سچ تو یہ ہے (اٹھائیسواں حصہ)

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)


منظر۲۰۱
اخترحسین اوراس کے ساتھی مسجدسے باہرکھڑے ہیں ۔
اخترحسین۔۔۔۔پیسے گننے کے بعد۔۔۔۔یہ پچیس ہزارروپے ہوگئے یہ ہم مولوی صاحب کومسجدکے لیے دیں گے
اخترحسین۔۔۔۔۔اپنی جیب سے دس ہزارروپے نکال کر اب جس نے جودینا ہے دے دے
کامران محمود۔۔۔۔۔مسجدکے لیے توہم چندہ جمع کرچکے ہیں اب یہ کس لیے ہیں
اخترحسین۔۔۔۔۔۔یہ ہم مولوی صاحب کوان کے ذاتی اخراجات کے لیے دیں گے
عمیرنواز۔۔۔۔مسجدکے لیے آپ نے جیب سے پانچ ہزارروپے نکالے اورمولوی صاحب کے لیے دس ہزار اس کی کیاوجہ ہے
اخترحسین۔۔۔۔اس دورمیں مساجدپرخرچ کرنے والے کم ہوچکے ہیں مولوی صاحبان کی خدمت کرنے والے تواوربھی کم لوگ ہیں ان کی تنخواہیں اتنی کم ہوتی ہیں کہ گھرکے روزمرہ کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوسکتے
رب نواز۔۔۔۔پھریہ مولوی صاحبان اتنے کم پیسوں میں کیسے گزربسرکرلیتے ہیں
اخترحسین۔۔۔۔۔اﷲ تعالیٰ ان کی آمدنی میں برکت ڈال دیتاہے
رشیداحمد۔۔۔۔صرف اﷲ تعالیٰ اوررسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی رضاکے لیے مسجداورمولوی صاحب کی خدمت کریں ہم جس مقصدکے لیے کام کررہے ہیں اس میں ضرورکامیاب ہوں گے
ارشدجمال۔۔۔۔جب ہم مولوی صاحب کویہ چندہ دیں گے تووہ ہمارے لیے دعاکریں گے
اخترحسین۔۔۔۔مولوی صاحب کی خدمت کے لیے جس نے جتناحصہ ملاناہے مجھے دے
تمام افراداپنی اپنی جیبوں سے ایک بارپھرپیسے نکالتے ہیں باری باری اخترحسین کودے دیتے ہیں
اخترحسین۔۔۔۔۔پیسے گننے کے بعد۔۔۔۔یہ چالیس ہزارروپے ہوگئے ہیں
تنویراحمد۔۔۔۔۔مولوی صاحب کوہم پہلے مسجدکے لیے چندہ دیں گے یاان کے ذاتی اخراجات کے لیے
ظفراقبال۔۔۔۔میراتومشورہ ہے کہ یہ دونوں پیسے مولوی صاحب کودے کران سے دعاکرائیں
اخترحسین۔۔۔۔پہلے ہم دعاکرائیں گے اس کے بعدیہ تمام چندہ ان کودیں گے
ناصراقبال۔۔۔۔یہ کیوں
اخترحسین۔۔۔۔اس طرح ہمیں زیادہ فائدہ ہے
رب نواز۔۔۔۔ہمیں اس سے زیادہ فائدہ کیسے ہوگا
اخترحسین۔۔۔۔۔یہ میں مولوی صاحب سے ملنے کے بعدبتاؤں گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۰۲
بشریٰ چارپائی پربیٹھ کراپنے بازواپنے ہاتھوں سے دبارہی ہے۔اس کے سامنے تھال میں خشک چاول رکھے ہوئے ہیں وہ چاولوں میں انگلیاں ڈال کرگھماتی ہے۔ پھرہتھیلی سے چاول برابرکردیتی ہے۔اس کے بعداپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے بازودبانے لگ جاتی ہے ۔سعیداحمدخاموشی سے آکربیٹھجاتاہے۔ بشریٰ اپنے بازودبارہی ہے۔
سعیداحمد۔۔۔۔بشریٰ کی طرف دیکھ کر۔۔۔۔خیریت ہے اپنے بازودبارہی ہو
بشریٰ۔۔۔۔۔تھکاوٹ سی ہورہی ہے
سعیداحمد۔۔۔۔آج ایساکون ساکام کرلیاہے
بشریٰ۔۔۔۔اتناوزنی کام تونہیں کیا
