اندر کا کرب

(Tanvir Sadiq, Lahore)

غزل سناتے وہ بڑی موج میں تھی۔ جھومتی ، لہلہاتی، دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہوتی اپنی غزلیں سنائے جا رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ کبھی کبھی وہ گھومتی ہوئی پورے وزن کے ساتھ مجھ پر جھک جاتی۔ میں اس کے جسم کے دباؤ سے بچنے کے لئے ہر دفعہ دروازے کی طرف سمٹ جاتا۔ وہ لہلہا رہی تھی اورمیں عقیدت اور احترام کے جذبے سے اس قدر سرشار تھاکہ کوئی دوسری بات ذہن میں آ ہی نہ رہی تھی۔ احترام کا سبب اس کی خوبصورت شاعری بھی تھی اور کچھ اس کی بزرگی کا خیال بھی تھا ۔مگر اس کا انداز کسی شرابی کا سا ہوتا جا رہا تھا جو نشے سے مخمور سوچنے اور سمجھنے سے عاری ہو جائے۔ ایک آدھ دفعہ اس نے خود کو مجھ پر گرا دیاتب میں نے احتجاجاً اسے پرے کرتے گاڑی روک کر کہا کہ میڈم ، ذرہ دھیان کریں ، گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہونے کا امکان ہے۔ وہ چند لمحوں کے لئے قدرے سنبھلتی مگر پھر وہی انداز۔

یہ جنوری کے مہینے کے ابتدائی دن تھے۔باہر اس قدر سردی تھی کہ سردی سے جسم کا خون جم رہا تھا۔گاڑی سے اتر کر میں اس ہال نما کمرے میں جا بیٹھا۔یہ میرے ایک دوست کا گھر تھا۔ میرا وہ دوست بڑا اچھا شاعر اور ادیب ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی ادب پروری ہے۔ اس دن اس نے گھر پر مشاعرے کا اہتمام کیا ہوا تھا اور میں بھی مدعو تھا۔اس بڑے کمرے کے اندر ہیٹر جل رہے تھے اس لئے صورت حال کچھ مختلف تھی کیونکہ ہیٹروں نے کمرے میں اس قدر گرمی کی ہوئی تھی کہ بدن جلنے لگا تھا۔ مگر ہر شخص جمنے کی بجائے جلنے کو ترجیح دے رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں محفل مشاعرہ شروع ہو گئی ۔میں شاعری تو نہیں کرتا مگر ہمیشہ سے اچھے شعروں کو سننے کا بہت شوقین ہوں۔ یہی شوق مجھے اس مشاعرے میں لے آیا تھا۔ بڑا شاندار مشاعرہ تھا۔ تمام شاعروں اور شاعرات نے اس قدر خوبصورت شعر کہے کہ ہر شعر نے جذبات میں گرمی بھر دی ۔ ہیٹر کی گرمی اور جذبات کی گرمی نے مل کر وہ عجیب سرور و مستی کا سماں پیدا کر دیا تھاکہ جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔

ساڑھے بارہ بجے رات مشاعرہ ختم ہوا ۔ میں نے منتظمین سے اجازت لی اور وہی گرمی جذبات لئے میں باہر نکلا۔ گاڑی سٹارٹ کی۔ گاڑی شدید سرد تھی۔میں نے گاڑی کا ہیٹر آن کیاکہ گاڑی بیٹھنے کے قابل ہو جائے۔اس سے پہلے کہ میں گاڑی موڑتا اور گھر کو چلتا۔ انتظامیہ کے ایک صاحب بھاگتے ہوئے میرے پاس آئے۔کہنے لگے کہ تھوڑی سی تکلیف کریں آپ کے گھر کے قریب ہی ایک خاتون شاعرہ رہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ جس دوست کے ساتھ آتی اور اپنے گھر واپس جایا کرتی تھیں وہ آج تشریف نہیں لائے۔اتنی رات کو کوئی دوسری سواری بھی ملنا مشکل ہے ۔ آپ مہربانی کریں انہیں راستے میں ان کے گھر چھوڑتے جائیں۔’’خوش آمدید، بھیج دیں‘‘، میں نے کہا۔ چندلمحوں بعد ایک خاتون میرے ساتھ میری گاڑی میں تشریف فرما تھیں۔

