”حقائق تو یہ ہیں“ اور”سلیم اللہ شیخ“ ایک تجزیاتی مطالعہ۔۔۔۔دوسری قسط

(Afzal Razvi, Adelaide-Australia)
سماجی و معاشرتی مضامین کے ضمن میں بہت سے موضوعات پر خامہ فرسائی کی گئی ہے لیکن ان میں ”بسنت \جشن بہاراں“ کے عنوان سے ایک ایسی معاشرتی رسم کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے جس کے انعقاد سے ہر سال کئی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔اس رسم پر مصنف نے کچھ ان الفاظ میں اظہارِ رائے کیا ہے۔”بسنت کا تہوار آج کل ایک رسم کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے اور اس کو بہت ہی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔۔۔
گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

سماجی و معاشرتی مضامین کے ضمن میں بہت سے موضوعات پر خامہ فرسائی کی گئی ہے لیکن ان میں ”بسنت \جشن بہاراں“ کے عنوان سے ایک ایسی معاشرتی رسم کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے جس کے انعقاد سے ہر سال کئی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔اس رسم پر مصنف نے کچھ ان الفاظ میں اظہارِ رائے کیا ہے۔”بسنت کا تہوار آج کل ایک رسم کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے اور اس کو بہت ہی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔اگرچہ یہ تہوار پہلے بھی منایا جاتا تھا مگر گزشتہ چند سالوں سے اس کو سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے اور اس تہوار میں پتنگ بازی کے دوران دھاتی ڈور، کیمیکل لگی ڈور،اور ہوائی فائرنگ سے درجنوں افراد ہر سال جاں بحق ہوجاتے ہیں۔اس کے باوجود یہ

تہوار پابندی کے ساتھ منایا جاتا ہے“۔
مزدور کی زندگی ہر دور میں کٹھن رہی ہے اوروہ ہر دور میں پسا ہے۔ جمہوریت ہو یا آمریت اس کی بھلائی کا کبھی کسی کو خیال نہیں آیا۔مزدور کی پریشانیوں اور دگر گوں حالات کو”ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات“ کے عنوان میں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ:
اگر ہم اپنے معاشرے میں آج مزدوروں کی حالتِ زار کا جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ آج کا مزدور انتہائی مفلوک الحال ہے۔ فیکٹریوں وغیرہ میں عموماً آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار پر عمل ہی نہیں ہوتا اور اگر کہیں اوقات کار پر عمل بھی ہوتا ہے تو پھر دیگر سہولیات (میڈیکل، فوڈ الاؤنس، وغیرہ) نہیں دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا محنت کش روز کنواں کھودتا ہے اور روز پانی بھرتا ہے کی مثال بنا ہوا ہے یعنی اگر وہ کسی دن کام سے رخصت لے گا تو اس کی تنخواہ میں سے اس دن کی رقم کاٹ لی جاتی ہے جبکہ ایک ماہ میں ہفتہ واری چھٹی کے علاوہ کم از کم تین اتفاقی چھٹیاں ایک مزدور کا استحقاق ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں مزدور اپنے ان حقوق سے آگاہ ہی نہیں“۔
گویا اس مضمون کے ذریعے مصنف نے مزدوروں کے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کی ہے لیکن افسوس کہ لکھاری کے الفاظ یا تو اس کی بیاض تک رہ جاتے ہیں یاپھر چھپ جائیں تو محض اخبارات کی زینت بنتے ہیں، حکمرانوں کے محلات تک پہنچتے پہنچتے ان کی صورت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔جس معاشرے مین مزدور کے پاس حقوق نہیں تو وہاں اور کسی حق کی کیا بات ہوگی۔ وہ طبقہ جس نے ان حقوق کے تحفظ کی بات کرنی ہے وہ طبقہ تو اس معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس کا جزو نہیں کیونکہ ہمارا نظام ِ تعلیم طبقاتی ہے اور جس طبقے سے لوگ اقتدار میں آتے ہیں ان کا مزدوروں کے مسائل سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا، اسی بات کو سلیم اللہ شیخ نے اپنے مضمون”ہمارا نظام تعلیم اور طبقاتی تفریق“ میں بیان کیا ہے۔
معاشرے میں طبقاتی نظامِ تعلیم پر سیر حاصل بحث کے بعد مصنف کا قلم وطنیت کی طرف آتے ہوئے عالمی ایٹمی سائنسدان اور پاکستان کے قومی ہیرو کے بارے ”ڈاکٹرعبدالقدیرخان، ایٹمی پروگرام اور عالمی سازشیں“ کے تحت اسرائیل کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔وہ لکھتا ہے،”ڈاکٹر صاحب کی اس بات کے بعد حکومت نے ان کی سزا کے خلاف اور ان کے مقدمے کے خلاف اپیل دائر کی اور بالآخر ڈاکٹر صاحب کو بیگناہ ثابت کیا۔جب ڈاکٹر صاحب کو باعزت بری کیا گیا تو اس وقت اسرائیل نے یہ دھمکی دی تھی کہ ہالینڈ کی عدالت نے تو ڈاکٹرعبدالقدیر کو بری کردیا ہے مگر ہماری عدالت نے ان کو بری نہیں کیا ہے۔ اس وقت سے اسرائیل نے پاکستان کے ایٹمی پراگرام اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا تعاقب جاری رکھا ہوا ہے“۔
پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے رقم طراز ہے:
اگرچہ سازشیں جاری رہیں اور ڈاکٹر صاحب کا مشن بھی جاری رہا مگر سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں

