افسانہ حجاز

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

کتاب کا نام افسانہ حجاز(سفر نامہ )
مصنف عبدالغفور
اشاعت قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل ، یثرب کالونی ۔ بنک سٹاپ والٹن روڈ لاہور کینٹ

ہدیہ 3500روپے

جناب عبدالغفورصاحب تن کے سچے اور من کے اجلے انسان ہیں ۔کتابیں پڑھنے کا ان کو جنون کی حد تک شوق ہے ۔ان سے میرا تعلق بھی ایک کتاب کی وجہ سے ہی قائم ہوا ۔میری اس کتاب کا نام "لمحوں کا سفر"ہے ۔بظاہر تو اس کتا ب میں میری غربت سے بھری زندگی کا رونا دھونا ہی تھا لیکن یہی رونا دھونا عبدالغفور سمیت بے شمار لوگوں کو پسند آ گیا ۔ جس کتا ب کا تذکرہ عبدالغفور تسلسل سے کرتے ہیں اسی کتاب کو روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر جناب مجیب الرحمان شامی صاحب سمیت ماہرین ادب نے ادب میں ہمیشہ زندہ رہنے والی کتاب قرار دے رکھا ہے ۔قصہ مختصر آج عبدالغفور صاحب میری ذات کا حصہ بن چکے ہیں ۔بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ بھی بتاتا چلوں کہ عبدالغفور صاحب دوستی کرنا بھی خوب جانتے ہیں اور دوستی کو نبھانا بھی کوئی ان سے سیکھے ۔وہ گورنر ہاؤس کی تاریخی عمارت کے ایک خوبصورت گوشے میں عرصہ دراز سے رہائش پذیر ہیں۔یہ بات صیغہ راز میں ہے کہ وہ گورنر ہاؤس میں کب داخل ہوئے اور کیسے داخل ہوئے۔ لیکن گورنرہاوس کا ہر خوبصور ت گوشہ اور ہر حصہ ان کی دسترس سے باہر ہرگز نہیں ہے ۔کتنے ہی گورنر آئے اور کتنے ہی چلتے گئے ، لیکن عبدالغفور صاحب کا طوطی گورنر ہاوس میں ہمیشہ بولتا رہا ۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہم تو انہیں ہی گورنر پنجاب سمجھتے ہیں، جنہوں نے گورنرہاوس میں آنے والے بیشمار لوگوں کے عروج و زوال دیکھے ۔ان کی شخصیت میں چھپی ہوئی قائدانہ صلاحیتیں ہر ملنے والے پر یقینااثرانداز ہوتی ہیں ۔جب سے انہوں نے مجھے اپنا دوست بنایا اس دن سے میرے دوستوں کی فہرست میں وہ سب سے اول اور نمایاں دکھائی دیتے ہیں ۔

اس وقت میرے پیش نظر ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتا ب" افسانہ حجاز " ہے ۔یہ کتاب حج بیت اﷲ کی سعادت حاصل کرنے کے دوران عبدالغفور صاحب نے جن جن مقامات مقدسہ کا مشاہدہ کیا اورجہاں جہاں ان کا جانا ہوا ، وہاں پر انہوں نے کیا محسوس کیا اور ان کو کس قدر مشاہدات اور تبرکات حاصل ہوئے ،وہ سب اس کتاب میں لفظوں اور تصویروں کے روپ میں موجود ہیں ۔وہ لکھتے ہیں کہ 2005ء اور 2014 میں مجھے ارض مقدس میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔جبکہ ان کی بیگم پروین اختربھی 2008ء اور 2014ء میں عمرے کی ادائیگی کے لیے ارض مقدس جا چکی ہیں لیکن میاں بیوی کا اکٹھے حج پر جانے کا یہ موقعہ پہلا موقع ہے ۔

