سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی کتاب سے ”آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم“ کا جملہ حذف کرنے کا معاملہ ، خاتم النبین لازمی لکھنے کا قانون کہاں گیا ؟

 
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہورہی تھی، جس میں بخوبی طور پر دیکھاجاسکتا ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی انگریزی کی نویں جماعت کی کتاب سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ ”آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم“ جیسا اہم ترین جملہ حذف کردیا گیا ہے اور باقی جملے ویسے ہی موجود ہیں۔ یہ فاش غلطی سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ سے ہوئی، تاہم کسی نے اس غلطی کو نہ پکڑا، یہ کتاب مارکیٹ میں اس سال چھپ کر آگئی اور طلبہ تک بھی پہنچ گئی۔
 
 

سوشل میڈیا پر جب کسی نے اس اہم معاملے کی جانب سوال اُٹھایا تو یہ بات سامنے آئی ہے۔ جبکہ سب سے پہلے سندھ اسمبلی میں ہی ایک قرارداد جوکہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوگا وہاں خاتم النبین لازمی لکھا جائے گا۔ یہ قرارداد سب سے پہلے جون 2020 میں سندھ اسمبلی میں پاس ہوئی اور اس کا قانون بنا۔سندھ میں اس قانون کی موجودگی کے باجود اچانک سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی جانب سے اس طرح کی بڑی غلطی کا کرنا یقیناً سند ھ حکومت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

 
جب یہ معاملہ بڑھا تو کل وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی اس اہم معاملے پر ایک وضاحتی ویڈیو سامنے آئی ہے ۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ:
 
”کل رات ایک چیز علم میں آئی کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈکی نویں جماعت کی انگریزی کی جو کتاب ہے ، اس میں ہمارے نبی خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک غلطی ہوگئی ہے ، چند الفاظ جو پچھلی کتاب میں تھے ، اس سال وہ کتاب سے حذف ہوگئے ہیں ۔ میں نے فوری طور پر صبح اس معاملے پر میٹنگز کی ہیں اور اس معاملے کی مکمل انکوائری کروانے کا فیصلہ کیا ہے، کہ یہ غلطی ہوئی ہے یا کسی نے جان بوجھ کر یہ کیا ہے ؟ ساتھ ساتھ یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ جتنی یہ کتابیں صوبہ سندھ میں موجود ہیں تمام کی تمام اٹھالی جائیں اور پھر ان میں تصحیح کرکے، درست کرکے دوبارہ سے شائع کروائی جائیں ۔ میں واضح طور پر بتادینا چاہتا ہوں کہ سندھ حکومت اس معاملے سے غافل نہیں ہے ۔ جو ذمہ دار ہوں گے ، ان کے خلاف کارروائی کریں گے، جیسے ہی انکوائری کی تفصیلات آجائیں گی تو یہ شئیر بھی کی جائیں گی ۔
 
 
میں واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اورسندھ کا محکمہ تعلیم ایسا کوئی تصور نہیں کرسکتے کہ اس قسم کی کوئی غلطی یا کوتاہی سرزد ہوجائے اور اس سے ناصرف دوسروں بلکہ بطور مسلمان ہمارے اپنے بھی جذبات بھی مجروح ہوتے ہیں ، کیونکہ الحمد اللہ ہم بھی مسلمان ہیں ۔ میں گزارش کروں گا کہ ہمیں کچھ وقت دیں تاکہ یہ کتابیں مارکیٹ سے اٹھاسکیں اور انہیں درست کرسکیں ۔ ساتھ ہی ذمہ داروں کا تعین کرسکیں اور ان ے خلاف کارروائی کرسکیں ۔“
 
اب بات یہ آجاتی ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بُک کا اپنا ایک بورڈ ہوتا ہے، جس میں موجود لوگ کتابوں کے سلیبس اور ان میں کی جانے والی تبدیلیوں کو بغور دیکھتے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں کتابیں چھپ گئیں اور اس میں اتنا اہم جملہ حذف ہوگیا یہ معاملہ پہلے کیوں نہ دیکھاگیا؟ کیا بُک بورڈ میں موجود لوگ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ اس طرح کی غلطیاں پکڑ سکیں، تو پھر ان کی موجودگی اور انہیں بھاری تنخواہیں دینے کا کیا فائدہ؟ ساتھ ہی صوبے میں پاس ہونے والے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم لازمی لکھنے جیسے معاملے کو بھی خود سندھ حکومت کے کنٹرول میں موجود اداروں کی جانب سے اہمیت نہیں دی جارہی جس کا واضح ثبوت یہ فاش غلطی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کی کتابوں کو بغور دیکھاجائے کہ مزید اس طرح کوئی غلطی تو نہیں ہوگئی، ساتھ ہی سندھ حکومت کو اس معاملے کو جلد نمٹانے اور جس نے غلطی کی اسے سامنے لاکر مناسب سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس طرح کی کوئی مذہبی غلطی کبھی نہ ہوسکے۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
26 Sep, 2020 Views: 446

Comments

آپ کی رائے