کورونا نہ تو ہمارے دیش میں آیا تھا ، نہ آیا ہے اور نہ آئے گا

(Dr Salim Khan, India)

کلن مودی نے للن شاہ سے کہا یا ر اپنے وزیر داخلہ بیمار ہوجاتے ہیں نا تو سارے ملک میں اداسی چھا جاتی ہے
جی ہاں کیوں نہیں ؟ وزیر داخلہ کی بیمار ی سے عوام کا غمگین ہو نا فطری ہے ۔ ویسے بھی ہم لوگ پردھان جی کی اداسی سے اداس ہوجاتے ہیں۔
جی ہاں للن اور ان کی خوشی ہماری خوشی ہے۔ میں کیا بتاوں وہ مور کو دانہ ڈالتے ہیں اور ہمارا پیٹ بھر جاتا ہے۔
یار میں وزیر داخلہ کی بات کرتا ہوں تو تم مودی پوران سنانے لگتے ہو لیکن ایک بات ہے ہمارے وزیر داخلہ سوچ سمجھ کر بیمار ہوتے ہیں ۔
اچھا کیا اس میں بھی کو ئی کرونا لوجی ہے ؟ یار ہمیں بھی تو سمجھاو ۔
وہ ایسا ہے کہ 5 اگست کو ایودھیا میں شیلانیاس ہونا تھا ۔ اب اس میں ایک جین کو لے کر جانا مشکل کام تھا اور چھوڑ کر جانا اوربھی مشکل کام تھا۔
جی ہاں یہ تو مودی جی کے لیے بڑا دھرم سنکٹ تھا وہ اپنا داہنا ہاتھ چھوڑ نہیں سکتے تھے اور وہاں کے برہمن اس کے بائیں ہاتھ کوپکڑ نہیں سکتے تھے ۔
بس پھر کیا تھا سرکار نے مشکل کو موقع میں بدل دیا ۔ 2 اگست کو وزیر داخلہ نے خود ہی بتا دیا کہ وہ کورونا پوزیٹیو ہیں ۔ اس طرح ایودھیا کا پتہ کٹ گیا ۔
لیکن اس کے 12 دن بعد وہ میدانتا سے آگئے حالانکہ 14 دن کا قرنطینہ ہوتا ہے ۔
ارے بھائی اگلے دن یوم آزادی جو تھا یعنی 15 اگست تھا اس دن وزیر داخلہ کیسے قید میں رہ سکتے ہیں اس لیے نگیٹیو ہو کر لوٹ آئے ۔
ہاں لیکن میں تو ان کو لال قلعہ کی تقریب میں ڈھونڈتا رہا ۔ سمجھ میں نہیں آتا ان کی طرح لحیم شحیم انسان کیسے چھپ گیا ؟
اسے بھائی وہ گئے نہیں تو چھپتے کیسے ؟ انہوں نے اپنے گھر پر ہی قومی پر چم لہرا دیا ۔
اچھا تمہیں کیسے معلوم چلا ۔ فون کرکے بتایا تھا کیا؟
ارے بیوقوف وزیر داخلہ کہیں فون کرتا ہے۔ وہ ٹویٹ کردے تو وہی بڑی مہربانی سمجھو ۔
تو کیا ٹویٹ کیا تھا؟ یار مجھے یہ سب چونچلے نہیں آتے ۔ پرانا آدمی ہوں ۔
نہیں میں نے یو ٹیوب پر ان کی ویڈیو دیکھی ۔ وہ اپنے گھر پر گلابی پگڑی باندھ کر جھنڈا لہرا رہے تھے ۔
ارے گلابی کیوں ؟ زعفرانی کیوں نہیں ؟ ویسے پچھلے سال بھی تم نے ویڈیو بھیجی تھی لیکن اس وقت تو وہ کھلے سر تھے ۔
جی ہاں اس سال بہت کچھ فرق تھا۔ پچھلے سال کی طرح انہوں نے اس بار اپنے دست مبارک سے مٹھائی بھی تقسیم نہیں کی ۔
ارے بھائی وہ تقسیم بھی کرتے تو کورونا کے مریض سے مٹھائی کون لیتا ۔ ہر کسی کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔
جی ہاں وہ بھی صحیح ہے کیونکہ 3دن بعد 18 اگست کو وہ پھر سے ایمس میں جاکر داخل ہوگئے ۔
ایمس میں کیوں ؟ میدانتا کا بل بہت زیادہ آگیا تھا کیا ؟
ارے بیوقوف تم نے وزیر داخلہ کو اپنی طرح پھکڑ سمجھ رکھا ہے اور ایمس والے بل بھیجیں گے تو ای ڈی والے چھاپہ ماردیں گے کیا سمجھے ؟
ہاں یار وزیر داخلہ کہ اشارے پر ای ڈی ریا چکرورتی کے گھر چھاپہ مار سکتی ہے تو میدانتا کے ڈاکٹر نریش تریہن کس کھیت کی مولی ہیں ۔
لیکن ایک چیز ماننا پڑے گا۔ پارلیمان کے اجلاس کا ادھر اعلان ہوا اُدھر ہمارے وزیر داخلہ ایمس سے اچھے ہوکر 30 اگست کو گھر آگئے ۔
ہاں لیکن اس وقت یہ تجویز تھی کہ سوال جواب کا موقع نہیں رہے گا لیکن بعد میں حزب اختلاف کے دباو میں وہ فیصلہ بدلنا پڑا۔
اچھا اب سمجھ میں آیا کہ وزیر داخلہ کی طبیعت 12 ستمبر کو پھر سے کیوں خراب ہوئی ؟
کیوں یہ کنکشن سمجھ میں نہیں آیا ؟
ارے بھائی اپنے وزیر اعظم تو نہ سوال سنتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیں وہ تو اپنی بنی بنائی تقریر فرما دیتے ہیں ۔
وہ تو ہم 6 سال سے دیکھ رہے ہیں اس میں کون سی نئی بات ہے لیکن اس وزیر داخلہ کی صحت سے کیا تعلق ؟
تعلق کیوں نہیں کسی کو تو ان سوالات کا جواب دینا ہی ہوگا ۔ اب وزیرداخلہ ہوسکتا ہے اجلاس کے بعد ہی لوٹیں ۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔
میں نےتو سنا ہے آدمی ایک بار کورونا کو ہرا دے تو وہ پھر دوبارہ کورونا اس کے قریب نہیں پھٹکتا لیکن اپنے وزیر داخلہ کے ساتھ یہ بار بار کیا ہورہا ہے ؟
وہ ایسا ہے نا کہ جیسے ہی ان کی طبیعت سنبھلتی ہے وہ کام دھام میں لگ جاتے ہیں۔
ہاں سمجھ گیا ۔ دہلی فساد میں نے قصور لوگوں کو پھنسانے کا کام؟
جی نہیں وہ عوامی فلاح بہبود کے کام بھی کرتے ہیں ۔
اچھا اس وباء کے دوران وہ کیا کرتے ہیں ؟
ارے بھائی ابھی دو دن قبل اپنے حلقہ ٔ انتخاب گاندھی نگر میں ۱۵ کروڈ کے ترقیاتی منصوبوں کو قوم کے نام منسوب کیا ۔
کیا 15کروڈ یا 15 ہزار کروڈ اس لیے کہ اس سے مہنگا تو ان کے بیٹے اجئے شاہ کا گھر ہوگا ۔
نہیں بھائی ۱۵ کروڈ لیکن انہوں نے 120 کروڈ کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور اعلان کیا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں گاندھی نگر کو ایک نمونے کا حلقۂ انتخاب بنائیں گے ۔
یار شاہ جی بھی عجیب مذاق کرتے ہیں ۔ ان کو کم ازکم اپنے حلقۂ انتخاب کی تو قیادت کرنی چاہیے اس میں بھی وزیراعظم کو گھسا دیا ۔
انہوں نے تو اپنے حلقۂ انتخاب میں وزیر اعظم کی قیادت کورونا سے لڑنے اور ماسک پہننے والوں کو بھی مبارکباد دی ۔