پنتالیس سال کے لگ بھگ کی گوری چٹی، موٹی سی ہنس مکھ خاتون جومیری گاڑی میں میری ہم سفر تھیں ،ایک اچھی شاعرہ تھیں۔ شکل و صورت بھی بہت اچھی تھی یقیناًجوانی میں سراپا غزل رہی ہونگی۔ مشاعرے میں انہوں نے بڑے ترنم سے غزل سنائی تھی۔ ان کی آواز میں کمال کشش تھی۔میں نے ان کی غزل بہت غور سے سنی تھی اور چند اشعار ابھی تک مجھے زبانی یاد تھے۔ ان کالہجہ، ترنم اور شاعری تینوں چیزیں قابل تعریف تھیں۔ وہ گاڑی میں بیٹھیں تو میں نے ان کی تعریف کی اور ان کے مشاعرے میں کہے شعردھرائے تو بہت خوش ہوئیں۔ میرے بارے بڑی تفصیل سے پوچھا تو میں نے بتایا کہ میری عمر پچیس سال ہے، دو سال پہلے یونیورسٹی سے فارغ ہوا ہوں اور آجکل بحیثیت استاد کام کر رہا ہوں ۔ پھر اپنے بارے بتانے لگیں۔عورتیں عمر نہیں بتاتیں۔ اس لئے انہوں نے بھی جواب میں عمر نہیں بتائی۔ بس ہنس کر بولیں، ’’میں بھی پڑھاتی ہوں۔تمہاری عمر جتنے سال مجھے پڑھاتے ہو گئے ہیں، میں بیس پچیس سال سے اس شعبے سے وابستہ ہوں۔آج کل ایک سکول کی ہیڈ مسٹرس ہوں۔میرے تو بچے جوان ہیں۔پھر مجھ سے پوچھا کہ کیا میں شادی شدہ ہوں؟‘‘۔ ان کے اس سوال پر میں نے نفی میں سر ہلایا۔ مجھے اس کی شاعری اچھی لگی تھی اور میں اس بارے بات کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ موضوع بدلنے کے لئے میں نے کہا’’آپ کی غزل بہت خوبصورت تھی، بالکل آپ کی طرح‘‘۔ شکریہ !میری بہت اچھی اچھی غزلیں ہیں ،آ پ کہیں تو سناؤں۔ ضرورضرور، میں نے خوش ہو کر کہا۔ سرد رات، گرم گاڑی،سنسان سڑک اور ارد گرد گہرا سناٹا، سوائے گاڑی کے انجن کی ہلکی سی آوازکے ہر طرف بالکل ہو کا عالم تھا۔میں نے گاڑی بہت زیادہ آہستہ کر لی اور اس کی غزلیں سننے لگا۔اس کی خوبصورت آواز اس سناٹے میں بہت خوبصورت سماں پیدا کر رہی تھی ۔میں ماحول کے سحر اور اس کی خوبصورت غزلوں میں مگن اس ماحول اور آواز سے پوری طرح لطف انداز ہونے لگا۔اس کی غزلوں میں بلاکا درد تھااور درد میری کمزوری ہے۔ میں نے شاعری میں اس درد کی وجہ جاننے کے لئے اس سے بہت سے سوال کئے۔ ہر سوال کے جواب میں وہ دل کو چھو لینے والا ایک نیا شعر سنا دیتی۔لگتا تھا اس کے اندر کسی کرب کا بحر بیکراں موجزن ہے۔

