بیرون ملک ملازمت کرنے والوں کو واپس جانے میں مشکلات

(Naeem Khan, )

کرونا وائرس پاکستان میں کافی حد تک ختم تو ہوچکا ہے لیکن لوگوں کو اس سے درپیش مشکلات ختم ہی نہیں ہورہے ہیں ۔

کرونا وائرس سے پہلے جو ملازمین چھٹی پر آئے تھے اور اب ان کی چھٹی پوری ہوچکی ہے اور واپس جانا چاہتے ہیں اج کل ان کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ فلائٹس کے بحالی کے باوجود بھی وہ لوگ جا نہیں پارہے ہیں ۔ کوئی کمپنی کہہ رہی ہے کہ اپروول کی ضرورت ہے تو کوئی کہہ رہی ہے کے اپروول کا سسٹم ختم ہوچکا ہے اور کوئی کہہ رہا ہے کہ سسٹم میں آپ ڈیٹس ہوۓ ہیں وقت لگے گا۔ اسطرح جو لوگ آن لائن اپروول بھیج رہے ہیں ان کو ایک دن گرین مارک تو دوسرے دن ریڈ مارک نظر آتا ہے اور وہ لوگ اپروول بھیج بھیج کر تھک چکے ہیں اسکے علاوہ کچھ جعلی websites نے معصوم لوگوں کو لوٹنا بھی شروع کیا ہے ۔

اس حالات کے پیش نظر ملازمین طبقہ بیت پریشان ہے کیونکہ انھوں نے جو جمع پونجی رکھی تھی وہ لاک ڈاؤن کے دوران ختم ہوچکی ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ واپس چلے جاۓ اور کچھ کماۓلیکن بہت کوششوں کے باوجود بھی وہ نہیں جا پارہے ہیں۔ بہت سارے لوگوں نے تو مہنگے مہنگے ٹکٹس بھی خرید لۓ ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ نہیں جا پارہے ہیں

ایک ہفتہ پہلے کی بات ہیںکہ میرے رشتہ داروں میں سے دو افراد نے جن کے ساتھ اور لوگوں بھی تھیں اپنے ٹکٹس ایک کمپنی سے کرواۓ لیکن مقررہ تاریخ سے چند دن پہلے جب وہ اپنے ٹیسٹ کرنے جارہے تہیں تو انھیں فون آگیا کہ آپ کیفلائٹ کینسل یا بند ہوچکی ہیں اسلۓ اب آپ نہیں جاسکتے۔اسطرح اور بھی لوگوں کی فلائٹس کینسل ہوچکی ہیں اور اب وہ سخت پریشان ہیں کہ کیا کریں۔

ایک تو ان ملازمین کو اپنے visa ایکسپائر ہونے کاخدشہ ہےکیونکہ اگر ویزا اکسپائر ہوگیا تو الگ سے مسلہ کھڑا ہوجاۓگا۔اور دوسرا ے کہ جو لوگ بیرون ملک میں بہت وقت سے کام کرتے آرہے ہیں انھیں اپنے ملک میں ملازمت کرنے اور کاروبار جمانے میں وقت لگتا کیونکہ انہیں کوئی تجربہ نہیں ہوتا اور کاروبار کرنے کیلۓ پیسے بھی لگتے ہیں جو کہ وہ چٹ چکے ہیں۔

آخر میں میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم لوگوں پر رحم کریں اور جن ملازمین کوجو مشکلات درپیش ہیں انھیں ختم کریں اور انھیں واپس اپنے روزگار دلائیں تاکہ وہ خوش رہے ۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Naeem Khan

Read More Articles by Naeem Khan: 4 Articles with 1411 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2020 Views: 138

Comments

آپ کی رائے