اردو ادب کا مزاح اور عہدِ یوسفی: میری نظر میں!

(Afzal Razvi, Adelaide-Australia)
گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔قسط سوم
”خاکم بدہن“ کے دیباچے بعنوان”دست زلیخا“ میں کہتے ہیں:
انسان کو حیوان ظریف کہا گیا ہے۔ لیکن یہ حیوانوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ اسلیے کہ دیکھا جائے تو انسان صرف واحد حیوان ہے جو مصیبت پڑنے سے پہلے مایوس ہوجاتا ہے۔ انسان واحد جاندار ہے، جسے خلاق عالم نے اپنے حال پر رونے کے لیے غدودگریہ بخشیہیں۔ کثرت استعمال سے یہ بڑھ جائیں تو حساس طنز نگار دنیا سے یوں خفا ہوجاتے ہیں جیسے اگلے وقتوں میں آقا نمک حرام لونڈیوں سے روٹھ جایا کرتے تھے۔ لغزش غیر پر انہیں ہنسی کے بجائے طیش آجاتا ہے۔ ذہین لوگوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جو احمقوں کا وجوود سرے سے برداشت ہی نہیں کر سکتی۔ لیکن، جیسا کہ مارکوئس دی سید نے کہا تھا، وہ بھول جاتے ہیں کہ سبھی انسان احمق ہوتے ہیں۔ موصوف نے تو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ اگر تم واقعی کسی احمق کی صورت نہیں دیکھنا چاہتے تو خود کو اپنے کمرے میں مقفّل کرلو اور آئینہ توڑکر پھینک دو۔ 17
گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔قسط سوم
”خاکم بدہن“ کے دیباچے بعنوان”دست زلیخا“ میں کہتے ہیں:
انسان کو حیوان ظریف کہا گیا ہے۔ لیکن یہ حیوانوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ اسلیے کہ دیکھا جائے تو انسان صرف واحد حیوان ہے جو مصیبت پڑنے سے پہلے مایوس ہوجاتا ہے۔ انسان واحد جاندار ہے، جسے خلاق عالم نے اپنے حال پر رونے کے لیے غدودگریہ بخشیہیں۔ کثرت استعمال سے یہ بڑھ جائیں تو حساس طنز نگار دنیا سے یوں خفا ہوجاتے ہیں جیسے اگلے وقتوں میں آقا نمک حرام لونڈیوں سے روٹھ جایا کرتے تھے۔ لغزش غیر پر انہیں ہنسی کے بجائے طیش آجاتا ہے۔ ذہین لوگوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جو احمقوں کا وجوود سرے سے برداشت ہی نہیں کر سکتی۔ لیکن، جیسا کہ مارکوئس دی سید نے کہا تھا، وہ بھول جاتے ہیں کہ سبھی انسان احمق ہوتے ہیں۔ موصوف نے تو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ اگر تم واقعی کسی احمق کی صورت نہیں دیکھنا چاہتے تو خود کو اپنے کمرے میں مقفّل کرلو اور آئینہ توڑکر پھینک دو۔ 17