تھوڑا فاصلہ بڑے سکون سے گزرا پھر اس نے عجیب مدہوشی کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ وہ جھومنے لگی ۔ اس کی نئی حرکتیں اور اس کااحمقانہ انداز مجھے اب شدید ناگوار گزر رہا تھا۔ ماحول کا اثر اور اس کی آواز کا سحر اس کی حرکتوں کے سبب پوری طرح کافور ہو چکا تھا۔ مجھے ناراض دیکھ کر وہ تھوڑا سا سنجیدہ ہو کر بیٹھ گئی۔ سامنے چوک آ گیا۔ اس نے بڑے پر اسرار انداز میں میرے قریب آ کر میرے کان میں سرگوشی کی ۔ یہاں دائیں مڑنا ہے۔ دائیں مڑنے کے بعد اس نے پھر اسی انداز میں میرے کان کہا ’’ اب بائیں ہو جائیں‘‘۔پانچ چھ دفعہ دائیں اور بائیں کی تکرار کے بعد اس نے گاڑی کو ایک طرف دیوار کے ساتھ لگا کر روکنے کا کہا،میں نے گاڑی دیوار کے ساتھ روک لی۔’’فاصلہ زیادہ ہے، تھوڑا سا اور دیوار کے ساتھ کر دوــ‘‘۔ میں جا رہا ہوں ، آپ اتریں۔ میں نے بڑے روکھے انداز میں کہا۔ ’’وہ سامنے اوپر جو کھڑکیاں ہیں۔ وہ میرا گھر ہے۔ میں نے جھک کر گاڑی کے اس کی طرف والے دروازے سے دیکھنے کی کوشش کی مگر اتنا اونچا دکھائی نہ دیا۔ ذرا نیچے ہو گے تو نظر آئے گا۔ اس نے بڑے پیار سے منت کی ،

میں تھوڑا سا جھکا۔اس نے پوری طرح جھک کر مجھے اوپر سے دبا دیااور مجھے لگا وہ اپنا جسم مجھ سے رگڑ رہی ہے۔ میرا جسم اس کے شکنجے میں تھا۔ میں نے کہا۔کھڑکیاں نظر آ گئی ہیں، پرے ہٹو۔ وہ پرے ہٹی اور کہنے لگی،’’ تم نے ابھی کہا تھا کہ میری غزلیں میری طرح خوبصورت ہیں۔ تم نے مجھے جوانی میں نہیں دیکھا جب میں واقعی خوبصورت تھی۔ ہم غریب لوگ تھے۔ میری خوبصورتی کی وجہ سے میرے لئے بہت رشتے آئے مگر میں بڑے بڑے محلوں، بڑی بڑی گاڑیوں، آگے پیچھے پھرتے نوکروں اور بہت ساری دولت کے خواب دیکھتی تھی۔ مجھے گھر کی کم اور دولت کی زیادہ ضرورت تھی۔ پھر ایک مالدار شخص سے میری ملاقات ہو گئی ، مجھے لگا مجھے سب کچھ مل گیا۔ ہاں ملا تو سہی مگر وقتی طور پر ، بہت تھوڑے عرصے کے لئے۔ میرے میاں کی گاؤں میں بھی ایک بیوی تھی جو فقط گھر تک محدود تھی ، میں شہری بیوی اس کے دوستوں کی محفل کی جان ہوتی۔ وہ شہر آتے تو میں ہر لمحہ ساتھ ہوتی۔ پانچ سال بڑی خوش اسلوبی سے گزرے۔ پھر میرے میاں نے ایک نئے ماڈل کی کار خریدی اور ساتھ ہی ایک نئے ماڈل کی مجھ سے چھ سات سال چھوٹی خوبصورت سی پتلی دبلی بیوی بھی لے آئے۔میں ٹرپتے رہی سسکتی رہی ، مگر اسے پرواہ بھی نہیں تھی، آج وہ سارا درد میری شاعری میں جھلکتا ہے‘‘۔ پھر ایک عجیب سی ہنسی ہنس کر کہنے لگی،’’میرے میاں زمیندار ہیں، انہیں عیاشی اور کاشتکاری سے فرصت ہی نہیں ملتی اس لئے یہاں کبھی نہیں آئے۔ میں اگر کبھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوں، مجھے گھر کی ضرورت محسوس ہو توچھٹیوں میں گاؤں چلی جاتی ہوں جہاں ان کی ایک گاؤں کی مکین خاندانی پرانی بیگم اور میرے جیسی دو تین شہری بیویاں رہتی ہیں، میاں وہاں ہوں تو سرسری ملاقات ہو جاتی ہے ورنہ اپنی سوکنوں سے مل کر اور کچھ دن گزار کر واپس آ جاتی ہوں ۔ میری سوکنیں بہت اچھی ہیں، ہمارا دکھ سانجھا ہے۔اس لئے ایک دوسرے کو سمجھتی اور ایک دوجے کااحترام کرتی ہیں۔ لیکن یہاں میں اکیلی رہتی ہوں بالکل اکیلی۔ سامنے سیڑھیاں چڑھ کر سب سے پہلا میرے فلیٹ کا دروازہ ہے ،جب وقت ملے میری طرف آ جایا کرو‘‘۔

