الجھنیں، تنازعے اور عدم استحکام

گزشتہ برس لاہور میں دو ایسے واقعات ہوئے جن کا بہ ظاہر ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں تھا، مگر درحقیقت ان کا گہرا تعلق تھا۔ پہلا واقعہ پنجابی طالبان کا گیارہویں صدی کے بزرگ اولیاءداتا گنج بخش ہجویری کے مزار پر حملہ تھا جس کے نتیجے میں پی ایم ایل این کی پنجاب حکومت کے خلاف فرقہ پرست دہشت گردوں سے نرمی اختیار کرنے پر عوام میں غیض و غضب اور غصہ پیدا ہوا۔ شہباز شریف حکومت طویل عرصہ سے زندگی کی اس حقیقت سے انکار کررہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے میڈیا کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے الٹا وفاقی حکومت اور ملٹری ایجنسیوں پر دہشت گردوں سے متعلقہ معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس کے نتیجے میں کسی کی بھی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کوئی قابلِ ذکر کاروائی کیے بغیر ایک دوسرے کے خلاف الفاظ کی جنگ چھِڑ گئی، اس صورتِ حال کے باعث دہشت گردی کا مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔ جب کہ دہشت گردوں نے اپنے فرقہ وارانہ مطالبات منوانے کے لیے ریاست اور معاشرے پر اپنا دباؤ بڑھا دیا ہے۔

دوسرا واقعہ پنجاب میں تمام پارٹیوں کی جانب سے اتفاقِ رائے کے ساتھ میڈیا کے خلاف ایک بے مثال قرارداد کی منظوری ہے جس نے جمہوریت کی بقا کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے اس شکایت کا سبب ان کی جانب سے اپنی تعلیمی اہلیت کے بارے میں غلط بیانی کر کے اسمبلیوں میں پہنچنا ہے۔ جب سے سپریم کورٹ نے 1180 کے لگ بھگ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ڈگریوں کی رسمی تصدیق کا حکم جاری کیا ہے، 50 سے زائد فراڈ کرنے والوں کی شناخت ہوچکی ہے، ان میں سے نصف اپنی نشستوں سے مستعفی ہوچکے ہیں، جب کہ دیگر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے روبرو جھوٹ بولنے پر تین سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ نصف سے زائد پارلیمانی بدمعاشوں کا تعلق پی ایم ایل این سے ہے جو کہ بیشتر پنجاب سے متنخب ہوئے، جب کہ پی پی پی اور پی ایم ایل کیو کا حصہ مشترکہ طور پر نصف ہے۔ بلوچستان سے کئی آزاد قبائلی لیڈرز اور صوبہ خیبر پختونخواہ سے بھی کئی ارکان بھی رسوائی کی اس فہرست میں شامل ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک 100 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کو تعزیزی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے مطابق ذاتی اور گروپ اتحاد کے اس شو کے پسِ پُشت مزید اہم وجوہات موجود ہیں۔ انتہائی نفاست سے متوازن وفاقی اور صوبائی اتحادی حکومتیں اتحاد کی ریاضی میں کسی تبدیلی سے انتہائی عدم استحکام کی شکار ہوسکتی ہیں۔ پارٹی وفاداریوں کے نقصان کی صورتِ حال میں اتحادی پارٹنر مزید وزارتوں کے لیے حکمران پی پی پی پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، اس کے نتیجے مس گورننس، جب کہ پارٹی اور سیاسی سسٹم سے عوام کے فاصلے بڑھ جائیں گے۔ یہی کچھ صوبہ پنجاب کے معاملے میں سچ ہے، جہاں پی ایم ایل این حکومت پی پی پی کے دباؤ سے بچاؤ کے لیے پی ایم ایل کیو کے باغی ارکان پر مشتمل ایک فارورڈ بلاک پر انحصار کرتی ہے۔ اگر پی پی پی کے ایک درجن ارکان سندھ اسمبلی اپنی نشستیں کھو بیٹھیں تو ایم کیو ایم بھی اتحاد میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے کہے گی۔ بلوچستان میں حکومت ختم ہوجانے کے خدشات ہیں، کیوں کہ اُس کے ارکان کی ایک بڑی تعداد بی اے کی ڈگری کے معاملے پر نااہل ہوچکی ہے۔ تاہم کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کرسکتا کہ 100 سے زائد حلقوں میں ضمنی انتخابات کا نتیجہ کیا ہوگا اور وہ پارٹیوں اور حکومت کی قسمت پر کس طرح اثرانداز ہوں گے۔ اس کے برعکس کافی عرصہ قبل مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ اس لیے مسترد کردیا گیا تھا کہ انتخابات میں شکست خوردہ عناصر بہ شمول عمران خان اور جماعتِ اسلامی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ تاہم اب یہ مطالبہ زیادہ واضح طور پر سنا جائے گا۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ میڈیا مستقل طور پر اپنی توجہ ہمارے اوپر مرکوز کیے ہوئے ہے، وہ جنرلز اور ججز کی جانب نہیں دیکھتا جو کہ جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے کے لیے سازشیں کررہے ہیں۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مستقبل میں الیکشن میں حصہ لینے کی شرط 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کردی گئی ہے، جو کہ دو ماہ قبل ہی تمام پارٹیوں نے اتفاقِ رائے سے منظور کی۔ اس لیے اس امر کی ضرورت نہیں ہے کہ قبل ازیں کچھ کرنے کے لیے کوئی ڈیل کی جائے۔ پاکستان میں جنرلز، ججز اور میڈیا پر مشتمل ”اقتدار کی نئی ٹرائیکا“ کے اتحاد کی مسلسل افواہیں اور سازشی تھیوریز بھی گشت کررہی ہیں۔ اس کے مطابق ٹرائیکا موجودہ ناکام سسٹم کا خاتمہ کر کے ٹیکنوکریٹس کی ایک قومی حکامت قائم کرے گا تاکہ اگلے چند برسوں میں ملک کو درست سمت میں گامزن کیا جاسکے۔ ان افواہوں پر پارلیمنٹرینز کی تشویش کا جواز موجود ہے۔