کہنے کا مقصد تو یہ ہے کہ عمرہ کی ادائیگی کا اعزاز تو مجھے بھی اﷲ تعالی اور نبی کریم ﷺ کی دعاؤں کے طفیل مل چکا ہے لیکن گھٹنے کے درد کی بنا پر میں صرف خانہ کعبہ اور مسجد نبوی تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ اس اعتبار سے عبدالغفور صاحب خوش قسمت ہیں کہ انہیں مکمل صحت مند حالت میں حج کی سعادت حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جہاں تک ان کی اس کتاب میں مختلف زیارتوں کا تعلق ہے سچی بات تو یہ ہے کہ جب میں نے سفرطائف اور زیارت بنی سعد کا مضمون پڑھا تو میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے۔عبدالغفور صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارا پروگرام طائف اور اس نے 70کلومیٹر آگے واقع بنی سعد قبیلہ کی بابرکت اور ارفع و اعلی وادی کی زیارت کا شرف حاصل کرنا بھی تھا ۔جہاں اﷲ کے حبیب محمد ﷺ نے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ تعالی عنہاکے آنگن میں اپنے بچپن کے چند سال گزارے تھے ۔

عبدالغفور صاحب لکھتے ہیں کہ ہم 105کِلومیٹر کا سفر طے کرکے طائف پہنچے ۔طائف کا وسیع و عریض شہر ہمارے سامنے تھا ۔ٹیکسی ڈرائیور سمیع اﷲ پہلے ہمیں مسجد ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ لے گیا۔تازہ وضو کرکے ہم مسجد کے اندر چلے گئے ۔مسجد کی چھت کا کافی حصہ گرا ہوا تھا ،لوگوں نے اس چھوٹی سی مسجد میں اپنے جائے نماز بچھائے ہوئے تھے ۔مسجد کے ساتھ صدیوں پرانی دیواریں آج بھی کھڑی تھیں۔کسی نے ہاتھ سے وہاں مسجد رسول اﷲ ﷺ لکھا ہوا تھا۔کہاجاتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ طائف کے لوگوں کے نامناسب رویے کی بناپر زخموں سے چور ہوکر یہیں استراحت کی غرض سے تشریف فرما ہوئے تھے۔حضرت عداس ؓ جو عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کے نصرانی غلام تھے ،ان کے باغ کی دیکھ بھال کرتے تھے انہوں نے آپﷺ کی خدمت میں انگور لاکر پیش کیے تھے ۔آپﷺ نے انگور تناول فرمانے سے پہلے بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھا تو حضرت عداس ؓ نے عرض کی ۔کہ یہ کلمات تو ان کے علاقے میں بھی پڑ ھے جاتے ہیں ، لیکن یہاں تو نہیں پڑھے جاتے۔آپﷺ نے پوچھا تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟تو عداسؓ نے بتایا کہ میں نینوا کا رہنے والا ہوں ۔آقا ﷺ نے فرمایا اچھا تم یونس علیہ السلام کے علاقے سے ہو۔عداس رضی اﷲ تعالی نے حیران ہوکر پوچھا آپﷺ انہیں کیسے جانتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا وہ میرا بھائی ہے ۔اﷲ کا پیغمبر ہے ۔میں بھی اﷲ کا پیغمبر ہوں۔یہ سن کر عداسؓ نے آپ ﷺ کے سر،ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیااور مسلمان ہوگیا ۔

طائف کی اسی وادی میں جب آپ ﷺ زخموں سے چور تھے تو آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور فرمایا ۔اے اﷲ تو نے مجھے کن لوگوں کے حوالے کردیا ہے؟ تو اسی لمحے حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عر ض کی یارسول ﷺ یہ میرے ساتھ پہاڑوں کا فرشتہ بھی آیا ہے، آپﷺ حکم دیں تو یہ دونوں پہاڑوں کو ٹکرا کر اس بستی والوں کو تباہ کردے ۔آپﷺ نے فرمایا نہیں ۔اﷲ تعالی نے مجھے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے ،میں اس بستی کے لیے بددعا نہیں مانگ سکتا ۔ شاید ان کے آنے والی نسلیں ایمان لے آئیں۔عبدالغفور صاحب لکھتے ہیں کہ ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ اس قطعہ زمین پر بیٹھ گیا کہ شاید ہمارے پیارے آقا ﷺ بھی یہیں کہیں تشریف فرما ہونگے۔

