مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی کپڑا اور مکان

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: فہد ابراہیم، کراچی
روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ تو کئی سیاسی جماعتوں نے لگایا مگر حقیقت میں اس پر عمل کس نے کیا یہ بات بیان کرنا اہم ہے۔ کسی نے مکان کا نعرہ لگایا اور آج تک وہ ہاؤسنگ پروجیکٹ مکمل نہ ہو پایا، کسی نے روٹی دینے کی بات کی تو تندور پر روٹی مہنگی کروا کر چلتا بنا۔ کسی نے کپڑے کی بات کی مگر دینے کے وقت ایسا محسوس کروایا کہ اب جو تن پر ہے یہ بھی اتار کر لے کر جائے گا تو مانگنے والے نے اپنا وجود ڈھکا رہنے دینے کے لیے بھاگنا مناسب سمجھا۔

ایسا نہیں کہ چند سیاسی نعروں کی وجہ سے اب قوم خدمت کے جذبے سے محروم ہے بلکہ خدمت کا کام کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ وہ نہ توکسی سیاسی جلسے کا انعقاد کرتے ہیں اور نہ کھڑے ہوکر وہاں جھوٹے نعرے مارتے ہیں بلکہ جب ان کو خدمت کرنی ہوتی ہے وہ چپ چاپ کرجاتے ہیں۔ یقینا ان کی نیکی اور نیکی کے اس جذبے کا اجر اﷲ کی ذات نے دینا ہے مگر ہم ان کی ان خدمات پر داد تحسین ضرور دے سکتے ہیں۔

حقوق انسانیت سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کی جانب سے کراچی میں بھی کچھ خدمات خلق کے سلسلے جاری رہتے ہیں۔ کچھ روز قبل سستی روٹی کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا، جس میں 5روپے کی روٹی کر کے شہریوں کو ریلیف دینے کی ممکنہ کوشش کی گئی تھی۔ گزشتہ دنوں نیو کراچی میں مفت عوامی دسترخواں کا انعقاد کی گیا۔ ایسے کئی سلسلے ہیں جو اس آرگنائزیشن کے تحت جاری ہیں جو کہ کراچی میں دیگر فلاحی اداروں کی طرح ایک نیا اور بہترین اضافہ ہے۔ حقوق انسانیت کی سربراہی قاضی محمد ابراہیم کر رہے ہیں اور ایک مکمل ٹیم ہے جو اس کو شہر کے مختلف علاقوں اور مختلف رفاعی کاموں کے ساتھ لے کر چل رہی ہے۔

ایسی کئی دیگر تنظیمیں بھی ہیں جو فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں یقینا یہ حکومتی نا امیدیوں کے درمیان ایک ٹھنڈی پر امید ہوا کا جھونکا ہی ہیں۔ ان کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اپنی مدد آپ کے تحت اور اسی شہر کے لوگوں کے توسط سے کام کررہی ہیں اور یقینا شہر کراچی میں خدمت خلق پر اپنا سرمایا اور وقت لگانے والوں کی کبھی کمی نہیں رہی ہے۔ کراچی کو آپ شہر درد دل رکھنے والا بھی کہہ سکتے ہیں۔ جب بھی کبھی شہر اور بیرون شہر کسی بھی طرح کی کوئی مشکل پیش آئی ہے شہریوں نے بلاامتیاز و رنگ نسل خوب لٹایا۔

خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والوں کو ایسے اداروں کے ساتھ تعاون بھی کرنا چاہیے اور ان کے ہاتھ کو مضبوط بھی کرنا چاہیے۔ جب بھی وقت ملے خدمت کے ان اداروں کے ساتھ جا کر خود بھی رفاحی کاموں میں شریک ہوں۔ یقین جانیے جو خوشی آپ کو خود مجبور اور ضرورت مند کے ہاتھ پر کچھ رکھ کر ملے گی اور اس کی مسکراہٹ کو محسوس کر کے ملے گی وہ کہیں اور ملنا ممکن ہی نہیں ہے۔ جبھی ارشاد ہوا ’’دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہے‘‘۔ یعنی دینے والے کے لیے کئی طرح کے انعامات رکھے گئے ہیں۔ دیتے وقت کی خوشی اور فرحت جس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔ پھر اﷲ کی طرف سے کئی گنا بڑھا کر عطا کیا جاتا ہے۔ دینے والے کی مشکلات کو آسان اور صحت و تندرستی میں برکت عطا ہوتی ہے۔

ﷲ کے رستے میں دینا اب کچھ مشکل ہوگیا ہے ۔ یہ نہیں پتا چلتا کہ کون حقدار ہے اور کون جعلی ہے، آپ اپنے اردگرد کاجائزہ لیں اور اندازہ لگا ئیں کہ کون درست کام کررہا ہے۔ ان دیکھی جگہ پر جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اچھائی اچھائی کو خود ڈھونڈ لیتی ہے۔ صدقہ خیرات کے سب سے پہلے حق دار آپ کے اپنی قریبی رشتہ دار ہیں وہاں سے شروع کریں۔ اپنوں کو اپنے نہیں دیکھیں گے تو پھر کون دیکھے گا۔ پھر جو آپ کو لگے بہتر کام کررہا ہے اس کو دیں۔ جس کو بھی دیں مگر دینا لازمی ہے یہ بات مت بھولیں۔ صدقے کے بے شمار فوائد ہیں اور اس میں یہ فائدہ تو گویا ہمارے لیے ہی ہے کہ انسان کئی آنے والی مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچ جاتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1189 Articles with 453619 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2020 Views: 185

Comments

آپ کی رائے