درجہ حرارت میں اضافہ، آفات کا سبب

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)
انسان جس رفتار سے قدرت کے نظام میں خلل ڈالنے اور اس کے ساتھ ٹکرانے میں مصروف ہے، اسی تیزی کے ساتھ قدرت بھی عفو ودرگزر اور رحمتوں و قدرتوں کے باوجود انسان کو خبردار کر رہی ہے۔جیسا کہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کو شدید گرمی کی لہر کا سامنا ہے اور بجلی بھی نہیں۔سپریم کورٹ نیپرا سے رپورٹ طلبکرتی ہے مگر اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آتے۔ عوام کی تکالیف اور مصائب کا ذمہ دار بھی انسان خود ہے۔ عالمی سطح پر بھی،اقوام متحدہ کے ماہرین خبردارکر رہے ہیں کہدنیاکے درجہ حرارت میں اضافہ متعدد آفات کا سبب بنے گا۔عالمی وائلڈ لائف فنڈ اور زولوجیکل سوسائٹی لندن کی تحقیق میں موسمی گرمی سے جنگلات میں چرند و پرند، حشرات الارض کی آبادی میں گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران 68فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آفات سے لاحق خطرے میں کمی کے بارے میں اقوام متحدہ کے دفتر ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن یا یو این ڈی ڈی آر کی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ 2000 اور 2019 کے درمیان دنیا بھر میں قدرتی آفات سے ہونے والی اموات میں سے 13 فیصد درجہ حرارت کی شدت کی وجہ سے ہوئیں جبکہ ان اموات میں سے اکثریت (91 فیصد) گرمی کی لہر کا نتیجہ تھیں۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ 21ویں صدی کی ابتدائی دو دہائیوں کے دوران موسم سے متعلق بڑی تباہی ریکارڈ کی گئی اور ان میں سب سے زیادہ قابل ذکرپاکستان اور بھارت میں 2015 کے مئی اور جون میں آنے والی شدید گرمی کی لہر تھی جس سے دونوں ملکوں میں بالترتیب ایک ہزار 229 اور2 ہزار 248 لوگ لقمہ اجل بن گئے۔جس دنیا میں 2019 میں عالمی اوسط درجہ حرارت 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جو صنعتی دور سے پہلے کا ہے، اس کے اثرات گرمی کی لہروں، خشک سالی، سیلاب، موسم سرما کے طوفانوں، سمندری طوفان اور جنگل کی آگ سمیت سخت موسمی حالات کی شکل میں محسوس کیے جارہے ہیں۔نیویارک میں سینئر صحافی و محقق انور اقبال کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے محققین نے مزید خبردار کیا ہے کہ اس صدی کے پہلے 20 سالوں میں آب و ہوا کی آفات میں ''حیرت انگیز'' اضافہ دیکھا گیا،ترقی یافتہ ممالک نے خطرناک اخراج سے آب و ہوا کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا جس سے بہت میں تباہی ہوئی۔محکمہ موسمیات پاکستان بھی خبردار کر رہا ہے کہ رواں ہفتے کراچی سمیت سندھ کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی غیر متوقع لہرآ سکتی ہے، جس کے ساتھ ہی دن کا درجہ حرارت 40 سے 42 سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گا۔اکتوبر میں ایسا موسم شاید پہلے نہیں دیکھا گیا۔

