الیکٹرانک کچرا (E-waste)

(Muhammad Farooq, )

گزشتہ دو دہائیوں سے اطلاعات و نشریات اور مواصلاتی رابطوں کی ٹیکنالوجی میں حیران کن تبدیلیوں اور شعبہ ٹیلی کام کے بطور مرکزِمواصلاتی انقلاب کے ابھرنے سے عالمی منڈی میں الیکٹریکل و الیکٹرانکس آلات کی مانگ اور استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے ان آلات میں موبائل فون ، ٹی وی ،ریفریجریٹر ، برقی کھلونے ،موسیقی وطبی آلات، آئی ٹی وگھریلو مصنوعات الغرض وہ تمام آلات جو بجلی یا بیٹری کی طاقت سے چلتے ہیں شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ان آلات کی خریداری میں 2.5ملین میٹرک ٹن کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ مصنوعات جہاں معیار زندگی کو بلند کرنے اور روز مرہ معمولات کو پر لطف و پر آسائش بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی و معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔وہاں اس کے ساتھ کچھ مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔

حالیہ برسوں میں تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات اور ٹیکنالوجی میں نت نئی جدت کی بدولت ان مصنوعات کی عمر بھی اسی رفتار سے کم ہو رہی ہے۔ ہم سب اپنے موبائل فون ، لیپ ٹاپ ، ٹیلی ویژن، ریفریجریٹر اور دیگر برقی آلات کو جدید ترین ماڈل کے ساتھ تبدیل کرنا پسند کرتے ہیں۔ جس سے آئے روز پرانی چیزیں نئی چیزوں کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہیں۔ یہ ملین کے حساب سے پرانے برقی آلات جیسے پاکستان کے مشہور زمانہ ٹی وی شو نیلام گھر میں یہ ’’الیکٹرا ٹی وی آپ کا ہوا‘‘ سے لے کر ہمارے پسندیدہ ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، وی سی آر ، موبائل فون اور کمپیوٹرجو ہمارے بچپن کی یادوں کا حصہ تھے کہاں گئے! وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب یہ الیکٹرانکس اپنا قابل استعمال عرصہ حیات پورا کر لیتی ہیں تو یہ کوڑے کے ڈھیروں اور کچرے کی زینت بن جاتی ہیں۔جسے الیکٹرانک کچرا (E-waste)کہتے ہیں۔

چند برسوں سے الیکٹرانک کچرا کے حجم میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کچرا مستقبل کے ایک بہت بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آرہا ہے اور آہستہ آہستہ مگر تسلسل کے ساتھ ہماری زندگیوں میں زہر گھول رہا ہے۔ الیکٹرانک کچرے کے بین الاقوامی سطح پر حجم کا اندازہ لگایا جائے تو ہوشربا حقائق سامنے آتے ہیں۔ اقوام متحدہ، آئی ٹی یو یونیورسٹی، ورلڈ بینک، ای ویسٹ فورم اور انٹرنیشنل سالڈ ویسٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے تیار کردہ رپورٹ ’’ گلوبل ای ویسٹ مانیٹر‘‘ کے اعدادو شمار کے مطابق صرف 2016ء میں 44.7ملین میٹرک ٹن الیکٹرانک کچرا پیدا ہوا جو تقریباً 4500ایفل ٹاور کے برابر ہے۔ جبکہ 2019ء میں 53.6ملین میٹرک ٹن برقی کچرا پیدا ہوا جو اوسطاً 7.3کلو گرام فی کس کے حساب سے بنتا ہے۔ اگر اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو یہ کچرا 2030میں 74.7ملین ٹن تک پہنچ جائے گا۔ 2019ء میں صرف ایشیا میں 24.9ملین میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا۔ جبکہ یہ اعداد و شمار بھی الیکٹرانک کچرے کی اصل مقدار کا احاطہ نہیں کرتے کیونکہ مکمل ریکارڈ دستاویزی شکل میں موجود نہیں۔ معلوم اعداد و شمار کا صرف 17.4فیصد کچرا ری سائکل کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے 44.3ملین میٹرک ٹن کچرا زمین دوز ہو گیا ، جلا دیا گیا یا غیر قانونی تجارت کے ذریعے سیکنڈ ہینڈ کے نام پر ترقی پذیر ممالک کی طرف منتقل ہو گیا۔ جو بغیر کسی حفاظتی تدابیر یا غیر رسمی انداز سے ریسائکل کیا گیا۔ صرف رد شدہ اے سی اور ریفریجریٹرکے غیرمنظم ڈسپوزل سے 98ملین میٹرک ٹن کاربن ڈائی اکسائیڈ (CO2)ماحول میں شامل ہوئی یہ سب کچھ اس کے باوجود ہوا جب دنیا کی 71فیصد آبادی اس کے مضر اثرات اور اس کے قوانین کو مانتی ہے۔ اگر معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو صرف 2019میں پیدا شداکچرے میں خام مال کی مالیت 57بلین امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے جب کہ توانائی اور دیگر قیمتی ذرائع کا ضیا ع اس کے علاوہ ہے۔

