نیازی نیازی کے غنڈوں نے سندھ کی زمین پر ۔۔۔

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 رینجرز کے کرتا دھرتاﺅں کی کرپشن کہانیاںایک مدت سے آج تک ملک و قوم میں زبان زدِ عام ہوچکی ہےں۔ذرئع بتاتے ہیں اور عام لوگوں سے بھی شنید ہے کہ کسی پلاٹ پر قبضہ کرنا ہو یا کسی سے چھڑانا ہو جو پہلے ان کے پاس زرِ محنتانہ لے کر پہنچ جائے وہ ہی اپنے مقاصد میں کامیا ہو کامران ہوجاتا ہے۔پولیس بے چارئی میں اتنا تپڑ نہیں ہے کہ ایسے ڈاکووﺅں کو روک سکے یا ان سے سوال کر سکے۔صوبائی حکومت کی مجبوریوں نے انہیں کرپشن کاسر تاج بنا دیا ہے۔پی ڈی ایم کے دوسرے جلسے سے حکمران اور ان کے حواریوں کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔یہ منظر بھی پورے پاکستان نے دیکھا کہ ان لوگوں نے کیپٹن صفدر کے معا ملے میں کس طرح غیر آئنی اور غیر اخلاقی طور پر پوری سندھ گورنمنٹ کو اپنی ڈنڈا بر داری سے کھڈے لائین لگایا ۔

اس وقت پاکستان میں سیول مارشل لاءکی سی کیفیت جاری ۔ڈیموکریسی کے بجائے جنرل کریسی چل رہی ہے۔ نیازی حکومت کے اکثر شعبوں پربھی فوجی مسلط ہیں۔جن میں سے کئی کی بد عنوانیوں کے چرچے اور الزامات سوشل میڈیا پر چل بھی رہے ہیں۔جس سے جنرل کریسی کے اکثر کارنامے آج زبان زدِ عام ہیں۔ یہ بے ایمان لوگ کبھی سیاست دانوں کو غداربناکر ملک کو دو لخت کر ا دیتے ہیں۔کبھی طاقت کے بل پر جن کا کھاتے ہیں ان کو یعنی عوام کو غرانے لگ جاتے ہیں۔ ویسے تو یہ پاکستان کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ریٹائر ہوتے ہی ان کی اکثریت آقا دیس سدھار جاتی ہے ۔ان کا سلیکٹیڈ کہتا ہے کہ پی ڈی ایم اور نواز شریف فوج کو بد نا م کر رہے۔وہ فوج کو بد نام نہیں بلکہ بد عنوانوں کی اصل شکل دکھا رہے ہیں ۔ہر پاکستانی مجھ سمیت کہتا ہے کہ فوج تو ہماری محافظ اور پاکستانیوں کے ماتھے کا جھومر ہے۔ان کے اس الزام کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کس قدر خوبصورت بات کہی ”فوج تو ہماری پلکوں کی طرح ہے جو ہر وقت آنکھوں کی حفاظت کرتی رہتی ہیں ۔جب پلک کا کوئی بال ٹیڑھا ہوآنکھ کو تکلیف پہنچانے لگے تو آنکھ سے آنسو بہہ نکلتے ہیں۔یا تو وہ بال آنسووئں سے گرجاتا ہے یا پھر اس کر کھیچ کر نکال پھینکا جاتا ہے۔

جب پی ڈی ایم کا دوسرا کامیاب ترین جلسہ سلیکٹر اور اس کے حواریوں نے دیکھا تو سب کے پسینے چھوٹ گئے۔جب کچھ نہیں بن پڑا تو رینجراز کے بندوق برداروں سے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی پرائیویسی میں خلل ڈلوا کر ان کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ غیر قانونی عمل کرنے والوں نے غیرقانونی اور غیراخلاقی طور پر توڑ کران کی پرائیویس کا کھلِعام مزاق اڑایا۔کیپٹن صفدر کو اپنے نرغے میں لے کر رینجرز ہیڈ آفس کراچی لیجایاگیا ۔اس سے قبل پی ٹی آئی کے ایک مطلوب کریمنل سے تھانہ بریگیڈ میں جھوٹی ایف آئی درج کرائی گئی ۔پھر جنرل کریسی کے گرُگوں نے آئی جی کو ہراست میں لے کر رینجر ہیڈ ہیڈ کوارٹر پہنچا یا اور بندوق کی نوک پر آئی جی سندھ سے کیپٹن صدر کے اریسٹ کرنے کے احکامات پر دستخط کر اکے انہیں تھانے منتقل کیا گیا ۔اس گیم میں نیازی حکومت کے پیشِ نظر دو مقاصد تھے ایک تو پی ڈی ایم میں بد اعتمادی پیدا کرنا جو وہ کر نہیں سکے اور دوسرے جنرل کریسی کی طاقت دکھانا تھا۔رینجرز کی غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاروئی نے ملک میں ان کے غیر آئینی ہتھکنڈوں کا پول کھول کے رکھ دیا۔

پی ڈی ایم کے پہلے جلسے کے اگلے دن عمران نیازی کی بدن بولی(Body language) دیدنی تھی۔جب نیازی اپنے حمائتیوں میں کرونا کی پابندیا ںفلانگ کر اپنے ٹولے سے مخاطب ہوا تو ایسے لگ رہا تھا کہ یہ وزیرِ اعظم تو نہیں، سیسلین مافیہ کا سربرہ بول رہا ہے۔ٹائگر کے نام پر جو غنڈا فورس بنائی گئی ہے ۔اس میں عمران نیازی کی ثیخیں نکلتے ہوئے ساری دینا نے سنی۔ایک سلیکٹیڈ اور غیر جمہوری شخص کہتا ہے کہ میں جمہوریت ہوں۔جو اپنے بیانات سے تو ڈکٹیٹر کا بھی باپ لگتا ہے۔شوق سلیکٹرز کو بھی تھاکہ اس نا اہل کو ملک کے وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھانے کا جس میں صلاحیت ایک چپراسی کی بھی نہیں ہے۔

ہم پوچھتے ہیں یہ جنرل کریسی اس ملک کا نظام کب تک تباہ کرتی رہے گی؟چار مرتبہ ان لٹیروں نے پاکستان کے جمہوری سسٹمپر شب خون مارا اور ذلیل و رسوا ہو کر بھاگے اور عوم سے منہ چھپاتے رہے۔ نیازی میں ہمت تو اتنی بھی نہیں ہے کہ لندن سے دہاڑنے والے شیر نواز شریف کا خطاب پاکستانیوں کو سنا سکے ۔اس کی زر خرید پیمرا نے نیازی کے کہنے پر نواز شریف کا دوسرا خطاب نشر ہی نہیں ہونے دیا ۔اس کا خیال تھا کہ عوام کو نواز شریف کا لٹیروں کے خلاف بیانیہ پہنچنے ہی نہ دیا جائے ۔مگر نیازی کے اور سلیکٹر نے بھی شیر کا بیانیہ سنا اور گش کھانے لگے۔

نیازی کی سلیکٹیڈ حکومت کو عوام کی بد حالی کی کوئی فکر نہیں ہے ۔عوام بھوک و افلاس سے نڈھال ہیں اور نیازی لگا ہے این آر او نہیں دونگا۔کاگانا روزانہ لہک لہک کر گاتا ہے عوام پوچھتے ہیں کہ کیا رینجرز کیانیازی کے غنڈوں میں شامل ہوگئی ہے؟

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 111544 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Oct, 2020 Views: 113

Comments

آپ کی رائے