کیا گلوکار و اداکار علی ظفر کو نمل نالج سٹی کا سفیر مقرر کرنا صحیح ہے؟ کیا معروف علمی، ادبی اور دانشور شخصیات اس کی مستحق نہیں؟

 
حال ہی میں ملک کے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر نے ایک ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں ’’نمل نالج سٹی‘‘ کا سفیر مقرر کردیا گیا ہے ، جو کہ ان کیلئے بہت ہی اعزاز کی بات ہے- انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا ، ساتھ ہی انہوں نے ٹونی آشائی (پروجیکٹ ڈیزائنر) کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے سفیر بننے کی یہ خبر اور تصاویر مداحوں کے ساتھ خود شئیر کی ۔علی ظفر کا کہنا ہے کہ علم، ملک اور اس کے لوگوں کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔
 
 
دوسری جانب بات کرلیتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کی، جنہوں نے نالج سٹی یعنی علم کے شہر کی تعمیر کو اپنا خواب قرار دیا ہے ۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں پہلے باب العلم (نالج سٹی) کی تعمیر میرا خواب ہے ۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان کے پہلے نالج سٹی کے ماسٹر پلان کی ویڈیو بھی شیئر کی ۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی میں تعمیر کیا جانے والا پاکستان کا پہلا نالج سٹی کیسا ہوگا، جسے حقیقت میں تبدیل کرنے کیلئے انہوں نے اس کام کا باقاعدہ آغاز کیا اور حکومت کی جانب سے گلوکار و اداکار علی ظفر کو اس کا سفیر بھی بنا دیا گیا ہے ۔
 
 
اتنے نیک کام کیلئے علی ظفر کا ہی انتخاب کیوں ؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر علی ظفر کو ہی اس نالج سٹی کا سفیر کیوں مقرر کیا گیا ؟ کیا وہ اس عہدے کے لئے موزوں ہیں ، اس پر بحث ضرور کی جانی چاہئے ۔ جو لوگ بھول گئے ہیں انہیں یاد دلوانے کیلئے آئیے ذرا دو سال قبل سامنے آنے والے جنسی ہراسگی کے ایک کیس کی جانب چلتے ہیں ۔ 9 اپریل 2018ء کو گلوکارہ میشا شفیع نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں گلوکار و اداکار علی ظفر پر سرِ عام الزام لگایا کہ انہوں نے جنسی بنیادوں پر 1 سے زائد انہیں بار ہراساں کیا ۔ جب علی ظفر نے یہ الزام مسترد کیا تو میشا شفیع نے قانونی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ۔ تاہم یہ معاملہ ثابت نہ ہو پایا ۔ دوسری جانب علی ظفر نے ہتکِ عزت کیس کے تحت میشا شفیع پر 1 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا کیونکہ علی ظفر کے مطابق اس کیس سے ان کی اس کے خاندان کی ساکھ متاثر ہوئی اور انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ۔ تاہم یہ کیس دو سال تک میڈیا کا مرکز نگاہ بنا رہا۔
 
 
سب سے زیادہ قابل غور بات یہ کہ علم کے شہر کے سفیر کیلئے کسی شوبز کی شخصیت کے بجائے کسی علمی شخصیت کا ہی انتخاب کیا جاتا تو وہ زیادہ بہتر ہوتا ، کیونکہ ملک میں کئی بڑی علمی شخصیات ہیں ، جنہیں اس کے سفیر کیلئے نمائندگی دے دی جاتی تو زیادہ موزوں ہوتا کیونکہ پھر علمی شخصیات کا بھی مزید حوصلہ بڑھتا اور ان میں علم کی روشنی کو مزید پھیلانے کی جدوجہد تیز ہوجاتی۔ ایک ایسی شخصیت جن پر ماضی میں جنسی ہراسگی کا الزام رہا ہو اسے اس طرح نالج سٹی کے سفیر کے طور پر مقرر کرنے قبل حکومت کو ضرور سوچنا چاہئے تھا ۔ اس طرح اپنی مرضی سے سفیر کیلئے شخصیات کا انتخاب کرنے کے بجائے میرٹ کو سامنے رکھا جاتا تو کئی عظیم ہستیوں کے نام ذہن میں آتے ، لیکن شاید علی ظفر کو سفیر مقرر کرنے کے پیچھے یہ مقصد یہ ہے کہ ان کی فین فولوئنگ کا فائدہ اٹھایا جاسکے اور اس پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کیلئے ان کا نام حکومت کے کام آسکے ۔ اگر حکومت کو ایسی شخصیت کی تلاش تھی ، جس کا نام کیش ہوسکے تو سب سے بہترین نام ’’ملالہ یوسف زئی‘‘ کا تھا ، جسے اگر نالج سٹی کاسفیر مقرر کیا جاتا تو انٹرنیشنل میڈیا میں بھی اس پروجیکٹ کو بھرپور پذیرائی ملتی اور ممکن تھا کہ اس پروجیکٹ کیلئے فنڈنگ کا بھی بندوبست ہوجاتا ۔ ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کیلئے بہت کام کیا، افریقی ممالک میں کئی پروجیکٹس شروع کئے اور نوبیل انعام یافتہ ہونے کی وجہ سے وہ اس پوزیشن کیلئے مضبوط امیدوار تھیں ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم جو کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور اب ضیاالدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں ، وہ ناصرف شاعر بھی ہیں ، انہوں نے تعلیمی میدان کیلئے بہت کام کیا ، انہوں نے 1960 میں کراچی یونیورسٹی کے فزیالوجی ڈپارٹمنٹ میں پڑھانا شروع کیا تھا ، سالوں درس و تدریس سے وابستہ رہنے والی یہ متحرک شخصیت بھی بطور سفیر نہایت موزوں ہوتی ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عاصم خواجہ جو کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے جان ایف کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ میں پڑھا رہے ہیں ، وہ پہلے پاکستانی ہیں جو وہاں پڑھا رہے ہیں ، اسی طرح کئی پاکستانی ہیں جو ملک سے باہر تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں ، ان میں سے کسی ایک کو نالج سٹی کا سفیر بنادیا جاتا ۔ ڈاکٹر عطا الرحمان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، وہ ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز ، تمغہ امتیاز ، یونیسکو پرائز حاصل کرچکے ہیں ۔ جنوبی ایشیا میں وہ آگینک کیمسٹری کے ماہر تصور کئے جاتے ہیں، اب تک ان کے 1142 مقالے، کتابیں اور تعلیمی مضامین پاکستان اور دنیا بھر میں شائع ہوچکے ہیں۔ وہ ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چئیرمین بھی رہ چکے ہیں ۔ ان کا وسیع تجربہ اور علمی فیلڈ میں مہارت انہیں سفیر کی پوسٹ کیلئے موزوں انتخاب بناتی ہے ۔ لیکن ان کی طرف بھی کسی حکومتی شخصیت کا دھیان نہیں گیا ۔
 
 
اسی طرح انور مقصور، حسینہ معین اور ان جیسے ہی بہترین لکھاری یا ادیبوں میں سے کسی کا چنائو کرلیا جاتا۔ لیکن ان تمام کو چھوڑ کر ایک شوبز شخصیت کا بطور سفیر اس کام کیلئے منتخب کیا جانا سمجھ سے باہر ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
25 Oct, 2020 Views: 1127

Comments

آپ کی رائے