جہاں تک مجھے معلوم پڑتا ہے فیض احمد فیض ؔ سے پہلے غالب ؔ وہ شاعر تھے جنہیں شاعری میں صنفِ نازک کے سوا بھی کچھ سوجھا وگرنہ اردو کی شاعری ہمیشہ صنفِ نازک کی محتاج رہی۔ یہی معاملہ کچھ اردو کے مزاحیہ ادب کی بھی ہے کہ مزاح نگار کسی نہ کسی طور عورت کو اپنے مضمون کا حصہ بنا ہی لیتا ہے لیکن جس طرح مشتاق احمد یوسفی نے ”صنف لاغر“ میں اسے اپنے مضمون میں شامل کیا ہے وہ انہی کا خاصا ہے اگرچہ اس کا پرتو آج کے مزاح نگار یونس بٹ کے یہاں دیکھنے کو مل رہا ہے مگر فرق یہ ہے کہ یوسفی اسے پھکڑ پن کا شکار نہیں ہونے دیتا جب کہ یونس بٹ کے یہاں یہ بات نہیں۔
زمانہ قدیم میں ایران میں نسوانی حسن کا معیار چالیس صفات تھیں (اگر چہ ایک عورت میں ان کا یکجا ہوناہمیشہ نقض امن کا باعث ہوا) اور یہ مشہور ہے کہ شیریں ان میں سے انتالیس صفات رکھتی تھی۔ چالیسویں صفت کے بارے میں مورخین متفقہ طور پر خاموش ہیں۔ لہذا گمان غالب ہے کہ اس کاتعلق چال چلن سے ہوگا۔ اس زمانے میں ایک عورت میں عموماً ایک ہی صفت پائی جاتی تھی۔ اس لئے بعض بادشاہوں کو بدرجہ مجبوری

اپنے حرم میں عورتوں کی تعداد بڑھانی پڑی۔ ہر زمانے میں یہ صفات زنانہ لباس کی طرح سکڑ تی، سمٹتی اورگھٹتی رہیں۔ بالآخر صفات تو غائب ہو گئیں، صرف ذات باقی رہ گئی۔ یہ بھی غنیمت ہے کیونکہ ذات و صفات کی بحث سے قطع نظر یہی کیا کم ہے کہ عورت صرف عورت ہے۔ ورنہ وہ بھی رد ہو جاتی تو ہم اس کا کیا بگاڑ لیتے 18
”موسموں کا شہر“ میں ان کا اندازِ تحریر ملاحظہ کیجیے:
ایک اور ایک کفایت شعار خاتون (جنھوں نے پچھلے ہفتہ اپنی ۳۲ویں سالگرہ پر ۲۳موم بتیاں روشن کی تھیں) اکثر کہتی ہیں کہ دس سال پہلے میں گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑی رہتی تھی۔ لیکن یہاں کی آب و ہوا اتنی واہیات ہے کہ اب بے خبری میں آئینے پر نظر پڑ جاتی ہے تو اس کی ”کوالٹی“ پر شبہ ہونے لگتا ہے۔
لیکن غصہ ان حضرات پر آتا ہے جو بے سوچے سمجھے یہاں کے موسم پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اس کی وضاحت نہیں فرماتے کہ انہیں کون سا موسم ناپسند ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ کراچی میں موسم ہر لحظہ روئی کے بھاؤ کی طرح بدلتا رہتا ہے۔ ہم نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ ایک ہی عمارت کے کرایہ دار ایک منزل سے دوسری منزل پر تبدیل آب و ہوا کی غرض سے جاتے ہیں۔ یہاں آپ دسمبرمیں ململ کا کرتہ یا جون میں گرم پتلون پہن کر نکل جائیں تو کسی کو ترس نہیں آئے گا۔ اہل کراچی اس واللہ اعلم بالصواب قسم کے موسم کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ اگر یہ دو تین گھنٹے تبدیل نہ ہو تو وحشت ہونے لگتی ہے اور بڑی بوڑھیاں اس کو قربِ قیامت کی نشانی سمجھتی ہیں۔ 19