بالآخر اسرائیل اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا اور ڈاکٹر صاحب کو پاکستان کی خاطر نہ کردہ جرم قبول کر کے قید کی تکلیف اٹھانی پڑی۔اگر چہ ڈاکٹر صاحب چاہتے تو اس معاملے میں بھی اسٹینڈ لے سکتے تھے، مگر صرف وطن کی محبت میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بچانے کے لیے، ایٹمی سازو سامان کی اسمگلنگ کا الزام قبول کیا۔بقوم شاعر
؎ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض بھی اتارے ہیں جو واجب بھی نہ تھے
ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراجِ تحسین کے بعد مصنف کووطن کے دگرگوں حالات دیکھ کر سقوطِ ڈھاکہ کی صورت حال یاد آجاتی ہے اور وہ”جاگو اہل وطن جاگو“ کے عنوان کے تحت اپنے ہم وطنوں کو باور کراتا ہے کہ،”اب صورتحال 71ء سے زیادہ خطرناک ہے۔ بھارت، امریکہ، اسرائیل سٹریٹجک پارٹنرز ہیں۔ یہ تینوں ممالک سوات، وزیرستان اور بلوچستان میں باغی سرداروں کو بھاری رقوم اور اسلحہ و بارود فراہم کر رہے ہیں۔ پاک فوج اپنے ہی ملک میں باغی قبائل سے برسرپیکار ہے۔ خانہ جنگی جاری رہی تو عین ممکن ہے کہ بڑے حملہ کے وقت لوکل طالبان اور باغی قبائل حملہ آوروں کا ساتھ دیں۔ اس طرح ہماری مسلح افواج مشرق اور شمال مغرب سے سینڈوچ ہوسکتی ہیں“۔
ازاں بعد قیام ِ پاکستان کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے بانی ئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے فرمودات نقل کیے ہیں اور پھر قوم کو بتایا ہے:
قائد اعظم محمد علی جناح کے ان تمام فرمودات کو سامنے رکھیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ وہ کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہ کچھ طبقات یہ کہتے ہیں کہ قائد اعظم مذہبی رجحان نہیں رکھتے تھے کیوں کہ وہ کلین شیو تھے۔ یہاں ان کی بھی نفی ہوجاتی ہے اور تمام باتوں سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسلمانانِ برِصغیر، قائد اعظم اور تحریک آزادی کے تمام رہنمایان کی جدو جہد آزادی کا مقصد ایک ہی تھا کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطہ? زمین حاصل کی جائے جہاں وہ دین اسلام کے اصولوں پر مبنی ایک مملکت قائم کریں۔ لیکن آج جان بوجھ کر اس مسئلے کو متنازع بنایا جارہا ہے۔ ہماری اللہ سے یہی دعا ہے کہ ”اے اللہ تو ہماری خطائیں معاف فرما، ہمیں توفیق دے کہ تو نے اپنی رحمت سے جو خطہ?زمین ہمیں عطا کیا تھا ہم اس کے مقاصد کو حاصل کرلیں۔“ آمین!
کہتے ہیں کہ کسی کے ذہن اور اس کی سوچ و فکر کا پتا لگا نا ہو تو اس کے دو بہت ہی سہل طریقے ہیں۔یہ کہ اس سے ایک دو گھنٹوں کی نشست کر لو یا پھر اگر وہ لکھاری ہے تو اس کی تحریر کا تجزیہ کرلو معلوم ہو جائے گا کہ اس کی سوچ و فکر کا دھارا کس سمت بہتا ہے۔چنانچہ اس کیس میں دوسری بات پر انحصار کر نا پڑے گا کیونکہ اول ہماری مصنف سے ابھی تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے لیکن اس کی تحریریں ہمارے سامنے ہیں جن کے مطالعے سے یہ بات اخذ ہے کہ مصنف کا ذہن مذہب کی طرف مائل ہے لیکن رجعت پسند نہیں۔ان کی اسلام اور اسلام کے پیغمبر ﷺ سے محبت کا گہرا تاثر ان کے مضامین میں موجود ہے۔مثلاً، نبی اکرم ﷺ کی آمد کی پیش گوئیاں اور رودادِ سفرِ معراج النبیﷺ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
