یونیورسٹیاں اور حالات کے تقاضے!

(Anwar Graywal, Bahawal Pur)

 تقریب جامعہ اسلامیہ بہاول پور کے مہمان خانہ میں تھی، تقریب کیا تھی، بس کچھ گپ شپ کا ماحول تھا اور لذتِ کام ودہن کا اہتمام۔ پروفیسر نعیم مسعود کے اعزاز میں عشائیہ کا بندوبست تھا۔ دو درجن کے قریب لوگوں میں زیادہ تعداد تو پروفیسر حضرات کی ہی تھی، تاہم کچھ غیر پروفیسر افراد بھی موجود تھے، ڈگریوں سے مزین اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے جھرمٹ میں شاید یہ ناچیز ہی سب سے کم پڑھا لکھا تھا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب بھی موجود تھے، جوکہ انجینئر ہیں۔جامعہ کے موجود اساتذہ کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں تھے، کہ ابھی اُن لوگوں کی ترقی کے پھولوں میں تازگی پائی جاتی تھی، ترقی کی خوشی کے لڈّو ابھی اُن کے دلوں میں پھوٹ رہے تھے۔ یہ خوشگوار واقعہ صرف اِنہی چند افراد کے ساتھ پیش نہ آیا تھا، بلکہ جامعہ کے دیگر شعبہ جات کے بہت سے لوگ بھی تھے، جن کی ترقیاں سالہا سال سے رُکی ہوئی تھیں، اب جاکے ان کی قسمت نے یاوری کی اور اُن کے مقدر کا ستارہ چمکا۔ ظاہر ہے، اس کارِ نمایاں کا پورا کریڈٹ موجودہ وائس چانسلر کو ہی جاتا ہے، کہ جنہوں نے جامعہ کو نئی جہات پر ڈال کر ترقی اور کامرانی کی نئی راہیں کھولیں۔ یونیورسٹی کی فیکلٹی میں اضافہ کیا، تعلیمی شعبہ جات کی تعداد دگنا سے بھی زائدکر دی، اساتذہ اور ملازمین کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی۔

آبادی میں اضافہ کی وجہ سے جامعہ میں داخلوں کے لئے بے حد دباؤ ہے، ایک لاکھ کے قریب طلبہ و طالبات نے مختلف شعبوں میں درخواست گزاری۔ اس قدر دباؤ سے یونیورسٹیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر زیقینا گھنٹہ گھر کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر حالات کے مطابق جامعات کے قوانین میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے، وائس چانسلر کی معاونت اور شعبہ جات کی تقسیم کے لئے افرادی قوت کی تعیناتی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن اپنے ہاں ادارے ہوں یا صوبہ یا پھر ملک، اپنے اختیارات میں کمی یا تقسیم اختیارات کے بارے میں کم ہی لوگ سوچتے یا ایسا کرنے کی ہمت کرتے ہیں، تاہم یہاں کے رئیس الجامعہ نے خود یہ تجویز دی کی مرکزیت قائم رکھتے ہوئے اختیارات کو تقسیم ہونا چاہیے۔ شاید کام کرنے والے لوگ ہی کام کا بوجھ محسوس کرتے ہیں، ورنہ تو ادارہ جاتی نظام ’بہترین‘ انداز میں چل رہا ہے، یعنی پرانی خرابیوں کی اصلاح نہیں کرنی اور کوئی نیا کام شروع نہیں کرنا۔