”خاکم بدہن“ جو یوسفی کی دوسری کتاب ہے۔اس میں ”ہوئے مر کے ہم جو رسوا“ کے عنوان سے لکھتے ہوئے مرزا کی حرکات وسکنات اور فکر وخیال کو جس طرح منفردانداز میں لفظوں کا جامہ پہنایا ہے وہ درج ذیل اقتباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اب مجھے مرزا کی چونچال طبیعت سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ لہٰذا انھیں ولدیّت کے مستقبل پر مسکراتا چھوڑ کر میں آٹھ دس قبردُور ایک ٹکڑی میں شامل ہوگیا، جہاں ایک صاحب جنّت مکانی کے حالاتِ زندگی مزے لے لے کربیان کررہیتھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ خُداغریقِ رحمت کرے، مرحُوم نے اِتنی لمبی عُمر پائی کہ ان کے قریبی اعزّہ دس پندرہ سال سے ان کی اِنشورنس پالیسی کی امّید میں جی رہے تھے۔ ان امّیدواروں میں سے بیشتر کو مرحُوم خود اپنے ہاتھ سے مٹیّ دے چکے تھے۔ بقیہ کو یقین ہوگیا تھا کہ مرحُوم نے آبِ حیات نہ صرف چکھا ہے بلکہ ڈگڈگا کے پی چکے ھیں۔ راوی نے تو یہاں تک بیان کیا کہ ازبسکہ مرحُوم شروع سے رکھ رکھاو? کے حد درجہ قائل تھے، لہٰذا آخر تک اس صحّت بخش عقیدے پر قائم رہے کہ چھوٹوں کو تعظیماً پہلے مرنا چاہیے۔ البتّہ اِدھر چند برسوں سے ان کو فلکِ کج رفتار سے یہ شکایت ہوچلی تھی کہ افسوس اب کوئی دشمن ایسا باقی نہیں رہا، جسے وہ مرنے کی بددُعا دے سکیں۔ 20
”ہل اسٹیشن“ میں انہوں نے ایسے لوگوں کی عکاسی کی ہے جن کے پاس بے بہا دولت ہے اور ان کی اولادیں دولت کی اس فراوانی کی وجہ سے دوسروں کو نیچا اور غریب دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
میری سنو 1956 کی بات ہے، گرمیوں میں کچھ یہی دن تھے۔ میری بڑی بچی اسکول سے لوٹی تو بہت روہانسی تھی۔ کریدنے پر پتہ چلا کہ اس کی ایک سہیلی جو وادی سوات جار ہی تھی، طعنہ دیا کہ کیاتم لوگ نادار ہو، جو سال بھراپنے ہی گھر میں رہتے ہو۔ صاحب! وہ دن ہے اور آج کا دن، میں تو ہر سال مئی جون میں چھٹی لے کر مع اہل و عیال ”انڈر گراؤنڈ“ ہو جاتا ہوں۔ پھر انہوں نے کراچی کے اور بھی بہت سے زمین دوز شرفا کے نام بتائے جو انہی کی طرح سال کے سال اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اپنا یہ وار کار گر ہوتا دیکھا تو ”ناک آؤٹ“ ضرب لگائی۔فرمایا”تم جو ادھر دس سال سے رخصت پر نہیں گئے تو لوگوں کو کیال ہو چلا ہے کہ تم اس ڈر کے مارے نہیں کھسکتے کہ دفتر والوں کو کہیں یہ پتہ نہ چل جائے کہ تمہارے بغیر بھی بخوبی کام چل سکتا ہے“۔ 21