عالمی منظر نامہ بھی سلیم اللہ شیخ کے قلم سے دور نہیں رہ سکا چنانچہ”اوبامہ کی صدارت اورمسلمانوں کی تاریخ“،”کیا اسلام امریکہ کا دشمن ہے“ اور”امریکی دہشت گردی کی تاریخ“ جیسے مضامین اس سلسلے میں بطور مثال پیش کیے جاسکتے ہیں۔مثلاً ایک مضمون میں مصنف لکھتا ہے،”امریکہ خود ایک دہشت گرد ریاست ہے لیکن اس نے پروپیگنڈے کے زور پر، میڈیا کی طاقت سے یہ تاثر دیا ہوا ہے کہ وہ تو دنیا میں امن کا خواہاں ہے، حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے لے کر اب تک امریکہ 22ے زائد ممالک پر بمباری یا میزائل حملے کرچکا ہے۔اس فہرست میں افغانستان، عراق، ایران، سوڈان، صومالیہ، لیبیا،پاکستان،جاپان،اور دیگر ایشیائی اور افریقی ممالک شامل ہیں۔اس کے علاوہ امریکی حکومت اور خفیہ ایجنسی سی آئی اے تقریباً سو سال سے مختلف ممالک کی منتخب حکومتوں کاتختہ الٹنے میں اور اندورنی معاملات میں مداخلت کا جرم کرچکا ہے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے“۔وہ مزید لکھتا ہے کہ،””مہذب دنیا میں امریکہ کی دہشت گردی کی تاریخ سوا سو سال کے عرصے پر محیط ہے۔امریکہ نے اپنے مفادات کے لیے کئی ملکوں پر بمباری، میزائل حملے، مختلف ممالک کے امریکہ مخالف لیڈرز کو قتل کرنے کے لیے کرائے کے قاتلوں کی خدمات، اور اپنی من پسند حکومتیں بنانے کے لیے ڈالرز کی برسات سمیت ہر حربہ استعمال کیا ہے“۔
عالمی تناظر سے مصنف کا قلم ایک بار پھر وطن کی طرف لوٹتا ہے اور”آج کل کے اشتہارات سلو پائزن“ میں اس دشمن کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے کہ ”آہستہ آہستہ زوال آنا شروع ہوا اور اشتہارات میں فحاشی کا عنصر بڑھتا گیا۔اس میں عورت کو بطور شو پیس استعمال کرنیکا رجحان بڑھتا گیا، یعنی سگریٹ کے اشتہار میں عورت، موٹر سائیکل کے اشتہار میں عورت، مردانہ کپڑے کے اشتہار میں عورت، یہاں تک کہ شیونگ کریم اور بلیڈ تک کے اشتہار میں عورت کو استعمال کیا گیا۔ آزادی نسواں اور ترقی کے نام پر عورت کا استحصال کیا گیا“۔یہی نہیں مصنف کی نظر میں میڈیا بھی اس کا ذمہ دار ہے۔وہ لکھتا ہے کہ ”اسی طرح ایک اور بے ہودہ اشتہار ایک موبائل کمپنی کا ہے جس میں ایک ڈیڑہ منٹ تک ایک لڑکی کو جھومتے، گاتے، ناچتے، مدہوش ہوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور آخر کے چند سیکنڈ میں ایک معروف کمپنی کا موبائل بھی دکھا دیا جاتا ہے تاکہ فارمیلیٹی پوری ہوسکے کہ یہ موبائل کا اشتہار ہے کسی لڑکی کا نہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ ایک موبائل سے لڑکی کے ڈانس کا کیا تعلق ہے؟“
مندرجہ بالا موضوعات پر اپنے قلم کے جوہر دکھانے کے بعد ”لوڈشیڈنگ کے فوائد“ بیان کرتے ہیں:
پھر آپ یہ دیکھیں کہ لوڈ شیڈنگ معاشرے میں طبقاتی نظام کے خاتمے اور مساوات کی پالیسی پر کاربند ہے۔ دیکھیں نا بھئی پہلے لوگوں کو یہ شکایت ہوتی تھی کہ سارے مصائب، ساری مشکلیں صرف غریبوں کے لیے ہیں اور امیر ہر دکھ سے بے نیاز ہیں۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوتا ہے بلکہ اب کیا صنعت کار، کیا صنعتی مزدور، کیا تاجر، کیا آڑھتی، کیا ملازمت پیشہ، کیا ٹھیلے والا، کیا افسر، کیا ماتحت، کیا اورنگی ٹاؤن میں رہنے والا، کیا پی ای سی