اب راتیں بھی پہلے کے مقابلے میں گرم ہو رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ بڑھتے درجہ حرارت سے تمام اموات عالمی سطح پر دنیا کے شمالی علاقے میں ریکارڈ کی گئیں اور ان میں سے 88 فیصد اموات یورپ میں ریکارڈ کی گئیں۔2003 میں یورپ میں شدید گرمی کی ایک بڑی لہر سے 72 ہزار سے زیادہ افرادجاں بحق ہوئے اور 2010 میں شدید گرمی کی ایک اور لہر روس میں 55 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بنی، حال ہی میں 2019 میں شدید گرمی کی دو لہروں سے فرانس میں ایک ہزار 400 سے زیادہ اموات ہوئیں۔دنیا میں تین بڑی آفات جن میں ایک لاکھ سے زائد اموات ہوئیں، وہ بھی 2000 سے 2019 کے درمیان آئیں جس میں 2004 کا بحر ہند میں سونامی، میانمار میں 2008 کا طوفان نرگس اور 2010 میں ہیٹی کا زلزلہ شامل ہے۔کشمیر اور کے پی کے میں 8اکتوبر2005 میں آنے والے زلزلے میں تقریباً ایک لاکھ افراد لقمہ اجل بنے اور 2008 میں چین میں زلزلے کے نتیجے میں 87 ہزار 500 افراد ہلاک ہوئے۔2000 سے لے کر 2019 تک تمام آفات میں سیلابوں کا تناسب 44 فیصد تھا جس نے پوری دنیا میں 1.6 ارب افراد کو متاثر کیا جو کسی بھی نوعیت کی آفت کا سب سے زیادہ اعداد و شمار ہے، 2000 سے لے کر 2019 تک سیلاب کے سب سے خطرناک واقعات میں جون 2013 میں ہندوستان میں سیلاب میں 6 ہزار 54 اموات، ہیٹی میں مئی 2004 کے سیلاب میں 2 ہزار 665 اموات اور پاکستان میں جولائی 2010 کے سیلاب میں ایک ہزار 985 اموات ہوئیں۔چین اور ہندوستان زیادہ آبادی کے سبب اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں، دونوں ممالک میں مجموعی طور پر 2000 اور 2019 کے درمیان 2.8 ارب افراد آفات سے متاثر ہوئے۔آفات سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد کے لحاظ سے پہلے10 ممالک کی فہرست میں ایشیا کے (7 ممالک) کا غلبہ ہے جبکہ اس میں امریکی خطے کے دو ممالک امریکا اور برازیل، ایک افریقی ملک ایتھوپیا شامل ہے۔ہیٹی، انڈونیشیا اور میانمار نے گزشتہ دو دہائیوں کی بڑی تباہ کاریوں میں ہلاکتوں کی مکمل تعداد میں تین مقامات سرفہرست ہیں اور اس فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں 84 ہزار 604 اموات ہوئیں۔

سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم سالانہ 40ارب ٹن کاربن ڈائیکسائڈ خارج کرتے ہیں۔تاہم اسے جذب کرنے کے لئے جنگلات موجود نہیں۔ پاکستان میں سونامی درخت اگانے کے دعوے کئے گئے۔ فنڈز بھی استعمال ہوئے۔ تا ہم موسم میں نمایاں تبدیلی محسوس شاید نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس کشمیر کے مظفر آباد جیسے کم آبادی والے ہرے بھرے شہر موسم گرم ہو رہا ہے۔ دریائے نیلم پر بھارت نے کشن گنگا ڈیم تعمیر کر لیا۔ اس کا رخ موڑ لیا گیا ہے۔ جو بچ گیا ، اس کا رخ ہم نے خود موڑلیا۔ جو زیر زمین سرنگیں تعمیر کی گئی ، ان کے فوائد بجلی کی پیداوار میں اضافے کی صورت میں حاصل ہو رہے ہیں مگر ماحولیات پر اس کے اثرات پر کوئی اخلاقی طور بات نہیں کرتا۔ انسان اپنے مفاد میں کس طرح لاکھوں سے بھی زیادہ حشرات الارض، کیڑے مکوڑے، چرند پرندمار ڈالتا ہے جن کا وجود قدرت نے اس ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے اور دیگر رازوں کو بروئے کار لانے کے لئے لازمی سمجھا ۔اگر اس تازہ تحقیق پر غور کیا جائے توقدرت میں بے جا مداخلت سے انسان خود اپنی ہلاکت کا ذمہ دار بن رہا ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220727 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
18 Oct, 2020 Views: 419

Comments

آپ کی رائے