”چند تصویر بتاں“ میں مزاح کا انداز ملاحظہ کیجیے۔ یاد رہے کہ یوسفی کو جب کہیں مزاح پیدا کرنے میں دقت آتی ہے تو وہاں ان کا تخلیقی کردار ”مرزا عبدالودود بیگ“ کود کر ان کی مشکل آسان ہی نہیں کرتا بلکہ حل کر دیتا ہے۔ مثلاً دیکھیے اسی مضمون میں ایک مقام پر بات ہاتھ سے نکلتی محسوس ہوتی ہے لیکن اگلے ہی لمحے مرزاان کے قلم کی فراوانی لیے اسٹیج سجا دیتے ہیں۔
مرزا جب سے بولنا سیکھے ہیں، اپنی زبان کو ہماری ذات پر ورزش کراتے رہتے ہیں۔اوراکثر تلمیح و استعارے سے معمولی گالی گلوج میں ادبی شان پیدا کر دیتے ہیں۔ابھی کل کی بات ہے۔ کہنے لگے، یار! برا نہ ماننا۔ تمہارے فن میں کوئی کروٹ، کوئی پیچ، میرا مطلب ہے، کوئی موڑ نظر نہیں آتا۔ ہم نے کہا، پلاٹ تواردوناولوں میں ہوا کرتا ہے۔ زندگی میں کہاں؟ بولے ہاں، ٹھیک کہتے ہو۔ تمہاری عکاسی بھی تمہاری زندگی ہی کا عکس ہے۔ یعنی اول تا آخر خواری کا ایک نہ قابل تقلید اسلوب!22
اسی طرح ”بائی فوکل کلب“ میں بھی مرزا کی تشریحات قابلِ غور ہیں:
پورے دو مہینے مرض میں ہند و یوگ آسن اور میتھی کے ساگ کا اضافہ کرنے کے بعد ہم نے مرزا سے جاکر کیفیت بیان کی۔ استماع حال کے بعد ہماری دائیں چینیک پر دو انگلیاں رکھ کر انہوں نے نض دیکھی۔ ہم نے حیرت سیان کی طرف دیکھا تو بولے، چالیس سال بعد مرد کا دل نیچے اتر آتا ہے! پھر فرمایا، تمہارا علاج یہ ہے کہ فوراً بائی فوکل بنوالو۔ ھم نے کہا مرزا! تم تو شراب بھی نہیں پیتے۔ کہنی کا آنکھ سے کیا تعلق؟ بولے، چار پانچ مہینیسیدیکھ رہاہوں کہ تمہاری پاس کی نظربھی خراب ہوگئی ہے۔ کتاب نزدیک ہو تو تم پڑھ نہیں سکتے۔ تقاضائے سن ہی کہنا چاہیے۔ تم اخباراورکتاب کوآنکھ سے تین فٹ دور بائیں ہاتھ میں پکڑ کے پڑھتے ہو۔

اسی لیے ہاتھ کے پٹھیاکڑ گئے ہیں۔ چنانچہ کہنی میں جو درد ہے، درد میں جو۔۔۔ الخ۔ 23

”زرگزشت“ کے عنوان”موصوف“ کے کئی ضمنی عنوانات ہیں، جیسے شیشے کی آنکھ، ہماری انمول گھڑی، وہ اک مردِ مسلمان تھا، ان کی گھڑی کو بخار چڑھا، عالی جاہ نے رپٹ لکھوائی، ۱۲ پتیں،ہمارا کچھا چٹھا،ہماری تنخواہ سے ملکی معشیت کی تباہی،ٹونی صاحب، ملا عبدالصمد اور مس مارجری بالڈ،انگریزوں میں بھی دہلوی اور لکھنوی ہوتے ہیں،وہ ایک تحفہ جسے تو گراں سمجھتا ہے،بندو خان کی زبانی،اکلوتے بیٹے کا استقبال،فری میسزی کی ایک جھلک، کوئل نے ہاف بائلڈ انڈادیا،ایڈوائزر کے فرائض،سر کا خطاب، چھوٹی ناک اور طلاق، ہے خبر گرم ان کے جانے کی، سپاس نامہ،کیا برا تھا رو لینا ایسے مسکرانے سے، وغیرہ وغیرہ شامل ہیں یہاں p 294 ”،انگریزوں میں بھی دہلوی اور لکھنوی ہوتے ہیں“ سے ایک اسکاچ کے ساتھ ہونے والے مکالمے کو رقم کیا ہے۔ یاد رہے اسکاچ لوگ انگریزوں سے سخت متنفرہوا کرتے تھے۔ شاید اب اتنے نہیں۔اسی تناظر میں یہ سطریں لکھی گئیں ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
