جنگ بندی لائن کے آر پار آبادی بھارتی جارحیت کا شکار

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 آزاد کشمیر کی آبادی گزشتہ 30سال سے بھارتی جارحانہ گولہ باری،فائرنگ، کلسٹراور کھلونہ بموں کی زد میں ہے، اس پار مقبوضہ کشمیر کی سرحدی آبادی بھی بھارتی فوج کی بچھائی ہزاروں بارودی سرنگوں اور تاربندی کی وجہ سے مصائب بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مجاہدین کی دراندازی پر قابو پانے کی آڑ میں قابض بھارتی فوج نے تار بندی کی۔ہزاروں کی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔بھارتی فوج کی بچھائی بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے سیکڑوں معصوم لوگ لقمہ اجل اور معذور بن چکے ہیں۔ اڑھائی لاکھ کنال اراضی اور ہزاروں رہائشی مکانات تار بندی کے اندر آ گئے۔مگر بھارت نے آج تک اراضی اور مکان مالکان کو کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیا۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا مقبوضہ ضلع پونچھ ہے جہاں ایک لاکھ43ہزار643کنال اراضی بھارتی تار بندی کی وجہ سے حصار بند ہوکر رہ گئی ہے اور نتیجتاًیہ اراضی بنجر بن چکی ہے۔جموں خطے کے کٹھوعہ سے لیکر کپواڑہ اور اوڑی سے لیکر پونچھ تک پھیلی 750کلو میٹر کی جنگ بندی لائن حقیقی معنوں میں انسانی آبادی کیلئے وبال جان بن چکی ہے کیونکہ جہاں حد متارکہ پر لگی باڑ بندی کی وجہ سے لاکھوں کنال زرعی و غیر زرعی اراضی اس باڑ بندی کی زد میں آکر لوگوں کی دسترس سے باہر ہوچکی ہے وہیں ہزاروں مکانات بھی ایسے ہیں جو اس کی زد میں آچکے ہیں اور ان مکانوں میں رہنے والے لوگوں نے یا تو انہیں خالی کردیا ہے یا اگر کوئی ان میں رہائش پذیر بھی ہے تو ان کی زندگی اجیرن بن چکی ہے کیونکہ وہ ہمہ وقت محصور رہتے ہیں۔تار بندی کے اُس پار قائم ان مکانوں کیلئے واحد راستہ قابض بھارتی فوج کی جانب سے تعمیر کئے گئے وہ مرکزی آہنی دروازے ہیں جو شام ہونے سے قبل ہی بندکر دیئے جاتے ہیں اور صبح 9بجے کے بعد ہی کھلتے ہیں۔

بھارتی مظالم پر کوئی آواز بلند نہیں کرتا۔ انسانی حقوق والے اور سول سوسائٹی سب خاموش ہیں۔ کانگریس حکومت کے دور میں بھارتی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر وزارت داخلہ نے ایک تجویز طلب کی تھی تاکہ بھارتی قبضے کے ان علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو معاضہ جات دیئے جائیں اورانہیں محفوط پناگاہیں فراہم کی جائیں۔ مقبوضہ کشمیرکی سابق قانون ساز کونسل میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی تھی۔ 2013میں اعلان بھی کیا گیاکہ تا ر بندی کی زد میں آنے والے لوگوں اوسیز فائر لائن کے انتہائی قریب رہائش پذیر عوام کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیاجائے گا جہاں انہیں5مرلہ اراضی کے پلاٹ فراہم کئے جائیں گے تاکہ گولہ باری کے وقت انسانی جان و مال کے ضیاں کو روکا جاسکے تاہم بعد ازاں کہا گیا کہ الگ الگ اراضی فراہم کرنے کے بجائے یہاں کی آبادی کو اپنے ہی علاقوں میں مشترکہ پناہ گاہیں فراہم کی جائیں۔ جس سے سرحدی آبادی بھی منتقل نہ ہو اور ہنگامی حالات کے وقت وہ اپنے آپ کو بچابھی سکیں۔ بعد ازاں20ہزارکیمونٹی بنکر تعمیر کرانے کا اعلان کیا گیاجس پر1006کروڑ25لاکھ روپے خرچہ آنے کا تخمینہ لگایا گیا۔بھارت جنگ بندی لائن کے علاقوں میں اس وقت یہ بنکر مختلف اضلاع میں تعمیر کر رہا ہے۔مگر جنگ بندء لائن کی آبادی آئے روز بھارت کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے ۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سرحدی آبادی کو کمیو نٹی بنکروں میں بسانا اس سنگین مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔ یہ لوگ جن علاقوں میں رہائش پذیر ہیں،وہ ہر وقت گولہ باری کی زد میں رہتے ہیں۔

سارے علاقے بھارتی فوج کی جانب سے زیر مین بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی لپیٹ میں ہیں۔ آج تک سینکڑوں لوگ ان بارودی سرنگوں کی زد میں آکر یا تو لقمہ اجل بن گئے یا پھرہمیشہ کیلئے اپاہج بن کر رہ گئے۔ جنگ بندی لائن پر شہری آبادی کے سروں پر موت ہر وقت لٹکتی رہتی ہے اور ایک معمولی سی سہو یا چھوٹی سی غلطی ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔سرحدی آبادی کے مسائل و مشکلات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت نے اول تو انہیں ان کی ملکیتی اراضی سے محروم کر دیا ہے اور وہ کھیتی باڑی سے ہاتھ دھو بیٹھے،دوم، انہیں اس اراضی کا کوئی معاوضہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ایسے میں یہ لوگ جائیں تو کہاں جائیں؟۔یہ ایک عمومی صورتحال نہیں بلکہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کا کسی کے پاس کوئی حل نہیں۔دنیا کے دیگر ممالک میں بارودی سرنگیں بچھانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور سنگین جرم ہے مگر بھارت کو عوام کو قتل کرنے کی آزادی ملی ہوئی ہے۔عمرا ن خان حکومت کو اگر فرصت ملے تووہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بارودی سرنگوں، جنگ بندی لائن پر غیر قانونی تاربندی، گولہ باری کے شکار کشمیریوں کا یہ مسلہ بھی دنیا کو بتائیں۔ سرحدی آبادی کو بارودی سرنگوں اور تار بندی سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ اُ نہیں اُس اراضی کا معاوضہ بھی فراہم کیاجانا چاہئے جو تار بندی کی زد میں آچکی ہے۔انہیں بھارتی زیر زمین بارودی سرنگوں سے بچانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں موت کا نوالہ بننے سے بچ جائیں۔حکومت جتنی جلدی اس انسانی مسئلہ کی جانب توجہ دے،اتنا ہی بہتر رہے گا اور جتنا اس میں تاخیر کی جائے گی،اتنے ہی اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہونگے کیونکہ پاک بھارت تعلقات کے بارے میں کبھی کچھ وثوق کے ساتھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔یہ پل میں تولہ اور پل میں ماشہ بن جاتے ہیں ۔بھارتی ہٹ دھرمی اور مسلم کش پالیسی کے باعث کشیدگی اگر اسی طرح بڑھتی رہی تو اس کا خمیازہ سب سے پہلے سرحدی آبادی کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220672 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
21 Dec, 2020 Views: 271

Comments

آپ کی رائے