سعیداحمد۔۔۔۔کبھی کبھی ایسے تھکاوٹ ہوجاتی ہے کہیں یہ لکڑیاں کاٹنے کی تھکاوٹ تونہیں
بشریٰ۔۔۔۔وہ تومیں نے تھوڑی سی کاٹی تھیں باقی توعبدالحق نے کاٹ کردی ہیں
سعیداحمد۔۔۔۔تونے اس سے بات کی پوچھا؟ عارف اوراس کے درمیان کیاباتیں ہوئی تھیں
بشریٰ۔۔۔۔ہاں پوچھاتھا
سعیداحمد۔۔۔۔ کیابتایااس نے
بشریٰ۔۔۔۔اس نے تومجھ سے سوال کرنے شروع کردیے اورکہاجب تک میں اس کے سوالوں کے جواب نہ دے دوں وہ نہیں بتائے گا کہ دونوں بھائیوں میں کیاباتیں ہوئیں۔
سعیداحمد۔۔۔۔تونے اس کے سوالوں کے جواب دے دیے ؟
بشریٰ۔۔۔۔۔اس کے سوالوں کے جواب میرے پاس نہیں ہیں
سعیداحمد۔۔۔۔ایساکیاپوچھ لیاہے اس نے
بشریٰ۔۔۔۔تیرے بیٹے نے مجھے امتحان میں ڈال دیاہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۰۳
طارق کریانہ کی دکان میں پچھلی طرف سے برش سے صفائی کررہاہے۔ جس سے دھول اڑرہی ہے ۔ایک لڑکااس سے کہتاہے چھڑکاؤ کرلیتاتویہ دھول نہ اڑتی اسی دوران ایک اورلڑکاپانی کی فوارہ بوتل لے کرآجاتاہے اورکہتاہے میں پانی لینے گیاتھا اس نے صفائی شروع کردی ایک اورلڑکاکہتاہے کوئی بات نہیں آہستہ آہستہ سب کام سیکھ جائے گا۔ جولڑکافوارہ بوتل لایاتھا وہ اس سے چھڑکاؤکرتاہے۔ باقی لڑکے بھی اپنااپناکام کرنے لگ جاتے ہیں۔ طارق اب برش سے صفائی کرنے لگتاہے تودھول نہیں اڑتی۔ کریم بخش اسی دکان میں داخل ہوتاہے۔ اورالسلام علیکم کہہ کربیٹھ جاتاہے ۔دکانداراوردکان میں بیٹھے ہوئے تمام افرادوعلیکم السلام کہتے ہیں ۔ دکاندارکریم بخش کے سلام کاجواب اسے دیکھے بغیردیتے ہیں۔ کریم بخش دکان میں بیٹھاہے۔ طارق کومعلوم نہیں ہے کہ اس کاباپ دکان میں آچکاہے۔ ایک لڑکادکان کارف پیڈ اورپنسل لے کرکریم بخش کے ساتھ بیٹھ جاتاہے۔ ہاتھ ملانے کے بعدپوچھتاہے آپ کوکیاکیاچاہیے
کریم بخش بتارہاہے اوردکان کالڑکالکھ رہاہے۔
پانچ کلوگرام گھی، چارپیکٹ صابن، دوکلوگرام دال چنا، دوکلوگرام گڑ، پانچ کلوگرام چینی، چارکلوگرام چاول، دوکلوگرام دودھ چاول، دوپیکٹ نمک دے دو ۔
دکان کالڑکاکہتاہے چچاجان یادکرلیں اورکچھ لیناہو کریم بخش کہتاہے نہیں یہ سامان دے دو وہ لڑکاسامان کی فہرست دکاندارکودے دیتاہے دکانداراس فہرست کودیکھ کراپنے ساتھ بیٹھے ہوئے دکاندارکودے دیتاہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۰۴
