ناسا چاند سے پتھر اکٹھے کرنے والی کمپنی کو صرف ایک ڈالر معاوضہ ادا کرے گا

 
خلائی تحقیقاتی ادارہ ناسا چاند کی چٹانوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اکھٹا کرنے کے لیے امریکی ریاست کولوراڈو کی ایک کمپنی کو ایک ڈالر معاوضہ دے گا۔
 
لونر آؤٹ پوسٹ نامی کمپنی ان چار کمپنیوں میں سے ایک ہے جسے چاند کی مٹی، چاند پر موجود ٹھوس اور بھربھرے مادے کو اکھٹا کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ امریکی خلائی ادارہ اس مد میں تمام کمپنیوں کو کل 25001 ڈالرز ادا کرے گا۔
 
ناسا اس مٹی کو اپنے آرٹیزم پروگرام کے لیے استعمال کرے گی جس کا مقصد سنہ 2024 تک ایک اور مرد اور عورت کو چاند پر بھجوانا ہے۔
 
ناسا کی یہ بھی کوشش ہے کہ وہ زمین سے باہر موجود وسائل کو نکالنے ان کی فروخت کے لیے بزنس ماڈل بھی تیار کرے۔
 
ناسا کی بولی میں دیگر کامیاب ہونے والی کمپنیوں میں کیلی فورنیا میں واقع میسٹن سپیس سسٹم ، ٹوکیو کی آئی سپیس کمپنی اور اس کی یورپ میں ذیلی کمپنی شامل ہیں۔
 
ناسا ان کمپنیوں کو انفرادی طور پر چاند سے مواد کھٹنا کرنے کے لیے معاوضہ دے گی یہ مواد 50 گرام سے 500 گرام کے درمیان ہو گا۔ ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں چاند کی چٹانوں کے نمونے اکھٹے کریں گی اور پھر ہمیں اس عمل کے تصویری شواہد اور دیگر ڈیٹا پیش کریں گیں۔
 
ان کا کہنا ہے جب ایسا ہو جائے گا تو مواد کی ملکیت ناسا کو منتقل ہو جائے گی۔
 
ترجمان کا کہنا تھا کہ 'ابھی بہت کم فنڈنگ دی جا رہی ہے کیونکہ ناسا ابھی فقط مواد اکھٹا کرنے کے لیے ادائیگی کر رہا ہے یہ کسی کمپنی کی ڈویلپمنٹ یا ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے لیے پیسے نہیں دے رہا۔'
 
 
کولوراڈو سے تعلق رکھنے والی روبوٹک فرم جس کا چاند پر سٹیشن موجود ہے وہ چاند کے جنوبی حصے سے چٹانوں کے ٹکڑے اکھٹے کرے گی۔
 
کمپنی کے سی ای او جسٹن سائرس نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اس مشن کو 2023 میں بھیجنے کا منصوبہ ہے لیکن ہم مختلف کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں یہ منصوبہ قبل از وقت بھی شروع ہو سکتا ہے۔
 
ان کمپنیوں کو فیس کا لالچ نہیں ہے۔ اس مشن سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے بہت سے سائنسی فوائد ہوں گے مثلاً چاند کی سطح سے مختلف ذخائر کو نکالنے کے لیے کمپنیوں کو اجازت دینا۔
 
مسٹر سائرس نے اسے خلائی تحقیق کے بارے معاشرتی سوچ میں ایک انقلابی فکر قرار دیا ہے۔
 
ان کا کہنا ہے کہ ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی قائم کردہ خلائی تحقیق کی کمپنی بلو اوریجن کے ساتھ اس سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔ واضح رہے کہ دیگر بہت سی کمپنیاں ان کے ساتھ چاند پر پروازوں کے لیے شیڈول بنا رہی ہیں۔
 
بولی جیتنے والی ایک اور جاپانی کمپنی آئی سپین کو سنہ 2022 میں چاند کے شمال مشرقی حصے سے مواد اکھٹا کرنے کے پانچ ہزار ڈالرز ملیں گے۔
 
یہ کام پیسوں کے لیے نہیں ہے
خلائی ماہر سلیوین کا کہنا ہے کہ ناسا کی جانب سے بہت معمولی رقم حتیٰ کہ ایک ڈالر بھی کی روایت رکھنا بہت اہم ہے۔ '
 
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہاں یہ جدت پیسوں کے لیے نہیں ہے بلکہ زمینی حدود سے باہر ایک قانونی اور کاروباری ماڈل کا قیام کرنا ہے۔'
 
ان کمپنیوں کو معاوضہ تین مراحل میں دیا جائے گا۔ اس کام کے اجرا پر دس فیصد معاوضہ ملے گا، دس فیصد کمپنی کے خلا میں لانچ پر دیا جائے گا۔ جبکہ 80 فیصد معاوضہ تب ملے گا جب ناسا، کمپنی کی جانب سے اکھٹے کیے جانے والے مواد کی تصدیق کرے گا۔
 
جمعرات کو خلائی ایجنسی کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین بھی چاند کے نمونہ جمع کرنے کا اپنا مشن انجام دے رہا ہے۔ چینی روبوٹک خلائی گاڑی چینگ فائیو اس وقت چاند سے نمونے لے کر زمین پر واپس آ رہی ہے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
05 Dec, 2020 Views: 1631

Comments

آپ کی رائے