چینی صدر کا دورہِ پاکستان اور اسکے اپنے مسائل۔

(Inayat khan, Islamabad)
یہ تحریر چینی صدر کے ستمبر میں متوقع دورے اور چین کے بیرونی دنیا کو دیئے گئے قرض کی واپسی میں درپیش مسائل پر لکھی گئی ہے۔


موجودہ وقت میں چین کے بیرونی دنیا کو دیئے گئے قرضے کا حجم 1.5 ٹریلین ڈالر ہے جو روایتی آفیشل قرضہ جاتی اداروں IMF اور World bank سے بڑا حجم ہے. دوسرے الفاظ میں چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا قرضہ دینے والا ملک ہے۔
گزشتہ برس چین نے اپنی پیداوار کے عوض گلوبل GDP میں 5 فیصد نمایاں بڑھوتری کا دعوی کیا تھا. مگر عالمی وباء کرونا کی وجہ سے چین کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئیں۔ نیویارک ٹائمز میں چھپے حالیہ آرٹیکل میں چین کو درپیش اس سنگین خطرے کی طرف نشاندہی کی گئی ہے جو چین کے بیرونی دنیا کو دیے گئے بھاری قرض کے متعلق ہے، یہ بھاری قرضہ چین نے اپنے ایک ہزار ارب ڈالر کے میگا پروجیکٹ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے ضمن میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کو دیا۔ 2013 میں چین کا اس منصوبے کے لیے 350 ارب ڈالر دینے کا بنیادی مقصد اپنے اتحادی مضبوط کرنا اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔یہ قرضہ جات زیادہ تر کمزور معیشت والے ممالک کو دیے گئے جن میں سری لنکا، کرغزستان اور پاکستان شامل ہیں۔

کرونا وباء کی وجہ سے ان ممالک کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے، تاہم ان میں سے کوئی ملک بھی قرضہ جلد واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے البتہ چین کو ان سمیت دوسرے ممالک سے بھی قرضہ معافی یا ری سٹرکچر کرنے کی درخواستیں موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ کرونا وباء سپرپاور بننے کا خواب دیکھنے والے ملک چین کی برآمدات پہلے ہی بری طرح متاثر کر چکی ہے۔

اگر اس مرحلے پر چین بیرونی قرضوں کو ری سٹرکچر یا معاف کرنے کی کوئی پالیسی بناتا ہے تو اس سے اس کا اپنا معاشی نظام بیٹھ سکتا ہے۔ قرضہ جات کی معافی میں دوسری بڑی مشکل سے چین کی عوام ہے جو کرونا وباء کی وجہ سے پہلے ہی معاشی سست روی کا شکار ہو چکی ہے ایسے میں حکومت کا قرضہ کے متعلق کوئی مقروض ممالک کو کسی قسم کی چھوٹ دینا حکومت کا اپنی عوام کو ناراض کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

دونوں صورتوں میں چین کے لئے کوئی فیصلہ لینا کافی مشکل ہو رہا ہے۔ دوسری طرف اگر چین قرضہ واپسی کی کوئی سخت پالیسی اختیار کرتا ہے تو اس کے اتحادیوں سے تعلقات سفارتی سطح پر خراب ہو سکتے ہیں جو چین جیسے ملک کے لیے مستقبل میں اس کے اہداف کے لئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔
جہاں تک چینی صدر کی دورہِ پاکستان کی بات ہے تو یہ دورہ 2015 کے اسٹیٹ دورے سے کافی مختلف ہو سکتا ہے، گزشتہ دورے میں چین اور پاکستان کے مابین 51 چھوٹے بڑے منصوبوں پر دستخط ہوئے جن کے ضمن میں پاکستان کو بھاری قرضہ بھی فراہم کیا گیا۔ یہ دورہ اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے کہ چین آئندہ یا واجب الادا قرضہ جات کے متعلق کیا پالیسی اختیار کرتا ہے۔

وزیر خارجہ نے چین کے حالیہ دورے کے بعد بیان دیا ہے کہ چینی صدر پاکستان آنے کے شدید خواہش مند ہیں، اس خواہش کا پیش خیمہ دورہ مکمل ہونے کے بعد ہی پتہ چلے گا جو کہ ستمبر کے وسط میں شیڈول ہے البتہ مذکورہ خدشات سے اس دورے کی متوقع افادیت کی ایک سادہ سی تصویر بنائی جا سکتی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat khan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Aug, 2020 Views: 70

Comments

آپ کی رائے