الیکٹرانک کچرے سے متعلق صارفین کو آگاہی اور ریسائکلنگ کی ترغیب دینے کے لیے 14اکتوبر کو بین الاقوامی الیکٹرانک کچرا ڈے منایا جا رہا ہے یہ دن منانے کے لیے ممبر ممالک کے تعاون اقوام متحدہ اور آئی ٹی یو کے اشتراک سے ویسٹ الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس ایکو یپمنٹ فورم (WEEE) نے مسودہ تیار کیا ہے تا کہ ای فضلا کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

الیکٹرانک کچرا کے معاشرے پر جملہ اثرات کو عملی اور نصابی سطح پر جانچنے کی کوشش میں راقم نے عالمی اداروں (اقوام متحدہ، آئی ٹی یو اور عالمی ادارہ صحت) کے اشتراک سے پیش کردہ پانچ جامع کورسز مکمل کر کے سرٹیفکیشن حاصل کی ہے جبکہ عملی طور پر مقامی سطح پر کچرا پھینکنے ، چننے اور اس کی خرید و فروخت سے متعلق افراد کے ساتھ وقت گزارا ہے۔ مشاہدے کے دوران بہت سی دلچسپ باتیں بھی سامنے آئیں۔ مثلاً کچھ لوگوں نے جذباتی لگاؤ، دوست کی طرف سے تحفہ یا والدین کی نشانی سمجھ کر اپنا موبائل فون یا ٹی وی گھر میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ ایک اہم با ت پاکستان میں سیکنڈ ہیند آلات کو مرمت در مرمت کر کے زیادہ عرصہ تک استعمال کرنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے جو کافی حد تک خوش آئند بات ہے لیکن مجموعی طور پر پاکستان میں بھی دیگر بہت سے ممالک کی طرح الیکٹرانک کچرے کا کاروبار ایک خود رو پودے کی چل رہا ہے۔ اس کو اکٹھا کرنے، ٹھکانے لگانے او ر ریسائکلنگ تک کا عمل بغیر کسی لائسنس ، قواعد و ضوابط و حفاظتی تدابیر کے جاری ہے۔ جو ماحول، صحت اور معیشت تینوں کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس کے مضر اثرات سے آگاہی ، کار آمد خام مال کی بازیابی اور عالمی قوانین پر عملدرآمد کا شدید فقدان ہے۔ مزید یہ کہ سیکٹر غیر تربیت یافتہ افراد ، غیر ہنر مند کارکنان اور اناڑی وغیر پیشہ ور کباڑیوں کے ہاتھ میں ہے۔ جو اپنے مطلب کی چند چیزوں کے حصول کے بعد کچرے کو کھلی فضا میں جلا دیتے ہیں یا کوڑ ے کی نظر کر دیتے ہیں۔

یہ الیکٹرانک کچرا عام روایتی یا میونسپل کچرے سے یکساں مختلف ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ زہر قاتل ہے جبکہ دوسری طرف اپنے اندر قیمتی دھاتوں کا خزانہ بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ جس کے ساتھ مختلف معاشی، ثقافتی ، ماحولیاتی اور معاشرتی اثرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔اگر اس کے نقصان دہ اور مضر اثرات کی بات کی جائے تو یہ انتہائی کثیر القوی زہریلے تابکار مادوں ، گیسوں اور کیمیائی مرکبات کے اجزائے ضربی پر مشتمل ہوتا ہے اس میں پارہ، سیسہ، کلورو فلو کاربن، ہائیڈرو کاربن اور برومیٹڈ شعلہ جیسے خطرناک اجزا سر فہرست ہیں جو نہ صرف کاربن ڈائی اکسائیڈ ،زہریلی گیسوں و دیگر عناصر کے ساتھ کیمیائی عمل کے ذریعے ماحولیاتی نظام کو آلودہ کر رہے ہیں بلکہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) میں بھی بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں ان میں بہت سے اجزا چونکہ زمین میں حل پذیر نہیں ہوتے اور بغیر کسی تغیر و تحلیل کے برسہا برس موجود رہتے ہیں جس سے زیر زمین پانی کے ذخائر اور آبی حیات متاثر ہو رہے ہیں۔ دریاؤ ں اور ندی نالوں میں بہہ کر کھیتوں تک پہنچ کر سبزیوں اور ہماری روز مرہ خوراک میں شامل ہو کر متعدی بیماریوں کا موجب بھی بنتے ہیں جن میں جلدی بیماریاں، کینسر، نظام تنفس، انسانی اعصابی اور مدافعتی نظام، بچوں میں پیدائشی نقائص حتیٰ کہ قوت سماعت پر بھی منفی اثرات شامل ہیں۔