راشدہ کچھ دیرچارپائی پربیٹھی رہتی ہے ۔پھرکمرے کے دروازے کے ساتھ آکرکھڑی ہوجاتی ہے۔ اپنی پیٹھ دیوارکے ساتھ لگاکرگہری سانس لیتی ہے۔ دیوارسے الگ ہوکردروازہ کھولنے کی کوشش کرتی ہے۔ دروازہ نہیں کھلتا۔ دروازہ کھولنے کی دوبارہ کوشش کرتی ہے دروازہ اب بھی نہیں کھلتا۔ وہ کمرے میں رکھی ہوئی ایک اورچارہائی پربیٹھ جاتی ہے۔ اس کے چہرے پرپریشانی نمودارہونے لگتی ہے ۔چارپائی سے اٹھ کردوبارہ دروازے پرآجاتی ہے۔ دروازے پرہاتھ سے دستک دیتی ہے۔ کوئی جواب نہیں ملتا۔ کچھ دیرکے بعددوبارہ دستک دیتی ہے اورآوازدیتی ہے ۔دروازہ کھولو، دروازہ کھولو۔ مجھے کمرے سے باہرنکالو کوئی ہے کوئی سن رہاہے مجھے باہرسے کوئی جواب نہیں ملتا راشدہ اپنے دونوں ہاتھ چہرے پرپھیرتی ہے۔ چارپائی پرسوجاتی ہے۔ اپنے آپ سے کہتی ہے مجھے اس غلطی کی سزامل رہی ہے جومیں نے کی ہی نہیں ۔میرے بیٹوں کوبھی نہ کیے کی سزاملتی ہے۔ گھرکے سارے کام پڑے ہیں نہ جانے یہ دروازہ کب کھلے گا نہ جانے مجھے کب کمرے سے باہرجانے کی اجازت ملے گی۔ راشدہ سوچ رہی ہے میں کھانانہ بناسکی توبچے آج بھوکے رہ جائیں گے۔اٹھ کرچارپائی پربیٹھ جاتی ہے۔ دروازے پرآکراسے کھولنے کی کوشش کرتی ہے ۔دروازہ نہیں کھلتا۔ دروازے پردستک دے کرآوازدیتی ہے کوئی ہے دروازہ کھولو کوئی جواب نہیں ملتا اس کے گھرکے صحن میں خاموشی ہے۔ گھرمیں اس کے سواکوئی نہیں ہے وہ چارپائی پرپاؤں لہراکراپنے ہاتھوں سے اپنامنہ چھپاکربیٹھ جاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر ۲۰۵
اخترحسین اوراس کے ساتھی مسجدسے باہرکھڑے ہیں۔
اخترحسین۔۔۔اب چلیں مولوی صاحب سے ملیں یہ سب لوگ مسجدمیں مولوی صاحب کی طرف جارہے ہیں ادھرمولوی صاحب مسجدمیں کھڑے ہوجاتے ہیں تسبیح مسجدکی دیوارکے ساتھ آویزاں کرتے ہیں مسجدسے باہرنکلنے کے لیے چل پڑتے ہیں۔ مولوی صاحب اوراخترحسین اوراس کے ساتھیوں کی ملاقات مسجدکے حال کے دروازے پرہوجاتی ہے۔ اخترحسین اوراس کے ساتھی مولوی صاحب کوسلام کرتے ہیں۔ مولوی صاحب سلام کاجواب دیتے ہیں۔
عمیرنواز۔۔۔۔مولوی صاحب آپ کہیں جارہے ہیں؟
مولوی صاحب۔۔۔۔میرے لیے کوئی ـحکم ہے توبتائیں
ارشدجمال ۔۔۔۔ہم آپ سے ہی ملنے آئے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔دروازہ چھوڑ کر۔۔۔۔آپ بیٹھیں میں ابھی آتاہوں
اخترحسین اوراس کے ساتھی مسجدکے حال میں بیٹھ جاتے ہیں۔ مولوی صاحب بھی واپس آکران کے پاس بیٹھ جاتے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔حکم کریں
عبدالغفور۔۔۔۔۔ہم نے ضرورت مندوں کی امدادکے لیے فنڈزقائم کیاہے۔ اس سے ہم روزمرہ کی ضروریات زندگی خریدکرمستحق گھرانوں میں دینے گئے توکسی نے بھی ہم سے وہ سامان نہ لیا۔ پھرہم نے وہ ہسپتالوں اورمدرسوں میں دے دیا۔
ظفراقبال۔۔۔۔ہم نے اجتماعی شادیاں کرانے اورشادیوں کاسامان گھروں میں دینے کاپروگرام بنایا ۔اس کے لیے گھرگھرسروے کرایا توکوئی بھی اس پرآمادہ نہ ہوا ۔
رشیداحمد۔۔۔۔اب ہرعمرکے مردوخواتین کے درمیان مقابلے کرارہے ہیں۔
اخترحسین۔۔۔۔۔مولوی صاحب آپ ہمارے لیے دعاکریں ہمیں آپ کے تعاون کی بھی ضرورت ہے
