انسداد منشیات میں رکاوٹ کون ۔؟

(Umer Farooq, )

حکومت نے بھنگ کاشت کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعدسوشل میڈیاپریوتھیے بھنگ کے فضائل بیان کرنے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات نے نشہ آور اشیا پر قابو پانے کا (ترمیمی)بل کثرت رائے سے منظور کر لیا، بل کے متن کے مطابق 999گرام تک بھنگ برآمد ہونے پرتین سال تک قید جبکہ 20ہزار گرام یا اس سے زیادہ بھنگ بر آمد ہونے پر 14سال قید سے عمر قید تک کی سزا دی جا سکے گی، پی ٹی ایم کے رکن اسمبلی محسن داوڑ نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس بیں بعض ایسی چیزیں ہیں جن سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوں گے۔

موجودہ حکومت کوپہلے دن سے یہ سمجھ نہیں آرہاکہ کیاکرناہے اورکیانہیں کرناایک طرف حکومت منشیات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کررہی ہے جبکہ دوسری طرف بھنگ کی کاشت کی اجازت دے رہی ہے ،جس دن وفاقی کابینہ میں بھنگ کی کاشت کی اجازت دینے کافیصلہ ہوااس سے اگلے دن وزیراعظم نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات اعظم خان سواتی کو اہم ٹاسک سونپا وزیراعظم نے تعلیمی اداروں میں منشیات بیچنے والوں کی سزائیں دگنی کرنے کے لئے قانون سازی کی ہدایت بھی کی ہے،یوتھیے بھی چکراگئے ہیں کہ وہ کیاکریں حکومت کاکون سافیصلہ درست ہے وہ بھنگ کی کاشت کا لائنسس حاصل کریں یاٹائیگرفورس میں شامل ہوکرمنشیات بیچنے والوں کی نشاندہی کریں ؟

حکومتی فیصلے سے تویوں لگتاہے کہ اب نشئی اورمنشیات فروش بھنگ کی کاشت کاباقاعدہ لائنسس حاصل کریں گے اورحکومت ہرسال فخرسے بتائے گی کہ ہم نے اتنی تعدادمیں بھنگ کاشت کرکے ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں ۔اس حکومت کی ساری کارکردگی بھنگ کی کاشت کی اجازت دینے ،شراب کالائنسس جاری کرنے ،مخالفین پرمنشیات برآمدگی کاجھوٹامقدمہ بنانے اوراس مقدمے پرجھوٹی قسمیں کھانے ،شراب کی بوتل کی شہدکی بوتل قراردینے تک محدود ہے حکومت کے تازہ فیصلے کے بعد بھنگ پینے والوں نے جوخوشیاں بنائی ہیں اورانہوں نے جس طرح سے عمران خان کی حکومت کودعائیں دی ہیں اس طرح کی دعائیں توپی ٹی آئی کے جیالوں نے بھی نہیں دیں اب معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی کے جیالے ملنگ بن گئے ہیں یاسارے ملنگ پی ٹی آئی میں آگئے ہیں ۔
ؒ
جہاں تک محسن داوڑکاتعلق ہے توان کی مجبوری ہے کیوں کہ یہ پی ٹی ایم والوں کاکاروبارہے ان کی ساری جمع پونجی کاانحصاراسی منشیات پرہے ، محسن داوڑنے یہ نہیں بتایاکہ منشیات فروشوں کوسخت سزائیں دینے سے کون سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوں گے؟البتہ اس سے یہ واضح ہوگیاکہ پی ٹی ایم والے نوجوان نسل میں منشیات کازہرگھولناچاہتے ہیں اورانہیں منشیات کاعادی بناناچاہتے ہیں ا س کے ساتھ ساتھ وہ اس آڑمیں اپنے کاروبارکاتحفظ چاہتے ہیں تاکہ منشیات فروشی کاجوبھی ملزم پکڑاجائے اسے سخت سزانہ دی جاسکے ۔

خیبرپختونخواہ میں فاٹا میں منشیات کی خرید و فروخت اور اس کے استعمال پر ابتدا ہی سے کوئی پابندی نہیں رہی ہے۔پی ٹی ایم کے پنپنے کے بعد اب بھی ملک کے زیادہ تر قبائلی علاقوں میں بھنگ کی فصل کاشت کی جاتی ہے جس سے چرس بنتی ہے۔جبکہ پشتون موومنٹ سے تعلق رکھنے والے زیادہ ترافرادافغانستان سے بھی بڑی تعدادمیں منشیات سمنگل کرتے ہیں،پھرمنظم طریقے سے ملک اوربیرون ملک پھیلاتے ہیں قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ کی بحالی کے بعد اب منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے،جس کی وجہ سے پی ٹی ایم کوپریشانی کوسامناہے اوروہ اس قسم کے قوانین کی مخالفت کررہے ہیں ۔

