ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں

(Faisal Farooq Sagar, Gujranwala)

چیمبر آف کامرس الیکشن کی انتخابی مہم اب اختتام پذیرہے ، اس بار الیکشن میں یونٹی ون یونٹی گروپ کا الائینس اور فاؤنڈر اتحاد گولڈن گروپ آمنے سامنے ہیں ، دونوں گروپوں میں دیکھا جائے تو ملک ظہیرالحق ، اخلاق احمد بٹ اور انکے ساتھیوں سمیت زیا دہ بڑے نام یونٹی ون یونٹی گروپ کے ایک ساتھ الیکشن لڑنے کی وجہ سے انکے اتحاد میں شامل نظر آتے ہیں دوسری جانب فاؤنڈرزر اتحاد گروپ کے شیخ عامر رحمان جنہوں نے بڑی تیزی کے ساتھ سیاسی مقبولیت بھی حاصل کی ہے چیمبر الیکشن میں کافی پر امید نظر آتے ہیں ، دونوں جانب کے راہنماؤں کی محنت کا نتیجہ اب چند روز میں سامنے آنے والا ہے ، یقینی طور پر کسی ایک گروپ کو کامیابی ملے گی اور کسی ایک کے حصے میں ناکامی آئے گی ، جیتنے والے کو اپنے وعدے اور کی گئی باتوں کا پاس رکھنا ہوگا تاکہ بزنس کمیونٹی کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچ سکے جبکہ ناکام ہونے والے کو چاہئے کہ وہ کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کر کے چیمبر آف کامرس کے لئے بطور اپوزیشن ممبر اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے، یہی جمہوریت کاحسن اور خوبی ہے، یوں توجمہوریت مغربی نظام کہلاتا ہے مگر اس میں مشاورت اور ارکان کی نمائندگی اسلام میں شوری ٰ کی ہی ایک شکل ہے ،یہی نظام موجودہ حالات میں ایک بہترین نظام ہے ، آپس کے جھگڑوں اختلافات اور نکتہ ء نظر کے فرق کے بعد معاملات کو سلجھانے کے لئے جمہوریت بہترین نظام ہے، جہاں تک الیکشن میں کامیابی کا تعلق ہے چیمبر آف کامرس کے دو متحارب گروپوں کے ایک ہو کر الیکشن لڑنے کی وجہ سے تاثر ابھرا ہے کہ ملک ظہیرا لحق اور اخلاق احمدبٹ کی دوبارہ قربت نے بزنس کمیونٹی کو ایک مستقل اور غیر ضروری نوعیت کے امتحان سے نجات دلائی ہے اور اس قدم سے دور ہوجانے والے دوست ساتھی احباب قریب آئے ہیں جبکہ وہیں انکے اس اتحاد پر تنقید بھی جاری ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف مخالفانہ بیان بازی میں ہر حد پار کر لینے والے کیسے آج اکھٹے ہو گئے ہیں ادھر شیخ عامر رحمان کام کرنے کے جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں اور ان کے اندر اپنی بات کہنے اور سمجھانے کی کافی صلاحیت بھی موجود ہے آنے والے دنوں میں وہ متوقع طور پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے اہم سیاسی کردار بھی ادا کر سکتے ہیں الیکشن نتائیج سے قطع نظر انہوں نے کافی محنت سے اپنا مقام پیدا کیا ہے اور اپنا آپ منوایا ہے عام انتخابات ہوں ، چیمبر الیکشن یا کسی تاجر تنظیم کا کوئی چھوٹا الیکشن ہو تندو تیز جملے اور تقریریں ا ور تلخ سکالازمی حصہ ہوتی ہیں جذبات کی رو میں بہہ کر مخالفین کے بارے میں بعض اوقات قابل اعتراض بھی گفتگوہو جاتی ہے انتخابی جلسوں اور کارنر میٹنگز میں ایسا ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں لیکن الیکشن ختم ہو جانے کے بعدتمام گروپوں کو اتفاق اتحاد اور محبت کی فضا پیدا کرنی چاہئے اور الیکشن مہم کے دوران ہونے والے ان چھوٹے چھوٹے واقعات کو دل سے لگا کر نہیں بیٹھ جانا چاہئے ، ملک ظہیر الحق اور اخلاق بٹ نے اگر دو گروپوں کو مزید لڑانے کی بجائے ایک پلیٹ فارم مہیا کر کے یکجاکر دیا ہے تو بزنس کمیونٹی کو اس بارے منفی تاثر قائم نہیں کرنا چاہئے بلکہ ایشوز اور کارکردگی کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں ، ایسی صورتحال میں ایک صحافی کا کردار غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے اس لئے بہت کم پروگراموں میں شریک ہوا تاہم حالیہ چیمبر الیکشن میں سابق صدر چیمبر اخلاق احمد بٹ نے ایک فکر انگیز تقریر سے حاضرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا
سابق صدر چیمبر آف کامرس اخلاق بٹ جو سماجی خدمات کا بھی ایک وسیع بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں نے مقامی ہال میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہمیں سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہمیں اس فانی دنیا کو چھوڑ جانا ہے ، بحثیت انسان ہمارے رویوں ، غلطیوں اور کوتاہیوں پر ہمیں ایک دوسرے کو معاف کر دینے کی روایت قائم کرنی چاہئے اور ایک دوسرے کے لئے بڑے دل اور بڑے ظرف کا مظاہرہ کرنا چاہئے ‘‘ راقم کے خیال میں یہ عاجزی انکساری کیے پیرائے میں کی گئی وہ خوبصورت بات ہے جو چیمبر ہی نہیں ذندگی کے ہر معاملے میں ہمیں مدنظر رکھنی چاہئے ، انسان کی اصلاح اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ غلطیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ اور ہمت پیدا کر لیتا ہے اور غلط کام کی توجیح صفائی نہیں دیتا ، ہم میں کوئی شخص ایسانہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اس نے زندگی بھر کوئی غلطی نہیں کی یا اس سے دانستہ یا نادانستہ طور پرکوئی غلط کام سرزد نہیں ہو ا ، اخلاق بٹ نے چیمبرآف کامرس کے روشن اور شاندارمستقبل کے لئے جولائن ڈرافٹ کی ہے اگر بزنس کمیونٹی ا س پر عمل پیرا ہو جائے تو گوجرانوالہ چیمبر دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر سکتا ہے اور کاروباری شخصیات کے درمیان بے جا فاصلے بھی کم ہو سکتے ہیں ، مذکورہ تقریب میں سینئر راہنماملک ظہیرالحق نے گوجرانوالہ چیمبر کو ناکام کہنے والوں کے لئے یہاں کے لوگوں کی عظیم سماجی خدمات کا مختصراََ تذکرہ کیا اوربہت سے رفاعی ادارے گنوائے جویہاں کے مخیر حضرات اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے ہیں کاروباری برادری کی یہ خدمات یقیناََ لائق صد تحسین ہیں بلکہ اگر ڈی ایچ کیو اسپتال میں خدمات کا جائزہ لیا جائے تو یہی مخیر حضرات وہاں بھی انسانیت دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے کئی شعبے چلا رہے ہیں جہاں دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کی جا رہی ہے ، چیمبرمیں خدمات کی رجہ بندی اور کارکردگی کا فیصلہ بہر حال کاروباری برادری نے خود کرنا ہے کہ اس حوالے سے کس کا پلڑا بھاری ہے ،کاروباری برادری کا اپنے اپنے پلیٹ فار م سے الیکشن لڑنے میں کوئی حرج نہیں لیکن سب گروپوں کی ترجیحات اور مقاصد واضح اور یکساں ہونے چاہئیں اسی گروپ کے نامزد صدر عمر اشرف مغل نے بزنس کمیونٹی کو مل جل کر آگے بڑھنے اور گوجرانوالہ کا مقدمہ ہر فور م پر لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے جبکہ صدر میاں عمر سلیم جو خندہ پیشانی سے ملنے اور دوستوں کے ساتھ ہر وقت انکے کام کے لئے کہیں بھی جانے کے لئے تیار رہتے تھے امید ہے کہ نئے آنے والے لوگ انکی اس روایت کو برقرار رکھیں گے ہمارے محترم بڑے بھائی حاجی شکیل شیخ نے گوجرانوالہ کے لئے موٹر وے یونیورسٹی کے قیام سمیت دیگر منصوبوں کے لئے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے وہ بھی اپنے عزم کو دوہراتے نظر آئے اور ان منصوبوں کو گوجرانوالہ کا حق قرارد یا ،چیمبر آف کامرس اور شہر کی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہونے کا نظریہ بھی انہوں نے ہی اپنے عہد صدارت میں پیش کیا تھا تقریب میں سینئر راہنما ضیا ء اﷲ عرفانی نے مشتاق احمد یوسفی کی طرز پر ہلکے پھلکے انداز میں لکھی ہوئی مضمون ٹائپ تقریر پڑھی اور حاضرین کو محظوظ کیا تقریرکے متنازع متن کا ذکر یہاں ممکن نہیں ہے ، کاروباری برادری کی ترجیحات کا تعین ، بزنس کے فروغ کے لئے اقدامات ، مقامی انڈسٹری کی مصنوعات کا بہترین تعارف اور تشہیر اور کاروباری لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا اس لئے بھی اشد ضروری ہوگیا ہے کہ بے روزگاری غربت اور افلاس معاشرے میں اچھے انسان نہیں بلکہ چور ڈاکو پیدا کرتے ہیں، معاشرے میں جرائم کی بڑھتی شرح اسکا ثبوت ہے ، کاروباری لوگ سارا وقت باہمی جھگڑوں میں وقت کے ضیاع کی بجائے انڈسٹری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر نے کے بارے میں غورو فکر کریں اور جدت لاتے ہوئے نئے نئے آئیڈیاز پر کام کریں تو چیمبر اور گوجرانوالہ کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Farooq Sagar

Read More Articles by Faisal Farooq Sagar: 70 Articles with 24695 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2020 Views: 331

Comments

آپ کی رائے