لاہور میں پیش آنے والے ان دو واقعات کو اسی تناظر میں دیکھا جائے۔ پنجاب حکومت جمہوریت کو درپیش خطرات کی بحث کو دوسری طرف منتقل کرتے ہوئے دہشت گردی کے پرانے معاملے سے ایک طرف ہٹ گئی۔ یہ اسلام آباد میں پی پی پی کی سوچ سے مماثل ہے کہ ججز اور جنرلز حکومت کے لیے دہشت گردی سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں۔

مزید کچھ عرصہ کے دوران یہ یقین کرسکتے ہیں کہ دہشت گردی کے مزید واقعات پیش آئیں گے، اسی طرح پارلیمنٹ سے مزید ارکان نااہل قرار دیے جائیں گے۔ دریں اثناءسپریم کورٹ کے ججز جو کہ انتہائی جارحانہ موڈ میں ہیں، وہ 18ویں ترمیم کے عناصر کو ناموزوں کرسکتے ہیں، جس کے تحت عدلیہ میں تقرریوں پر پارلیمانی کنٹرول کی خواہش کی گئی تھی۔ جب کہ وہ صدر زرداری کو کسی ایک یا دوسرے معاملے میں کرسی سے اتار سکتے ہیں۔ بہرکیف مزید الجھنوں، تنازعوں اور عدم استحکام کے لیے اسٹیج لگایا جاچکا ہے۔
syed yousuf ali
About the Author: syed yousuf ali Read More Articles by syed yousuf ali: 94 Articles with 81363 views I am a journalist having over three decades experience in the field.have been translated and written over 3000 articles, also translated more then 300.. View More