انگریزکا نام زبان پر آتے ہی بارود خانے میں آگ لگ گئی۔
”آآآ! (کسی بات کی زور شور سے تردید کرنی ہوتی تو انگشت شہادت اٹھا کر مد لگاتا چلا جاتا تھا۔) مجھے یہ تو معلوم ہے کہ اسکینڈل، اسٹاف کی غذائے روحانی ہے، لیکن میری ولدیت کے بارے میں یہ گمراہ کن اطلاع کس کتیا کے بچے نے دی؟ میں انگلش نہیں، اسکاٹ ہوں۔ اسکاٹ۔“ انگریزوں کے لیے اس کے دل میں نفرت اور حقارت تھی جو صدیوں پرانی تھی۔
اس فہمائش کے دوسرے دن ہمارا ایک واجبی سا ڈرافٹ دیکھ کر غالباً اشک شوئی کی خاطر کہنے لگا، تم انگریزی خاصی لکھ لیتے ہو۔ اگر شگفتگی سے پرہیز کرو تو کہیں بہتر لکھ سکتے ہو۔
ہم نے جوابی تعریف کی کہ جناب بھی بہت عمدہ انگلش۔۔۔
لفظ انگلش ہمارے منہ سے ابھی ۳ /۱ ہی باہر نکلا تھا کہ کل کی برہمی یاد آ گئی۔ ازسرنو احتیاط سے جملہ گھڑا کہ جناب بھی بہت عمدہ اسکاچ لکھتے ہیں۔
بارود خانہ پھر آگ پکڑ گیا۔ کہنے لگا، ”آآآ! یہ اطلاع تمہیں کس باسٹرڈ انگریز نے دی۔ میں اسکاچ لکھتا نہیں۔ اسکاچ پیتا ہوں۔ دھڑلے سے لیکن انگلینڈ والوں کی طرح مجھے عورت کی پیاس نہیں لگتی۔ اور ہاں! رابرٹ برنس (اسکاٹ لینڈ کا ایک قدیم شاعر) سے بڑا شاعر انگلینڈ میں پیدا ہوا، نہ ہوگا۔ میں اسکاٹ لینڈ میں پھانسی پانے کو انگلینڈ میں طبعی موت مرنے پر ہزار بار ترجیح دوں گا۔ 24
”پروٹوکول“یعنی تشریفات کے تحت بھی یوسفی نے بہت سے چھوٹے چھوٹے ضمنی عنوانات قائم کیے ہیں، جن میں بہت کام رفو کا نکلا، چہرہ عورت کا اور دھڑ؟، مشورے ہو رہے ہیں آپس میں، چہار درویش، کچھوا پروفیسر سے بازی لے گیا، دھنک رنگ، ایک کھڑکی کھلی

ہوئی ہے ابھی، ہماری ٹریننگ میں ہاتھی کود پڑا، کرائے کے ہار، ہاتھوں ہاتھ،ہمارے فرائض کے لذائذ، گریگری پیک نے ہمیں بھی گلے سے لگا کر پیار کیا، اس انتظار میں کس کس سے پیا ر ہم نے کیا وغیرہ شامل ہیں۔یہاں پروٹوکول کے ضمنی عنوان”مشورے ہو رہے ہیں آپس میں“ کی چند ابتدائی سطریں درج کی جارہی ہیں:
فائل کا عقبی نقاب ڈالے ہم اس کوچے سے یوں بے آبرو ہو کر نکلے۔ باہر آکر ہم نے اپنے باس مسٹر یعسوب الحسن غوری کو یہ مژدہ سنایا تو ان کی کلغی ڈھلک کر ایڑی سے آلگی۔ مصیبت یہ تھی کہ ہم نے کوئی بحری جہاز نہیں دیکھا تھا۔ اور نہ انہوں نے ۳۵سالہ جرمن عورت۔ لہٰذا تشریفاتی مہم پر روانگی سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے کے معلوماتی خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً ہم نے پوچھا، پانی کا جہاز تو منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد بھی غالباً پانی میں ہی کھڑا رہتا ہے یا ’لینڈ‘ کرتا ہے۔ ریل کی طرح سیٹی دیتا ہے یا ہوائی جہاز کی طرح بغیر ہارن کے چھٹا پھرتا ہے؟ بحیرہ? عرب کی سطح آب، سطح کراچی سے، اور سطح جہاز ان دونوں سے کتنی اونچی یا نیچی ہوگی؟ نسینی لگانی پڑے گی؟ مال بردار جہاز سے پسنجر کس طرح چھڑایا جاتا ہے؟ طوفان اور بجلی کے ڈر سے تنہا عورت ذات لوہے لکڑ سے لدے ہوئے کارگو اسٹیمر میں کس سے چمٹتی ہوگی؟ جہاز میں کھمبا ہوتا ہے؟ 25
موصوف،پروٹوکو ل اور ناٹک ایک خاص قدرے مشترک یہ ہے کہ ان میں بہت سے ضمنی عنوانات کے تحت لکھا گیا ہے۔موصوف اورپروٹوکول کے ضمنی عنوانات پہلے بیان ہو چکے چنانچہ اس مشابہت کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ناٹک کے ضمنی عنوانات کا ذکر بھی کیا جارہاہے۔ ان میں؛ بے در ودیوار ناٹک گھر بنایا چاہیے، مصور درد منشی ریاضت علی سوختہ، سیٹ ڈیزائن، نکاح روبرو باادب باملاحظہ، مرزا راون کے روپ میں، ونس مور، ٹریجڈی کو کامیڈی میں بدلنے کا نسخہ، اسٹیج کے آلات کشا ورزی، چوڑی دار پاجامہ، پردہ اٹھتا ہے وکیل صفائی،ہم نے مجرا دیکھا، سونے کے دانت والی لڑکی، مسٹر ولیم شیکسپیر مرحوم،دوسرا ناٹک، بہت آگ چلموں کی سلگانے والے، تڑپے ہے مرغا قبلہ نما آشیانے میں،ڈیوڑھا آدمی، نذرِ ارسطو، جملہئ تیموریہ، فردِ جرم، نظام سقہ وغیرہ شامل ہیں۔ملاحظہ کیجیے ناٹک کی چند ابتدائی سطریں۔
صحیح نام اور پتہ بتانے سے ہم قاصر ہیں، اس لیے کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔ سردست اتنا اشارہ کافی ہوگا کہ اس تھیٹر کو اداکاروں کی ایک کوآپریٹیو سوسائٹی نقصان باہمی کی بنیاد پر چلا رہی تھی۔ پہلی تاریخ کو بڑی پابندی سے مہینے بھر کا خسارہ تمام ممبران کو بحصہ مساوی بانٹ دیا جاتا تھا۔ صرف ٹکٹ گھر پختہ تھا کہ اس پر کھیل کے بعد اکثر حملے ہوتے رہتے تھے۔ ہال کی دیواریں اور چھت ٹاٹ کی تھیں، جن میں خلاف محاورہ پیوند بھی ٹاٹ ہی کے لگے تھے۔ چھت قمری کیلنڈر کا کام دیتی تھی۔ ٹاٹ کی قناتوں میں بھی جابجا سر کے برابر سوراخ ہوگئے تھے۔ کھیل کے شروع میں ان میں سرگھسا کر باہر والے اندر کا تماشا دیکھتے، آخر میں اندر والے گردن نکال کر باہر کی رونق دیکھ لیتے تھے۔26
حفیظ میرٹھی نے شاید مزاح یوسفی کے بارے میں ہی لکھا تھا،کہتے ہیں کہ:
نہ ہو حیراں میرے قہقہوں پر، مہرباں میرے!