اگر اس کے اندر چھپے قیمتی عناصر کی بات کی جائے تو الیکٹرانک کچرا بیش بہا قیمتی دھاتوں اور خام مال کا مجموعہ ہوتا ہے دھاتوں میں سونا چاندی، تانبا ، ایلومینیم، پلاٹینیم، لوہا اور کوبالٹ جیسے نایاب اور اہم عناصر موجود ہوتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ٹن کچرے میں سونے کی مقدار سترہ ٹن سونے کی چٹان میں موجود سونے کی مقدار سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس کی بین الاقوامی معیار کے مطابق ریسائکلنگ کی جائے تو نہ صرف ان قیمتی اشیا کی مکمل بازیابی یقینی بنائی جا سکتی ہے بلکہ گردشی معاشی نظام (سرکلر اکانومی) کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک نفع بخش کاروبار ہے لیکن ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی کمی اور اس کے منفی نتائج کا محدود علم و آگاہی اور ناکافی وسائل کے چیلنجز کا سامنا بھی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔اس کاروبار میں سہولیات مہیا کر کے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

الیکٹرانک کچرے کا سب سے بنیادی مسئلہ اس سے متعلق مکمل آگاہی میں کمی، مضمرات و فوائد کا علم نہ ہونا اور حقائق سے بے خبری ہے۔ برقی کچرے کے عفریت سے نمٹنے ، محفوظ اور قانونی طریقوں سے تلف کرنے اور کار آمد اجزا کے حصول کے لئے انفرادی و اجتماعی سطح پر با عمل کوششوں کی ضرورت ہے۔پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز ، سول سوسائٹی، سماجی کارکنوں ، تجارتی تنظیموں اور این جی اوز کو آگے آنا چاہیے اس سلسلے میں جامعات اور تعلیمی اداروں کو بھی کردار دا کرنا چاہیے۔

حکومت اس حوالے سے مؤثر قانونی سازی کرے۔ ایک طویل المدتی اور پائیدار جامع قومی پالیسی مرتب ہو ۔ تا کہ اس کاروبار کو قانونی دائرہ کار میں لایا جائے۔ کچرے کی غیر قانونی درآمدات اور برآمدات اور اس کے سنگین نتا ئج سے نمٹنے کے لیے بین الاقومی قوانین جیسا کہ باسل کنونشن ، سٹاک ہوم اینڈ روٹر ڈیم کنونشن اور دیگر رائج الوقت قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچرے کی مقدار کے تعین اور تخمینہ کے لیے اقدامت بھی کرنے چاہئیں۔اس کی محفوظ ریسائکلنگ کے لیے سرکاری اور نجی شعبہ کی شراکت سے ایک ماڈل پائلٹ پراجیکٹ یا چھوٹا صنعتی یونٹ لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اور مختلف مقامات پر کچرا کلکشن سنٹرز بنائے جا سکتے ہیں۔اس کے لیے ایک کامن فنڈ قائم کیا جا سکتا ہے جس میں الیکٹرانک انڈسٹری یا کمپنیاں اپنے نفع کا کچھ حصہ جبکہ حکومت الیکٹرانک اشیاء سے موصول ٹیکس کا کچھ فیصد مختص کرے۔ جبکہ اس پراجیکٹ کے لیے تکنیکی مہارت اور استبداد سازی میں معاونت کے لیے عالمی اداروں سے مدد لی جا سکتی ہے اس کے علاوہ آلات بنانے والی کمپنیاں اپنے ناقابل استعمال آلات واپس لینے کی حکمت عملی بنانے کی ذمہ داری لیں۔ حکومت، انڈسٹری اور صارفین کے تعاون سے برقی کچرا کے اس چیلنج سے نمٹا جا سکتا ہے اس سے نہ صرف صحت، معیشت اور ماحولیاتی نظام پرمثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Farooq

Read More Articles by Muhammad Farooq: 5 Articles with 1935 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Oct, 2020 Views: 481

Comments

آپ کی رائے