پاکستان اور سیاست

(Malik Umer, )

آپ کے توسط عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ترقی یافتہ اور دیگر بہت سے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی سیاست بہت کمزور ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمارے ملک کی سیاست میں افراتفری رہی ہے۔ کم تعلیم والے افراد کا پارلیمنٹ میں ہونا، مخالفین کا ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنا اور گالیاں دینا، سیاستدانوں کا ملکی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کی خاطر کام کرنا، انتخابات میں دھاندلی کے الزامات، روزبروز سیاسی پارٹیوں میں اظافہ، جاہل اور ان پڑھ عوام کا ووٹ ڈالنا وغیرہ ایسے فعل ہیں جو کہ پاکستان کی سیاست پر داغ کی مانند ہیں۔دیکھا جائے تو غریب عوام کا استحسال کرنا،ان کو بےوقوف بنانا اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا پالستان کے سیاست دانوں کا شیوہ رہا ہے۔الیکشن کے دنوں جلسوں کے ذریعے،چھوٹے عوامی مسائل کو حل کر کے، عوام کو پیسے دے کر یا پھر دھمکی دے کر ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایسی بےروخی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جیسے وہ اس ملک کے باشندے ہی نہ ہوں۔ پاکستان میں کئی مرتبہ اپنی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی حکومت کو ختم کر دیا جاتا رہا ہے۔سیاستدانوں کی انہی بےوقوفیوں اور الزام تراشیوں کی وجہ سے کئی بار فوج کو آمریت کی شکل اختیار کر کے حکومت سنبھالنا پڑی، جسکی وجہ سے معیشت اور سیاست پر برے اثرات مرتب ہوئے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جسمیں کوئی بھی وزیراعظم اپنی پوری مدت(پانچ سال) مکمل نہ کر سکا۔پاکستان میں تقریبا ہر حکومت کئی پارٹیوں کے اتحاد کے باعث قائم ہونے کی وجہ سے پائیدار حکومت ثابت نہ ہو سکی۔کسی بھی جمہوری ملک میں حزب اختلاف کا وجود لازمی ہے اور اس کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھے ۔لیکن پاکستان کے ہر دورحکومت میں یہ"اختلاف برائے اختلاف" کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہ حکومت کی منفی سرگرمیوں کے بجائے مثبت سرگرمیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کبھی دل سے دوسری پارٹی کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان چونکہ ایک جمہوری ملک ہے تو اس میں سیاست کا ہونا لازمی ہے اور ویسے بھی سیاست کو جمہوریت کی روح کہا گیا ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں کو چاہیے کہ سیاست کو اس کے صحیح معنوں میں استعمال کیا جائے۔جب سیاست میں دھوکہ، فراڈ اور جھوٹ وغیرہ جیسی بیماریاں نہیں ہوںگی تو ملک پر تعلیم یافتہ، باشعور، ایماندار اور مخلص قیادت کی حکومت قائم ہو گی اور ملک ترقی کرے گا۔
تحریر: عمر شریف

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Umer

Read More Articles by Malik Umer: 4 Articles with 909 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Sep, 2020 Views: 360

Comments

آپ کی رائے