عبدالغفور صاحب لکھتے ہیں کہ اب ہماری زندگیوں میں نہایت خوشگوار موڑ آرہا تھا ۔صرف خیالوں میں ہی سوچاتھا کہ اﷲ کرے کبھی ہم بھی بنی سعد کے علاقے میں جائیں اور حلیمہ سعدیہ ؓ کے گھر کا مقدس مقام دیکھیں جہاں پیارے نبی ﷺ نے اپنے بچپن کے چند ابتدئی سال گزارے تھے۔جہاں ننھے منے ،حسین و جمیل ،پاکیزہ ،نرم و نازک قدم مبارک جابجا ثبت ہوئے ہونگے۔بنی سعد کی پرفضا اور معطر وادی طائف سے 70کلومیٹر دورہے۔جب ہم اس سرزمین پر اترنے لِگے تو میں نے زمین پر پاؤں رکھنے کی بجائے اپنا ہاتھ رکھا جو ستاروں سے روشن ذرے ہاتھ کو لگے وہ میں نے اپنے چہرے پر مل لیے ۔مجھے دیکھ کر بیگم نے بھی یہی عمل دھرایا۔پھر بیت حلیمہ ؓ کی رخ کیا ۔تھوڑی سی چڑھائی چڑھنے کے بعد تین چھوٹے چھوٹے حجروں کو جوڑ کر نشان دہی کی ہوئی تھی ۔جن میں خواتین اور مرد نوافل ادا کررہے تھے ایک مصلی خالی تھا اس پر میں نے نوافل ادا کیے ۔یوں جان سے بھی پیارے آقاﷺ کے قدمین والی عالی شان ارض مقدس پر ماتھا مس کرنے کا شرف حاصل کرلیا۔ کہنے کو تو ساری وادی ہی متبرک تھی لیکن یہ پہاڑی دوسرے پہاڑوں کے مقابلے میں نازاں ہوگی ۔اسی پہاڑی کے پہلو میں ایک ہموار قطعہ موجود تھا جس پر آپﷺ کا پہلا شق قلب کا واقعہ رونما ہوا تھا ۔وہاں جھنڈ نما درخت بھی تھے جہاں میرے آقاﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے۔وہاں سے خوبصورت یادیں اپنی آنکھوں میں سموئے مکہ مکرمہ پہنچے تو دن کا اجالا شام کے سائے میں ڈھل چکا تھا ۔ہم نے سوچا چلتے چلتے قصر کعبہ کی زیارت کرتے چلیں ۔
قصر کعبہ ایک میوزیم ہے جہاں خانہ کعبہ کی صدیوں پرانی استعمال شدہ اشیا رکھی گئی ہیں ،بہت بڑی تعداد میں متبرکات بھی رکھے گئے تھے ۔دو سوسال کی پرانی ساگوان کی کعبہ کی پرانی سیڑھی دیکھی جو آج بھی بہت اچھی حالت میں تھی ۔کعبۃاﷲ کا قدیم تالا اور چابی بھی وہاں موجود تھی ۔صدیوں پرانا حضرت ابراہیم ؑ کا کیس بھی وہاں موجود تھا۔کعبہ کے اند ر جو تین ستون ایستادہ ہیں ان میں ایک مکمل ستون وہاں موجود تھا۔مسجد حرام کے میناروں کے بہت پرانے براس کے کلس اور پرانی کھڈی جس پر خانہ کعبہ کا غلاف تیار ہوتا تھا صحیح حالت میں وہاں موجود تھی ۔ان تمام تبرکات کی جی بھرکے زیارت کی اور تصویریں بنائیں۔

مکہ مکرمہ اور اس کے مضافات کے مقدس مقامات کی تو سیاحت ہوچکی تھی ۔اب عبدالغفور صاحب اور انکی بیگم آٹھ دس دنوں کے لیے مدینہ منورہ پہنچ گئے ۔مسجد نبوی ،روضہ رسول ﷺ اور جنت البقیع کے مشاہدات کا ذکر وہ اس کتا ب میں تفصیل کررہے ہیں لیکن اختصار کی خاطر یہا ں ہم صرف ان مقدس مقامات کا تذکرہ کرنے جا رہے ہیں جہاں مدینے جانے والا ہر خوش نصیب شخص ضرور جاتا ہے ، مجھے بھی یہ سعادت حاصل تو ہوئی تھی لیکن گھٹنوں کے درد نے ہی ہر جگہ پریشان کیے رکھا۔

