نثر بے اثر

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

وہ کہنے لگی!
کیوں اداس ہوتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

حامد نے کہا
گرمیوں کی راتوں میں کیا کروں؟
وہ غصہ میں رہتی ہے جب میں گھر میں رہتا ہوں۔میں اس کی باتوں کو خوشی خوشی سہتا ہوں۔
آراستہ خود کو دوپٹہ سے آراستہ کرنے کے بعد راستہ بتانے لگی کہ کس طرح
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
اور گزشتہ سے پیوستہ رہتے ہوے اس سے باہر نکلا جاے اور براستہ حال ایک نیا مستقبل بنایا جاے۔

بات چیت کیا کرو ، یار !

وہ بات ختم کر دیتی ہے ۔ یا ایسی سخت بات جو خاموش ہونے پر مجبور کرے اور پھر اس سے دور کرے۔ انسان کیا کرے کیا نا کرے ۔ نثر لکھے یا شاعری کرے۔ سب ٹھیک ہو جاے خدا کرے۔

بات کرنے کا نتیجہ اگر طوفان ہو تو کیا خاموشی بہتر نہیں ؟
ایک فایدہ ہے کہ طوفان کے نتیجہ میں جو برسات ہوتی ہے چاہے وہ بادلوں سے ہو یا آنکھوں سے وہ رحمت ہوتی ہے اور آسانی کی نوید لے کر آتی ہے۔
خاموشی تو اس کے بعد ہو ہی جاتی ہے ۔ دھوپ نکل آتی ہے ۔ دھوپ ایسا کر دیتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، کوئ گرجا نہیں کوئ برسا نہیں ۔
تم سا کوئ نہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 226 Articles with 75782 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Sep, 2020 Views: 51

Comments

آپ کی رائے