ایچ ایس اور ڈیفنس میں رہنے والا، کیا گلبرگ میں رہنے والا، گوالمنڈی میں بسنے والا،صاحبو! بجلی والوں نے کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا ہے، کسی خاص طبقے کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔ بلکہ لوڈ شیڈنگ پورے ملک میں، تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر جاری ہے۔ یعنی
؎ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
میرے بھائیو اور بہنو! اس بات پر تو ہمیں واپڈا، کے ای ایس سی، پیپکو، حیسکو،اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے سے طبقاتی تفریق اور کمپلیکس کے خاتمے جیسا اہم کام کررہے ہیں یہ تو وہ کام ہے جو 62 سالوں میں تمام سیاست دان مل کر بھی نہیں کرسکے ہیں۔ تو کیا یہ کوئی چھوٹی بات ہے؟
المختصر ان مضامین کا بنظرِ غائر مطالعہ یہ احساس دلاتا ہے کہ مصنف نے ان کو احاطہ تحریر میں لانے سے پہلے خوب ہوم ورک کیا ہے اور ایک لمبی ریاضت کے بعد اپنے قلم کو جنبش دی ہے۔ ہماری نیک تمنائیں مصنف کے ساتھ ہیں اور ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ان کو آباسد وشاد رکھے اور ان کے محنت کے جذبے کو سدا سلامت رکھے تاکہ یہ اسی مھنت اور مشقت سے اپنے قلم سے معاشرے کے مسائل کو عوام کے سامنے لاتے رہیں۔پنجابی کے چند مصرعوں پر اپنی بات ختم کرتا ہوں:
چل فریدا لبھیئے انّھوں
جدے دل وچ وسّے پیار
گلی دی سوچوں نکل کے باہر
منّھے سبھ نوں اپنا یار
من دی مسجد کرکے صاف
کرے سبھ تے جان نثار
رضویؔ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 101 Articles with 37271 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
27 Aug, 2020 Views: 91

Comments

آپ کی رائے