عبدالغفور صاحب نے مسجد قبا، مسجد قبلتین ، باغ و بیئر عثمان غنیؓ ، باغ سلمان فارسی،بیئر گرس، مساجد خندق ، میدان و جبل احد ، مزار سید الشہدء حضرت امیرحمزہ ؓ ، جبل رماۃ مسجد احد کی زیارتوں کا پروگرام بنایا۔سب سے پہلے وہ مسجد قباء پہنچے ۔وہ اس مسجد کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ مسجد قباء کو اسلام کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔یہ مسجد حرام خانہ کعبہ ،مسجد نبوی ﷺا ور مسجد اقصی بیت المقدس کے بعد تمام مساجد سے افضل ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا مسجد قبا ء میں نوافل و نماز پڑھنا عمرہ کے ثواب کے برابر ہے ۔ یہ مسجد انتہائی خوب صورت اور وسیع ہے یہاں نوافل ادا کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔اس کے بعد مسجد قبلتین کا رخ کیا جسے دو قبلوں والی مسجد بھی کہاجاتا ہے ۔آپﷺ نے مکہ سے ہجرت کے بعد17ماہ تک نماز بیت المقدس کی جانب رخ کرکے پڑھائی ۔حضورﷺ کی قلب مبارک میں یہ خواہش موجزن تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہو ۔اﷲ تعالی جو دلوں کا حال بھی جانتا ہے اس نے ہجرت کے اٹھارویں مہینے شعبان دو ہجری اور غزوہ بدر سے ایک ماہ قبل تحویل قبلہ کا حکم عین حالت نماز میں صادر فرمایااور نماز کے دوران ہی آپ ﷺ نے اپنا رخ انور بیت المقدس سے بالکل الٹ سمت مکہ مکرمہ کی طرف پھیر لیا ۔صحابہ کرام نے بھی حضورﷺ کی اتباع کی ۔اب بیت المقدس کی طرف دیوار پر اوپر کی سمت محراب کی شکل بنا کر اس کی نشاندھی کی گئی ہے۔یہاں بھی نوافل ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اسکے بعد عبدالغفور صاحب اور ان کے رفقائے کار بیئرگرس جا پہنچے ۔اس کنویں کے پانی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو وصال ہوا تو اس کنویں کے پانی سے آپﷺ کو غسل دیا گیا تھا۔زیارتوں کے اگلے سلسلے کی باری مزرع حضرت سلمان فارسی ؓ تھا ۔سلمان فارسی کی کہانی تو بہت طویل ہے لیکن یہاں اختصار سے لیتے ہوئے اتنا ہی لکھنا کافی ہوگا ۔ کہ آپؓ ایک یہودی کے غلام کی شکل میں مدینہ تشریف لے آئے ۔ایک دن ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ نبی آخرالزمان محمد ﷺ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے ہیں ۔ایک ملاقات میں آپ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اپنے دل کی با ت کی تو آپﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور ان کے کہنے پر مہر نبوت بھی دکھا دی ۔سلمان فارسی ؓ سے آپ ﷺ نے فرمایا تم اپنے یہودی آقا سے رہائی حاصل کر لو ۔جب سلمان فارسی ؓ نے یہ بات اپنے یہودی آقا سے کی تو انہوں رہائی کے عوض دو شرائط رکھیں ایک چالیس اوقیہ سونا اور تین سو کھجور کے درخت لگائیں جب وہ پھل دینے لگ جائیں تو پھر آزادی ملے گی ۔سلمان فارسیؓ نے یہودی آقا کی شرائط آپﷺ کے گوش گزار کیں تو آپﷺ نے کھجور کے تین سو پودے خود زمین میں لگائے اور دعا فرمائی ۔ایک سال کے اندر اندر تمام پودے درخت بن کر پھل دینے لگے ۔اب سونے کی شرط باقی تھی۔ایک شخص نے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوکر سونے کی ڈلی آپﷺ کی خدمت میں پیش کی۔آپﷺ نے یہ سونا دے کر سلمان فارسی ؓ کو فرمایا جاؤ اپنے مالک کو ادا کردو۔اس طرح آپ ؓ کو یہودی آقا سے رہائی ملی ۔