جامعات کے گرد اپنے ہی شہریوں کے لئے آہنی حصار قائم ہیں۔ عوام و خواص کو خبر نہیں کہ کسی بھی عظیم مادرِ علمی کے اندر تعلیمی سرگرمیاں کس طرح سرانجام دی جارہی ہیں، یقینا یہ انتظامیہ اور اساتذہ کا ہی کام ہے، تاہم یونیورسٹیوں میں وہ کون سا شعبہ ہے، جس کی جڑیں باہر معاشرہ میں موجود نہیں، حقیقت تو یہی ہے کہ ہر شعبہ سے فارغ ہونے والے طلباو طالبات نے باہر جاکر انہی میدانوں میں اترنا ہوتا ہے، مگر ہوتا یہ ہے کہ انہیں صرف کتابی علم سے ہی روشناس کروایا جاتا ہے، دو چار ڈیپارٹمنٹ ہیں، جنہیں ’فیلڈ‘ میں لے جائے بغیر کام نہیں چلتا۔ اس کے باوجود کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ کسی شعبہ نے اپنے ہی قرب و جوار سے اپنے شعبہ میں مہارت رکھنے والے کسی بڑے آدمی کو جامعہ میں دعوت دی ہو، کہ جناب ! آیئے، ہمارے سٹوڈنٹس کو اپنے تجربات سے کچھ آگاہی دیجئے، انہیں کچھ بتائیے کہ’’ کلاس اور کتاب‘‘ کی تعلیم کے بعد جب وہ میدانِ عمل میں اتریں گے تو انہیں کن باتوں کا خیال رکھنا ہے، انہیں کونسے مسائل درپیش ہوں گے؟ شاید جامعات کی نگاہ میں ’’بڑے‘‘ کا مطلب بڑے شہروں میں رہنے والے ہی ہوتے ہیں۔ نصاب کو جدید اور نئے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کی بجائے مکھی پر مکھی مارنے کی روایت قائم ہے،(یہ عمل عین محاورے کے مطابق جاری رکھا جاتا ہے، کہ فارغ لوگوں کا یہ مرغوب مشغلہ ہے)۔ ہر علاقہ میں ہر شعبہ کے ماہرین دستیاب ہوتے ہیں، جو جنرلوں میں چھپنے والے آرٹیکلز سے بھی زیادہ علم اور تجربہ رکھتے ہیں۔ باہر سے بڑے لوگوں کو یہاں لانے ، ان کے ساتھ شامیں منانے، بڑے بڑے قومی یا بین الاقوامی سیمینارز کرنے جیسے اقدامات تو ہوتے رہتے ہیں، اُن علاقائی لوگوں سے فائدہ اٹھانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

ہر رئیس الجامعہ اپنے مزاج کے مطابق ہی اپنے فرائض نبھاتا ہے، بسا اوقات شومئی قسمت سے مردم بیزار لوگ بھی اِن اہم مناصب پر فائز ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجہ میں پورا ماحول گُھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ جامعہ اسلامیہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے، کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر مختار نے یونیورسٹی کو ایک سماجی مرکز بنا دیا تھا، بہت عرصہ بعد لوگوں کو اندر آنے اور اندر والوں کو باہر جانے کا موقع ملا۔ ان کے بعد آنے والے وائس چانسلر نے مردم بیزاری کی زبردست مثال قائم کرتے ہوئے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے، یونیورسٹی شہریوں کے لئے ’’نو گو ایریا‘‘ بن کر رہ گئی۔ یہ مطالبہ نہیں کہ ہر کسی کو بے روک ٹوک آنے جانے کی اجازت دی جائے، ضرورت یہ ہے کہ ضرورت کے مطابق تولوگوں کا آنا اور انہیں لایا جانا چاہیے۔ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے جامعہ کے مقفّل دروازے کھولنے شروع کئے ہیں، چار دیواری سے باہر کی دنیا سے رابطے اور تعلقات کا آغاز ہو چکا ہے۔ یقینا منصوبہ بندی کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، مخصوص مشیروں سے ہوشیار رہنے اورچوکنّا رہنے میں ہی عافیت ہے۔ یونیورسٹیوں میں چونکہ عالی دماغ لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے، اس لئے جامعات کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ پورے معاشرے سے جہاں مدد لے وہاں ہر طبقے کی رہنمائی کا فریضہ بھی نبھائے، شہریوں کو اچھے بُرے سے آگاہ کرے، چھوٹے بڑے ایشوز پر انہیں بہترین مشورے دے، زندگی کے شعبہ جات میں تکنیکی معاونت فراہم کرے۔ جامعہ سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات ’’فارغ‘‘ ہی نہ ہوں بلکہ معاشرے کے بہترین شہری بن کر نکلیں۔ اساتذہ تنگ نظری اور اپنی آپس کی چپلقش کی بجائے وسیع تر قومی مفاد کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرنے لگیں تو ملک وملت کی ترقی کی راہ میں کوئی دشمن روڑے نہیں اٹکا سکتا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 587 Articles with 232977 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2020 Views: 124

Comments

آپ کی رائے