ہم اس کی معافی کو قبول نہیں کریں گے۔۔۔ندا یاسر کے خلاف انہی کی انڈسٹری

 
مارننگ شوز پر گزشتہ کچھ سالوں میں کافی وبال آیا۔۔۔وہی مارننگ شوز جو ہر گھر کی صبح کی رونقیں بڑھاتے تھے اچانک ایک سوال بن کر رہ گئے۔۔۔پھر ریٹنگ کی دوڑ نے ان شوز کو کونٹینٹ سے آزاد کردیا اور ایک ایک کرے کسی نا کسی جرم کی پاداش میں یہ شوز بند ہوتے چلے گئے اور اب چند ہی شوز ہیں جو مقابلے کے اس میدان میں آہستہ آہستہ اپنی گاڑی گھسیٹ رہے ہیں۔۔۔ان میں سے ایک شو ہے ند ایاسر کا گڈ مارننگ پاکستان۔۔۔ان شوزکی کوشش ہوتی ہے کہ شو میں اینٹرٹینمنٹ شامل رہے لیکن کبھی کبھی کچھ شوز حادثات اور واقعات پر بھی کرنے پڑتے ہیں۔۔۔پچھلے دنوں ایک ایسے ہی موقع پر ندا یاسر نے پانچ سال کی بچی مروہ کے والدین کو بلا کر شو کیا جس میں اس کے والدین سے یہ سوالات کئے گئے کہ بچی کی اس تکلیف دہ موت کا انہیں کیسے پتہ چلا اور کیا ہوا تھا۔۔۔یہ سولات ایک معمہ بن گئے اور ان حالات میں جبکہ عوام پہلے ہی مشتعل تھی ، ندا یاسر اس شو کے بعد نشانے پر آگئیں۔۔۔انہوں نے معافی بھی مانگی۔۔۔یہ بھی کہا کہ میرے شو سے تو ان کی مدد بھی ہوئی۔۔۔لیکن عوام تو عوام انڈسٹری کے لوگ بھی انہیں معاف نہیں کر رہے۔۔۔
 
نور بخاری
سابقہ اداکارہ نور بخاری بھی میدان میں آگئیں اور انہوں نے اس شو کی شدید مذمت کی اور اپنا بیان کچھ اس طرح لکھا ْـــ’’ہاں یہ سب کرتے ہیں۔۔۔سارے ہی مارننگ شوز اتنے ہی بیکار ہیں۔۔۔یہ متاثرہ شخص کو بلاتے ہیں اور پھر میزبان کو کہتے ہیں کہ رلاؤ اسے رلاؤ۔۔۔ایک بار میں نے اسی وجہ سے شو چھوڑ دیا تھا اور وہاں سے چلی گئی تھی‘‘ ان کے اس بیان سے صاف ظاہر تھا کہ وہ صرف ندا یاسر کو نہیں بلکہ ان کی ٹیم اور چینل سب کو ہی یہ کہنا چاہ رہی تھیں کہ آپ لوگ ہیں قصور وار ۔۔۔اور ندا یاسر کو یہ شو نہیں کر نا چاہئے تھا۔۔۔نور بخاری کہہ تو صحیح رہی ہیں لیکن وہ اس دوڑ کا خود بھی حصہ رہی ہیں اور کئی شوز انہوں نے بھی اس طرح کے لئے۔۔۔یہ اور بات ہے کہ اب ان کی زندگی ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔۔۔نور نے کھلم کھلا ندا یاسر کے لئے ایک اختلافی بیان دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ ندا کو اس وقت انڈسٹری سے کوئی سپورٹ نہیں
 
بشریٰ عامر
عامر لیاقت کی پہلی بیگم بشری عامر بھی اس تکلیف دہ عمل پر چپ نہ رہ سکیں اور انہوں نے سے اس معافی کو مسترد کردیا۔۔۔ساتھ ہی انہوں نے یہ لکھا کہ تمام نیوز چینلز اور اینٹر ٹینمنٹ چینلز سے گزارش ہے کہ خدارا یہ قوم کی بچیاں ہیں، ہماری بیٹیاں ہیں ۔۔۔ان کے ساتھ پہلے زیادتی ہوتی ہے اور اس کے بعد بار بار زیادتی ہوتی ہے ان کے گھر والوں کے زخموں اور دکھوں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں نوچ نوچ کر اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔۔۔اپنے پروگرامز میں بلا کر ان کے ماں باپ یا گھر والوں سے ان کی بیٹی کی عصمت دری کا واقعہ پوچھنا یا بیان کرنا ان کے لئے کسی موت سے کم نہیں۔۔۔بس کردیں ریٹنگز کی دور! یہ دکھ ، صدمہ ہم سب کا اجتماعی دکھ ہے ۔۔۔ان ریپ کیسز اور زیادتیوں کے خلاف آواز بنیں نہ کہ ان کی تکلیف میں اضافے کا باعث ۔۔۔ذرائع ابلاغ کا درست استعمال بھی ہماری معاشرتی ذمہ داریوں میں شامل ہے- بشریٰ عامر نے بھی اس موقع پر آواز اٹھا کر یہ بتایا ہے کہ ان کا ووٹ ندا یاسر کے بچاؤ میں ہر گز نہیں-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
16 Sep, 2020 Views: 85393

Comments

آپ کی رائے