مولوی صاحب دعاکراتے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔میں کیاتعاون کرسکتاہوں
اخترحسین۔۔۔۔آپ جمعہ کی نمازکے وقت ہماری طرف سے ان مقابلوں کااعلان کریں اورعوام کوان مقابلوں میں حصہ لینے کی تاکیدکریں
رشیداحمد۔۔۔۔لوگ آپ کی بات مانیں گے
مولوی صاحب ۔۔۔۔میں جمعہ کی نمازکے وقت بھی کہوں گا اورجوبھی ملے گا اس کو بھی
اخترحسین۔۔۔۔۔جیب سے پیسوں کی دوگھتیاں نکال کرمولوی صاحب کودیتے ہوئے۔۔۔۔۔یہ مسجدکے لیے ہیں اوریہ آپ کے ذاتی اخراجات کے لیے
مولوی صاحب۔۔۔۔میں یہ نہیں لے سکتا
تنویراحمد۔۔۔۔مولوی صاحب کیابات ہے آپ ناراض ہوگئے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔آپ نے فنڈضرورت مندوں کے لیے قائم کیاہے یہ ان کاحق ہے
اخترحسین۔۔۔۔ہم نے یہ پیسے اس فنڈسے نہیں اپنی جیب سے دیے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۲۰۶
جاویدچارپائی کی رسیاں کھول رہاہے۔ آدھی رسی نکال چکاہے۔ رسی کوسیدھاکرتاہے۔ اس کاکناراپکڑکرچارپائی سے دورچلاجاتاہے ۔رسی کوکھینچتاہے۔ ہاتھ کی مددسے اس کے بل نکالنے لگتاہے۔
رحمتاں۔۔۔۔جاویدکے پاس آکر۔۔۔۔لائیے یہ کام میں کردیتی ہوں
جاوید۔۔۔۔میں کرلوں گا توکوئی اورکام کرلے
جاویدرسی لپیٹ کرچارپائی کے پاس آجاتاہے۔ رحمتاں بھی اس کے ساتھ ہے۔ جاویدچارپائی کی بقیہ رسی بھی نکالنے لگتاہے
رحمتاں۔۔۔۔آپ نے بھائی سے بات کی ہے یانہیں
جاوید۔۔۔۔تجھے جب بھی موقع ملتاہے توایک ہی بات کرتی ہے
رحمتاں۔۔۔۔آپ بھی بات کرلیتے تومیں بھی
جاوید۔۔۔۔۔کرلوں گا ایسی بھی کیاجلدی ہے
رحمتاں۔۔۔۔جلدی توآپ کوبھی ہونی چاہیے یہ فرض جتناجلداداہوجائے اتناہی بہترہے
جاوید۔۔۔۔بات کی تھی میں نے بھائی سے
رحمتاں۔۔۔۔۔کیاکہتے ہیں وہ
جاوید۔۔۔۔بشیراحمدنے ایک اوربات بھی کی ہے
رحمتاں۔۔۔۔۔کوئی خاص بات ہے کیا
جاوید۔۔۔۔وہ عبدالمجیدکے رویے اوربچوں پربے جاسختی کی وجہ سے پریشان ہیں اس کاکہناہے عبدالمجیدکایہ سخت رویہ جاری رہاتواحمدبخش چنددنوں میں ذہنی دباؤ کاشکارہوکربیمارہوسکتاہے۔ بھائی بشیرکاکہناہے کہ احمدبخش کے منہ پرذہنی دباؤ میں ہونے کے آثارواضح دکھائی دیتے ہیں
رحمتاں۔۔۔۔اس کے چہرے کومیں نے بھی دیکھا ہے سمیراکاابوٹھیک ہی کہتاہے آپ اپنے بھائی کوسمجھاتے کیوں نہیں
جاوید۔۔۔۔اس کے لیے ہم نے مولوی صاحب کے پاس جانے کافیصلہ کیاہے ان سے مشورہ کرتے ہیں کہ کیاکرناچاہیے اس کے بعدسوچیں گے کہ کیاکرناہے
رحمتاں ۔۔۔۔آپ کی بات کاآپ کے بھائی نے کیاجواب دیا
جاوید۔۔۔۔وہ کہتاہے بچیاں ٹھیک کہتی ہیں میں باہرجارہاہوں اس بارے پھربات کریں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 324 Articles with 137872 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Sep, 2020 Views: 231

Comments

آپ کی رائے