ایک رپورٹ کے مطابق افغان جنگ کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں منشیات کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا اور بدامنی کی وجہ سے مذکورہ علاقوں میں نہ صرف منشیات کے کاروبار کو فروغ ملا قبائلی علاقوں میں قابل کاشت اراضی پر نصف سے زیادہ زمینوں پر افیون کاشت کی جا رہی ہے اور اب یہ باقاعدہ ایک کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ بدقسمتی سے اس لعنت سے متاثرہ افراد میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق قبائلی اور خیبر پختونخوا معاشرے کے لاتعداد نوجوانوں کیلئے نسوار اور سگریٹ نوشی تو عام نشے ہیں جبکہ لاتعداد افراد چرس اور افیون جیسے لعنتی نشے کے عادی بن چکے ہیں جس کی وجہ سے ان معاشروں میں کافی بگاڑ دیکھنے کو ملتا ہے اور نشے کے استعمال کی وجہ سے سینکڑوں افراد ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بدامنی کے بعد دوسرے مسائل کے ساتھ اس وقت قبائلی علاقوں کی نسل کو جو خطرہ لاحق ہے وہ منشیات کا بے دریغ استعمال ہے۔ گو کہ پاک فوج کے دہشتگردی کے خلاف مختلف آپریشن سے بدامنی پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے اور قبائلی علاقوں کی ڈویلپمنٹ کیلئے بھی کام جاری ہے، لیکن قبائلی علاقوں میں کوئی ایسی حکمت عملی وضع نہیں کی گئی جس سے مذکورہ علاقوں سے جاری سمگلنگ میں ملوث نوجوانوں، بچوں اور سمگلروں کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکے،بدقسمتی سے اب پی ٹی ایم ان سمگلروں کی پشتی بان بن کرسامنے آئی ہے ۔پاک فوج اور منشیات سمگلنگ روکنے والے اداروں کی کوششیں جاری ہیں لیکن دورافتادہ اور آمدورفت کیلئے مشکل علاقے ہونے کی وجہ سے مشکلات بدستور موجود ہیں۔ پاک افغان بارڈرز جو کہ اب سکیورٹی جامعہ تلاشی کیلئے سخت ہیں لیکن پھر بھی دشوار گزار پہاڑی گزرگاہوں یا دوسرے ذرائع سے منشیات کی اسمگلنگ ہو رہی ہے جن میں بچوں اور نوجوانوں کا استعمال شامل ہے۔

منشیات نوشی سے پاکستان کی نوجوان نسل کا مستقبل تاریک ہورہاہے۔ ایسے ایسے نشے منظر عام پر آنا شروع ہو گئے کہ جن کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ شراب، چرس، افیون، ہیروئن اور دیگر نشوں کے عادی افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہاہے، پیسوں کی لالچی شیطان صفت سمگلروں اور منشیات ڈیلروں نے نوجوان نسل کا مستقبل دا ؤپر لگا کر رکھ دیا ہے۔ایسے میں حکومت کی طرف سے بھنگ کی کاشت کی اجازت دینے کافیصلہ سمجھ سے بالاترہے ،

جہاں تک محسن داوڑاورپی ٹی ایم کاتعلق ہے توان کاپہلے دن سے یہ ایجنڈہ ہے کہ ملکی قوانین کااحترام نہیں کرنا یہی وجہ ہے کہ وہ پابندی کے باوجود گزشتہ روزکوئٹہ پہنچے مگرسیکورٹی حکام نے انہیں ائیرپورٹ سے باہرنہیں جانے دیاحکام نے محسن داوڑاورعلی وزیرپر مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت بلوچستان میں 90 روز کی پابندی عائدکررکھی ہے،محسن داوڑکوجب پتہ تھا ان پرپابندی ہے توانہوں نے سفرکیوں کیا ؟صرف اس وجہ سے کہ کوئٹہ ایئرپورٹ پرحالات خراب کیے جائیں اوراس واقعہ کی آڑمیں پورے بلوچستان میں احتجاج کانیاسلسلہ شروع کیاجائے اورصوبے میں عدم استحکام پیداکرنے کی سازش کی جائے ۔

افغان بارڈرپی ٹی ایم کی سرگرمیوں کامرکزہے طورخم سے لے کرچمن تک سیکورٹی حکام دہشت گردی اورسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں پی ٹی ایم کویہ اقدامات ہضم نہیں ہورہے ہیں ،اسی تناظرمیں جب بڑی عیدکے موقع پرچمن بارڈر پرسکیورٹی اقدامات اٹھائے توپی ٹی ایم نے جان بوجھ کروہاں حالات خراب کیے ، جہاں ایک خونی تصادم ہواتھا اس تصادم کے روح رواں پی ٹی ایم کے رہنماء بہرام خان تھے اب محسن داوڑچمن بارڈرکے واقعہ کواستعمال کرنے کے لیے کوئٹہ پہنچے تھے ،حکام کوان شرپسندعناصرکے خلاف سخت سے سخت سے کاروائی کرنی چاہیے تاکہ انسدادمنشیات کے ساتھ ساتھ انسداد،شروفساد،،بھی ہوسکے ۔



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 90 Articles with 19716 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Sep, 2020 Views: 95

Comments

آپ کی رائے