روحانی والدین کا درجہ رکھتے ہیں ”اساتذہ“ ۔۔ اساتذہ کا عالمی دن، کورونا کے دنوں میں کی گئی اساتذہ کی محنت کو سلام!

 
گزشتہ کئی ماہ کے دوران پاکستان میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا ایک سلسلہ جاری رہا ۔ جس میں کئی لوگوں کو گھر بیٹھنا پڑا، لیکن ان دنوں میں جس طبقے نے اپنا کام خوش اسلوبی سے جاری رکھا، وہ ”اساتذ ہ“ تھے ۔ انہیں عام روٹین کی طرح ہی اپنے فرائض منصبی ڈیجیٹل انداز میں نبھانے پڑے ۔ بچوں کو پڑھانے ، انہیں سبق دینے اور ان کی رہنمائی کا سلسلہ انہوں نے اسی طرح جاری رکھا۔
 
یونیسکو کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے 1.6 بلین طلبہ اور 63 ملین پرائمری و سیکنڈری اسکولز کے اساتذہ براہ راست متاثر ہوئے ۔ ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان میں سے 43 فیصد اساتذہ کے پاس کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود نہیں تھی، تاہم انہوں نے اپنے فرائض منصبی کو نبھانے کیلئے کسی نہ کسی طرح بچوں کو پڑھانے کا اپنا یہ سلسلہ جاری رکھا ، دنیا بھر میں ان کا یہ موٹو ہیش ٹیگ #LearningNeverStops کے ذریعے سامنے آیا ۔ اساتذہ نے ہی اسکول کھولنے کیلئے مناسب منصوبے تیار کئے، کورونا وائرس کی وبا کے دوران دگنی محنت کرتے ہوئے طلبہ کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ انہوں نے طلبہ کو ایس او پیز کے بارے میں سمجھایا ، صحت کے بارے میں معلومات فراہم کی اور ساتھ ہی ان کے تعلیمی عمل کو جاری رکھنے کیلئے اسکول انتظامیہ اور والدین کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا ، جس پر طلبہ اور ان کے والدین کو اساتذ ہ کا شکر گزار ہونا چاہئے ۔
 
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اساتذہ اپنے وجود سے طلبہ میں علم کی روشنی جلاتے ہیں اور پورے عالم کو منور کردیتے ہیں ۔ یہ کام اساتذہ دن رات محنت کرکے پورا کرتے ہیں ۔ وہ بچوں کو دنیاوی سبق دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی و فکری تربیت بھی کرتے ہیں ۔ اساتذہ کا رتبہ اسلام نے بھی بہت بلند رکھا گیا ہے اور اساتذہ کو ”روحانی والدین“ کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اساتذہ کی ہمیشہ عزت و تکریم کریں اور ان کی فراہم کردہ رہنمائی کے سہارے زندگی گزارنے کی کوشش کریں ۔
 
 
معاشرے کی ترقی میں اساتذہ کا کردار:
کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اساتذہ کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ معاشرے کے مستقبل یعنی بچوں کو علم و تربیت فراہم کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ ان سے پڑھ لکھنے کے بعد ہی نوجوان مختلف شعبوں میں نمایاں کردار نبھاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے ۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار پڑھے لکھے طبقے پر ہوتا ہے اور اس طبقے کو بنانے میں اساتذہ ہی اپنا کردار نبھاتے ہیں ۔ ان کی مدد سے ہی کئی نوجوان ترقی کی ان منازل کو عبور کرلیتے ہیں، جس کا بس خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے ۔
 
آج کل تو ڈیڑھ سے دو سال کے بچوں کو ہی گھر والے داخلہ دلوا دیتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اساتذہ اتنی چھوٹی عمر سے ہی ان کی دیکھ بھال کا فریضہ بھی نبھاتے ہیں، وہ اس فریضے کو بوجھ نہیں سمجھتے اور بچوں کی شرارتوں اور حرکتوں کو نظر انداز کرکے انہیں اچھائی اور بُرائی کا فرق سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج چونکہ دنیابھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایاجارہاہے تو اسی کی نسبت سے آج ان کی خدمات کو سراہنے کیلئے تقریبات کا انعقاد کیاجاتاہے اور انہیں خراج تحسین پیش کیاجاتاہے۔ تعلیمی ماہرین اساتذہ کو ”قوم کے معمار“ بھی سمجھتے ہیں، کیونکہ ان ہی کی رہنمائی میں طلبہ کامیابی کے زینے چڑھ کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔
 
 
ایسے طلبہ جو اپنے اساتذہ کی بات نہیں سنتے ۔ ان کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ ان سے چیخ کر بات کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں ، ان کیلئے بس یہی پیغام ہے کہ اگر انہوں نے اس طرح اساتذہ کے ساتھ رویہ جاری رکھا تو وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے ، آج کے دن عہد کریں کہ اساتذہ کو ان کا مقام و درجے کے مطابق عزت دیں گے تاکہ آئندہ کی زندگی میں وہ بھی اپنے چھوٹوں سے اسی طرح عزت پائیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
04 Oct, 2020 Views: 581

Comments

آپ کی رائے