فقط! فریاد کا معیار اونچا کر لیا میں نے27
المختصرمشتاق احمد یوسفی کے فن و شخصیت پر بہت سے ادیبوں اور نقادوں نے اپنی اپنی آراء کا اظہار مختلف انداز میں کیا لیکن اگر ان کا مفہوم پیشِ نظر رکھا جائے تو سب ایک بات پر مرفق نظر آتے ہیں کہ ان کی مزاح نگاری اور خاکہ نگاری اپنے عروج کو پہنچی ہوئی تھی نیز لفظوں کے فرق کے سوا یکساں سمجھی جا سکتی ہے۔ سطور ِ ذیل میں چند معتبر ادیبوں کے حوالہ جات درج کیے جارہے ہیں جس سے میرے موقف کی تصدیق ہو جائے گی۔ عہد ِ حاضر کے معروف تبصرہ نگارایس۔ایم۔معین قریشی کہتے ہیں:
یوسفی کا مطالعہ بہت وسیع تھا لہٰذا یہ ایک بدیہی امر تھا کہ ان کے مزاح میں مغربی ادب کی مہک ملتی۔ مارک ٹوین (Mark Twain) ان کا پسندیدہ ترین مزاح نگارتھا چنانچہ اس کے اقوال اور افعال یوسفی کے ہاں جابجا ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ جونا تھن سوئفٹ (Jonathan Swift)اور آسکر وائلڈ (Oscar Wilde)کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ انہوں نے بعض مغربی لطائف کو بھی مشرقی قالب میں ڈھال کر قاری کی ضیافتِ طبع کا اہتمام کیاہے۔ اردو کے مزاحیہ ادب پر مشتاق یوسفی کا اثر اتنا گہر اہے کہ گردشِ ماہ وسال اس کاکچھ نہ بگاڑ سکے گی۔یوسفی کو پڑھے بغیر مزاح کی گھاٹی میں سرگردانی سعی لاحاصل ثابت ہوگی۔ بلاشبہ اکبرؔالٰہ آبادی مزاحیہ شاعری کے سرخیل تھے۔اس لحاظ سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشتاق یوسفی مزاحیہ نثر کے اکبرؔالٰہ آبادی تھے۔28
بھارت کے معروف اردو محقق اور نقاد ڈاکٹر محمد حسن ان کے بارے میں لکھتے ہیں،”یوسفی کی جس ادا پر میں بطورِ خاص فریفتہ ہوں، وہ ہے اس کی اتھاہ محبت۔ یوسفی اپنے کھیت میں نفرت، کدورت یا دشمنی کا بیج بوتا ہی نہیں۔۔۔۔“۔اورسید ضمیر جعفری کہتے ہیں،”یوسفی دور مار توپ ہیں؛ مگر اس توپ کا گولہ بھی کسی نہ کسی سماجی برائی پر جا کر پڑتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ کشتوں کے پشتے نہیں لگاتے۔ خود زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیتے ہیں“۔نیزبھارت سے ہی تعلق رکھنے والے اردو کے ایک بڑے محقق اور ادیب ڈاکٹر نورالحسن نقوی لکھتے ہیں،”یوسفی کی تحریروں کا مطالعہ کرنے والا پڑھتے پڑھتے سوچنے لگتا ہے اور ہنستے ہنستے اچانک چْپ ہو جاتا ہے۔ اکثر اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں“۔جب کہ ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کہتے ہیں،”ہم اردو مزاح کے عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں“۔اورعقیل عبا س جعفری نے کیا خوب کہا ہے:
لفظ ملتے ہی نہیں شایانِ شان یوسفی
اِک جہانِ لطف و حیرت ہے جہانِ یوسفی
یوسفی کے عہد میں اب سانس لیتا ہے مزاح

سر پہ ہے اردو ادب کے سائبانِ یوسفی
نہ تھا کوئی ان سے پہلے نہ ہے کوئی ان کے بعد
ثبت ہے اردو زباں پہ اب نشانِ یوسفی
حوالہ جات
Available on request

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 101 Articles with 37278 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
11 Sep, 2020 Views: 398

Comments

آپ کی رائے