اس کے بعد مصنف کتاب عبدالغفور صاحب بیئر حضرت عثمان عفان ؓ کا مشہور کنواں جو آپ ؓ نے یہودی سے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیاتھا،کا تعارف کرواتے ہیں ۔اس کے بعد جبل احد کی جانب رخ کیا ۔اس پہاڑ کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا احد مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں اس سے ۔احد پر آؤ تو اس کے درخت سے کچھ کھاؤ ۔اگرچہ کانٹے دار درخت ہی کیوں نہ ہوں۔اسی پہاڑ کے دامن میں حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ کا مزار بھی ہے،مزار کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کردی گئی ہے ۔وہ غار جہاں آپﷺ نے دوران جنگ ا ستراحت فرمائی تھی وہ آبادی کے بہت قریب آ چکی ہے۔درمیان میں چھوٹی سی سڑک موجودہے۔اس سے اگلا مقام مساجد خندق تھی ۔عبدلغفور صاحب لکھتے ہیں کہ غزوہ خندق کے مقام پر ابھی بھی چھوٹی چھوٹی مسجدیں موجود ہیں ۔چند ایک مساجدکو شہید کرکے اس کی جگہ ایک انتہائی خوب صورت مسجد بنا دی گئی جن میں بیگم سمیت غفورصاحب نے نوافل ادا کئے ۔ زیارتوں کے آخر میں عبدالغفور صاحب حاجی امتیاز صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں اپنی گاڑی میں تمام مقدس زیارتیں کرائیں اور زندگی کی خوبصورت یادیں لے کر وہاں سے لوٹے ۔

2اکتوبر 2017ء کو عبدالغفور صاحب اور ان کی بیگم کاسفر حج اختتام کو پہنچا ۔حج بیت اﷲ اور عمروں کے سعاد ت کے علاوہ مسجد نبوی اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے دوران عبدالغفور صاحب اور ان کی بیگم کی دلی کیفیات کیا تھیں۔یہ جاننے کے لیے قارئین کو کتاب "افسانہ حجاز" کو پڑھنا ہوگا جس کا ہر ہر ورق اور ہر ہر لفظ روحانیات سے لبریز ہے ۔اس کتاب کو پڑھنے والے کا دل بھی چاہے گا کہ وہ بھی حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کر نے ارض مقدس جائے تو ان تمام مقدس زیارتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کراپنے ایمان کو تازگی بخشے۔ جہاں قدم قدم اﷲ کی رحمت برستی ہے ،جہاں کا ہر ہر ذرہ نبی آخرالزمان کے قدموں کے بوسے لیتا رہا ہے ۔وہ وقت بھی کیا خوب ہوگا اور لمحات بھی کیا ہونگے ہم تو ان کا تصور کرکے خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں لیکن ان مقامی لوگوں کی خوش بختی کے کیا کہنے جن کی زندگی کا ہر ہر لمحہ روحانیت سے لبریز ان وادیوں میں گزرتا ہے ۔عبدالغفور صاحب اور ان کی بیگم پروین اختر 22اگست 2017ء کو حج بیت اﷲ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے لاہور سے روانہ ہوئے تھے اور 2اکتوبر 2017ء کو واپس اپنے وطن لوٹ آئے ۔

اس کتاب میں مقدس مقامات کی رنگین تصویریں بھی شامل ہے ۔240صفحات پر مشتمل یہ کتاب طباعتی معیار کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے ۔بیک فلیپ روزنامہ خبریں کے کالم نگار محمد فاروق عزمی نے تحریرکیاجبکہ علامہ عبدالستار عاصم صاحب جو قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے روح رواں ہیں انہوں نے بھی کتا ب کی اہمیت پر اپنے الفاظ میں روشنی ڈالی۔ سیرت نگار جناب تفاخرمحمود گوندل نے اپنی بہترین لفاظی سے کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں اس قدر محبت کا اظہار کیا ہے کہ بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے ۔ آخر میں یہ کہنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں کہ ارض مقدس حج اور عمرہ کرنے کے لیے ضرور جانا چاہیے لیکن اگر یہ فریضہ جوانی اور صحت مندی کی حالت میں ہی ادا کرلیاجائے تو بہت اچھا ہے ۔عمر کے آخری حصے میں جبکہ تمام جسمانی اعضا ساتھ نہ دے رہے ہوں ارض مقدس جانا خود کو نہ ختم ہونے والے امتحان میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 533 Articles with 252822 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2020 Views: 347

Comments

آپ کی رائے