کیا ماسک پہننے کے لیے بھی وزیر اعظم کی قیادت درکار ہے ارے بھائی چاپلوسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے قسم سے ۔
ارے بھیا ہر ٹویٹ کے آخر میں یہ لکھا رہتا ہےْ اوپر کا مضمون بدلتا ہے نیچے کا نہیں لیکن یہ بتاو کہ کیا وہ شیلانیاس کرنے کے لیے گاندھی نگر گئے تھے ؟
نہیں بھائی اس کی کیا ضرورت ؟ وہ تو اپنے گھر کے اندر فتر میں بیٹھے بیٹھے بٹن دبایا اور ریموٹ کنٹرول سے ہوگیا ۔
اچھا تو پردھان جی بھی اپنے دفتر میں بیٹھے بیٹھے رام مندر کا شیلانیاس کردیتے ۔
ارے بھیا وہ اگر ایودھیا نہ جاتے تو بھاشن کیسے ہوتا ؟
گھر بیٹھے بھاشن دینے میں کیا پریشانی ہے؟ آئے دن وہ یہی تو کرتے ہیں ۔
لیکن مزہ نہیں آتا ۔ دن بھر ٹیلی ویژن پر تماشا کیسے ہوتا ۔ وہ راون کی طرح مودی جی اڑن کھٹولے پر چلے آرہے ہیں یہ کیسے بتایا جاتا ؟
ارے بھائی جب سیتا کو اغواء ہی نہیں کرنا تو اڑن کھٹولے کی کیا ضرورت ؟
دیکھو بھائی وزیر اعظم کی سب سے بڑی ذمہ داری عوام کو خوش کرنا ہے ۔ اب کورونا اور چائنا کے چلتے انہوں عوام کچھ دل بہلا دیا تو تمہیں کیا پریشانی ہے ؟
ہاں بھائی جب ووٹ دیا ہے تو بدلہ میں کچھ تو چاہیے خیر اب ایوان پارلیمان میں راہل چین کے بارے میں تو سوال کریں گےضرور ۔
جی ہاں اور راجناتھ سنگھ کو ان کا جواب دینے کے لیے آگے بڑھایا جائے گا ۔
اچھا اب سمجھا ممکن ہے اس سوال جواب کے بعد وزیر داخلہ کی رپورٹ ٹھیک آجائے گی اور وہ ایوان پارلیمان میں بہار پر اپنا بھاشن دینے کے لیے آئیں
اور اس کے بعد پردھان جی ایوان پارلیمان میں اپنے من کی بات سنادیں اور بتائیں کہ سرحد کی طرح ہندوستان میں کورونا نہ آیا ہےاور نہ کبھی آئے گا ۔
اچھا تو یہ وزیر داخلہ کا بار بار اسپتال میں داخل ہونا کیا ہے؟
یہ عوام کا من کا وہم ہے ؟ مایا جال ہے!! رشی نریندر مودی کا یہی مہا پروچن ہے ۔
وہ تو ٹھیک ہے گرودیو لیکن ا کسی مضبوط آدمی کو دیش کا گرہ منتری کیوں نہیں بناتے ؟
دیکھو کورونا کو وشو میں کروڈوں اور ہندوستان میں لاکھوں لوگوں تک ہوچکا ہے ۔ اس سے کوئی کمزور نہیں ہوتا ۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن جنوری 2019میں ہندوستان میں مرغیوں کے سوا سوائن فلو کسی کو نہیں ہوا مگر شاہ جی کو ہوگیا اور اب بار بارکورونا یہ کیا چکرہے؟

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1091 Articles with 380516 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Sep, 2020 Views: 140

Comments

آپ کی رائے