سے 700میگاواٹ تک بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ گزشتہ سال مہمند ڈیم پر بھی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے۔
پن بجلی کے ایسے منصوبے جو زیر تجویز ہیں اور ان پر مستقبل میں کام ہو سکتا ہے86 کے قریب ہیں۔’واپڈا‘ کے مطابق بیس کے قریب منصوبوں پر مستقبل میں کام کیا جا سکتا ہے۔مجموعی طور پر ان کی صلاحیت 47700میگاواٹ کی ہے۔جن میں کم و بیش کے پی کے 11000میگاواٹ،پنجاب 870،آزاد کشمیر5500،گلگت بلتستان 30000،سندھ37.2اوربلوچستان3.8میگاواٹ صلاحیت کے منصوبے زیر غور ہیں۔جن میں 15000میگاواٹ کا کتزارہ ڈیم جو شیوک، سکردو کے قریب واقع ہے اور 7100میگاواٹ کا بنجی ہائیڈرو پراجیکٹ جو استور، گلگت بلتستان میں واقع ہے شامل ہیں۔
اگر پاکستان میں پن بجلی کی ممکنہ استعداد کا اندازہ لگایا جائے تو باخوبی علم ہوتا ہے کہ اللہ نے پاکستان کو پانی جیسی عظیم قدرتی نعمت سے نوازا ہے۔لیکن ہم اس عظیم نعمت کو بروقت استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ واپڈا کے مطابق پاکستان کے پاس پن بجلی پیدا کرنے کی 100000 میگاواٹ کی استعداد ہے۔جن میں سے تصدیق شدہ سائٹس 60000میگاواٹ کی ہیں۔ مگر پاکستان میں موجودہ نصب فعال منصوبے مجموعی طور پر محض 10132 میگاواٹ کے ہیں۔پاکستان نہ صرف پانی کو زخیرہ کر کے توانائی پیدا کر سکتا ہے، بلکہ پانی کی قلت کو کم کرنے کے ساتھ زرعی رقبوں کو بحال و سیراب بھی کر سکتا ہے۔ پاکستان کی پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت 30فیصد ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں امریکہ کی دریائے کولو راڈو پر 497فیصد، مصر کی دریائے نیل پر281فیصد اور بھارت کی ستلج۔بیاس بیسن پر35 فیصد ہے۔ پاکستان کو آئندہ برس ماحولیاتی تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی پانی کو زخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا چاہئے۔”معروف سائنسی جریدے”نیچر“کے مطابق دنیا بھر کے دریاؤں کو پانی فراہم کرنے والے گلیشئرز کا جائزہ لیا گیا۔جن کی تحقیق کے مطابق دریائے سندھ سب سے زیادہ خطرے میں ہے“۔”نیشنل جغرافی میں شائع ایک اندازے کے مطابق 2050میں دریائے سندھ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشئرز کے پگھلنے کی وجہ سے پانی کا بہاؤ اپنے عروج پر ہوگا“۔ موسمی تغیرات کو بھانپتے ہوئے پاکستان کو پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا تا کہ آئندہ موسمی تبدیلیوں کے سبب پیش آنے والے سیلابی ریلوں سے نہ صرف مقامی آبادی کو محفوظ بنایا جا سکے بلکہ اسے زخیرہ کر کے زرعی رقبوں کی بحالی اور بجلی کی پیداوار کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
بات چیلنجز کی ہو تو، پن بجلی کے منصوبوں کو حائل سب سے بڑی رکاوٹ معاشی کمزوری ہے۔ ملک پہلے ہی معاشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ایسے حالات میں بڑے ڈیمز تعمیر کرنا اور ان کی تحقیق پر خرچ کرنا حکومت کے لئے کٹھن ترین کام ہے۔
سیاسی سطح پر بہت کم توجہ اور ہلکی پھلکی ترجیح بھی ان منصوبوں کو پس پشت دھکیل دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ڈیموں کے متعدد بار ریاستی سطح پر اعلان و افتتاح کے باوجود تعمیری کام شروع نہیں ہوسکا۔
یہ ایک طویل مدتی کام ہے۔ جس کے اثرات بھی طویل مدت بعد آتے ہیں اور سرمایہ کاری کا منافع بھی طویل مدت بعد ملتا ہے۔ اسی لئے اس کی طرف رجحان کم ہو سکتا ہے۔ طویل مدت تحقیقات کا دورانیہ اور طویل مدت تعمیر کا دورانیہ بھی اس کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔
متوقع سائٹس سے دور دراز انفراسٹرکچر کا قیام یا خستہ حال انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی، الیکٹرو مکینیکل سازو سامان کی مقامی سطح پر عدم دستیابی،تجربہ کار مقامی تعمیراتی کمپنیوں کا فقدان،منصوبوں پر عمل درآمد میں نجی سرمایہ کار کمپنیوں کا کم رجحان اور دیگر کئی تکنیکی و غیر تکنیکی وجوہات بھی پن بجلی کے منصوبوں کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں۔
سیکیورٹی کے مسائل، جیسے پاکستان جغرافیائی طور پر بہت سے اندرونی و بیرونی دشمنوں سے گھرا ہوا ہے اور بہت سے پراجیکٹس پاک۔ بھارت بارڈر کے قریبی علاقوں کی وجہ سے بھی پس پشت جاسکتے ہیں۔
دیگر متبادل توانائی کے زرائع بھی اس کی راہ میں حائل آ سکتے ہیں۔ جیسا کے بہت سے سرمایہ کاروں نے فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹس لگا رکھے ہیں۔ جو کم وقت اور کم قیمت میں سرمایہ کار کو منافع دیتے ہیں۔
ڈیم کے کچھ منفی اثرات جن کو ماضی میں چیلنجز کو طور پر لیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ زمین کا کٹاؤ،تلچھٹ، مختلف سپیشز کا خاتمہ،موسمی تغیرات (بارشوں کی زیادتی)،پانی میں کھار کا بڑھنا، مختلف قسم کی بیماریوں کا پھیلاؤ اور زمین کی گردش میں تبدیلی(ناسا کی تحقیق کے مطابق چین کے تھری گارجز ڈیم کی بدولت زمین کی گردش0.06 مائیکرو سیکنڈز سست ہو گئی ہے)وغیرہ۔
ڈیم کی جگہ سے آبادی کی ہجرت کے مسائل بھی علاقائی و سیاسی سطح پر حائل ہو سکتے ہیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ch Zulqarnain Hundal

Read More Articles by Ch Zulqarnain Hundal: 122 Articles with 61653 views »
A Young Pakistani Columnist, Blogger, Poet, And Engineer
Member Pakistan Engineering Council
C. E. O Voice Of Society
Contact Number 03424652269
.. View More
26 Aug, 2020 Views: 192

Comments

آپ کی رائے