"جنسی جرائم کے محرکات اور سد باب" (پہلی قسط)

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

چند دن قبل موٹر وے پر ایک نہتی عورت کے ساتھ بچوں کے سامنے بھیانک جنسی جرم کے دل دہلا دینے والے واقعہ نے ہر ذی شعور شہری کو کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس وقوعہ کے معروضی حالات کو سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کس ڈگر پہ چل پڑا ہے؟ بد قسمتی سے اس سے قبل بھی عورتوں، بچوں اور بچیوں کے ساتھ ایسے کئی واقعات منظر عام پر آئے۔ کیسز چلے، کچھ کو سزا ملی اور کچھ دندناتے پھر رہے ہیں۔ چند دن خبروں میں واویلا مچا، مذمتی بیانات آئے اور پھر بس۔ لیکن افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ ان جرائم میں کمی آنے کی بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر روز ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر آنے والے کم عمر بچوں، بچیوں اور عورتوں سے ریپ کے واقعات نے معاشرے میں ایک خوف طاری کر دیا ہے۔ ہر شریف النفس آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر اس کا انجام کیا ہوگا؟ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ یہ بیہودگی اور جنسی جرائم اس "اسلامی جمہوریہ پاکستان" میں ہو رہے ہیں، جس کا حصول ہی ان گنت قربانیوں کے بعد نظام اسلام کے نفاذ کےلیےکیا گیا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملمہ سازی اور سیاسی بیان بازی کی بجائے حقیقت پسندی کے ساتھ ان دلخراش واقعات کے عوامل اور محرکات کا بغور جائزہ لے کر آئندہ کیلئے ان سے نجات کا مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ یہ طے شدہ بات ہے ہر جرم کے پس پردہ کچھ عوارض ضرور ہوتے ہیں، جو اس کے سرزد ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت وقت سے لے کر معاشرے کے جملہ ذمہ داران تک ، سبھی پوری جانفشانی، دیانتداری اور توجہ کے ساتھ جنسی جرائم کی شرمناک صورت حال کا جائزہ لیں اوراس کا مؤثر حل تلاش کریں۔ اب ہم جنسی جرائم کے چند اہم اسباب کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہیں۔ یہ تو ہم سب مانتے ہیں کہ انسانی وجود عطیہ خداوندی ہے۔ مالک حقیقی نے جب مرد اور عورت کی تخلیق فرمائی تو نسل انسانی کی افزائش کی خاطر ان دونوں اصناف میں ایک خاص کشش رکھ دی۔ قدرت جانتی تھی کہ اگر ان دونوں جنسوں کو کھلے عام چھوڑ دیا گیا تو کیا گل کھلائیں گے۔ لہذا مالک کل کائنات نے مردوں، عورتوں کو نظروں کی حفاظت کا حکم دیا۔ نکاح کے آداب اور محرم و غیر محرم کی تمیز سکھائی۔ اسی طرح عورتوں کو جسم ڈھانپنے کی پابندی کی تلقین کی۔ ظاہری و باطنی بے حیائی اور فحاشی سے بچاؤ کے ایسے سماجی ضابطے عطا کردیے، جو معاشرے کو جنسی بے راہ روی کی غلاظت سے محفوظ رکھتے ہیں۔ قرآن پاک کی سورہ اعراف کی آیت نمبر 33 میں فرمایا گیا "کہہ دو کہ :’’ میرے پروردگار نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو، یا چھپی ہوئی" اب ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم اعتقادی لحاظ سے مسلمان ہیں۔ قرآنی حکم کے مطابق زنا کو حرام سمجھتے ہیں، خواہ جبرا ہو یا رضا مندی سے۔ مزید برآں کم عمر بچوں بچیوں سے جنسی زیادتی اور پھر ان کا ناحق قتل، ظلم و بربریت کی بدترین شکل ہے۔ اک طرف یہ طوفان بد تمیزی بپا ہے اور دوسری طرف ہمارا سماجی رویہ یہ کہ جو عوامل جذبات میں ہیجان برپا کر کے شرمندہ کر دینے والے واقعات کا سبب بنتے ہیں، ان کے تدارک پر قطعا کوئی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ انہیں روز بروز پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ بلکہ جو اس طرف توجہ دلائے اسے بھی دقیانوسی ذہنیت کا حامل یا تنگ نظر قرار دیتے ہیں۔ آئے روز الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے واقعات میں یہ بات واضح ہے کہ فحاشی پر مبنی ڈرامے اور نیم برہنہ عورتوں کی تصاویر اور وڈیوز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر اخبار و رسائل میں جو اشتہار شائع ہوتے ہیں، ان میں عورتوں کو پرکشش بناکر برائے نام کپڑوں میں دکھایاجاتا ہے۔ ہر طرح کے اشتہارات کے لیے عورتوں کے حسن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے اشتہارات میں بھی عورت کو نمایاں کیا جاتا ہے، سنیماؤں اور ٹی وی چینلوں کے پروگراموں میں عورت کے حسن کو زیادہ سے زیادہ نکھار کر نیم عریاں لباس میں پرکشش بناکر پیش کیا جاتا ہے، یہ بے ہودہ اور شرم ناک مناظر جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں، ان مناظر پر کوئی روک تھام نہیں ہے البتہ نتیجے کے طور پر کوئی نازیبا حرکت یا فعل سرزد ہوجائے تو پھر قانون حرکت میں آجاتا ہے۔ جبکہ اسلام کا طرز تعلیم و تربیت یہ ہے کہ پہلے برائیوں اور جرائم کی طرف جانے والے راستوں پر پابندی عائد کرتا ہے، رہنے کیلئے ایک صالح اورپاکیزہ ماحول مہیا کرتا ہے، اس کے بعد سزا و جزا کا عمل حرکت میں آتا ہے۔ مثلاً اسلام شراب اور دوسری منشیات کو حرام قرار دیتا ہے۔ مرد اور خواتین کے آزادانہ میل ملاپ پر پابندی عائد کرتا ہے۔ خواتین کو باوقار اور باپردہ لباس کا پابند بناتا ہے۔ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اس کے بعد بھی اس پاکیزہ ماحول اور معاشرہ میں کوئی بے حیائی یا فحاشی کرے تو پھر اسے عبرت ناک سزا دیتاہے۔ زانی اگر غیرشادی شدہ ہے تو اس کو سو 100 کوڑے کی سزا ہے، اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کو سنگ سار (پتھر مار کر ہلاک) کر دینے کی کڑی سزا ہے۔ یہ سزائیں چوراہوں پر عوام کے سامنے دی جاتی ہیں تاکہ اس عبرت ناک سزا کے بعد کوئی اس طرح کی حرکت کی جرأت نہ کرسکے. یہی وہ خوف اور ڈر ہے جو برائیوں سے بچا سکتا ہے۔
(جاری ہے)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 195 Articles with 113426 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
22 Sep, 2020 Views: 153

Comments

آپ کی رائے