میں نے بڑی سعادت مندی سے ’’جی ضرور‘‘ کہا اور اس کو بتایا کہ گھر سے لیٹ ہو رہا ہوں ۔ پلیز گاڑی سے اتر جاؤ۔ اس نے میری طرف دیکھا یوں لگتا تھا وہ رو دے گی۔ پھر کہنے لگی ،’’تم آج نہیں جاؤ گے ۔ تم نے اپنی گفتگو سے مجھے اداس کر دیا ہے۔ میرے اندر کا درد جگا دیا ہے، اب تم جاؤ گے نہیں،رات میرے ساتھ گزارو گے ۔ ایک خوبصورت رات، صرف ہم دونوں ہوں گے اور کوئی نہیں۔ پلیز انکار مت کرو۔ یہ کہتے ہوئے وہ مجھ سے لپٹ گئی۔کہنے لگی تم نے شاعری کے حوالے سے تم نے بہت سی ایسی ذاتی باتیں مجھ سے پوچھی ہیں کہ میں اداس ہو گئی ہوں۔آج اگر تم میرے پاس نہیں آؤ گے تو مجھے نیند بھی نہیں آئے گی۔ تم نے اپنی باتوں سے میرے اندر بہت سی چیزوں کو جگا دیا تھا۔ میں نہیں چاہتی تم جاؤ۔ آج رات میرے پاس ٹھہر جاؤ۔ اس کے انداز میں بلا کی منت تھی اور میں نے غور کیا اس کی آنکھوں میں آنسو بھی تھے۔ میں حیران اس کی عجیب بہکی بہکی باتیں سنی ان سنی کر رہا تھا۔ان دنوں میں عام طور پر شام کے بعد گھر سے باہر نہیں جاتاتھا۔ کچھ گھر کا ماحول ، دوسرا بچپن میں ماں کہا کرتی تھی کہ رات کو گھر سے باہر ہرگز نہ نکلو، چڑیلیں آوارہ پھر رہی ہوتی ہیں جو چمٹ جاتی ہیں۔ اس وقت مجھے یوں لگا کہ واقعی کوئی چڑیل یا بلا مجھے چمٹ گئی ہے ۔ میں نے زور لگا کر خود کو اس کی گرفت سے آزاد کیا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر زور زور سے چلایا، باہر نکلو، باہر نکلو۔ وہ ایک دم گھبرا کر گاڑی سے باہر تھی۔ میری طرف اس نے گھور کر دیکھا اور کہنے لگی،’’ آؤ یا نہ آؤ تمہاری مرضی مگر یہ میرا محلہ ہے یہاں شور مت کرو۔ میرا یہاں وقار اور عزت ہے اسے خراب مت کرو۔مجھے نہیں اندازہ تھا تم اس قدر عجیب ، احمق اور بے حس آدمی ہو‘‘۔ ’’میں جو بھی ہوں بس ٹھیک ہوں‘‘۔ یہ کہتے ہوئے میں تیزی سے گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی بھگا دی۔گلی کا موڑ مڑتے ہوئے میں نے پیچھے دیکھا،وہ اب تک سڑک کے بیچ میں اسی طرح اکیلی کھڑی میری گاڑی کو جاتے دیکھ رہی تھی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 427 Articles with 203733 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
18 Sep, 2020 Views: 355

Comments

آپ کی رائے